Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

جنابِ صادِق و امین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ”اَمِیْنُ الْاُمَّۃ ( یعنی اُمَّت کے امانت دار )  کاپیارا لقب عطا فرمایا ہے ۔   ( [1] )  اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کے دورِ خِلافت میں یہ اسلامی لشکر کے سِپہ سالار تھے حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی مُشاوَرَت سے حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی جگہ حضرتِ سیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو سِپہ سالار مُقَرَّر فرما دیا ۔  جب یہ خبر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو پہنچی تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے خود اپنی معزولی اور حضرتِ سیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی تَقَرُّری کی خبر مُسلمانوں کو سُنائی ۔ ( [2] )  

اسیطرح حضرتِ سَیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جنہیں سَرکارِ عالی وَقار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ”سَیْفُ اللہ“ کا لَقب عطا فرمایا ہے ۔ اس شِدَّت سے جنگ لڑتے کہ مَدِّمُقابِل دُشمن کو اپنی شِکَست نظر آنے لگتی ۔ ”اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عُمر  فاروقِ اَعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے اپنے دورِ خِلافت میں جب ان  کی جگہ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو شام کا سِپہ سالار مُقَرَّر فرمایا تو اس نئی تَقَرُّری کا یہ مکتوب دَورانِ جنگ مَوصُول ہوا تھا ، حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  نے حِکمتِ عملی کا مُظاہَرہ کرتے ہوئے اسے ظاہِر نہیں فرمایا ، جب جنگ ختم ہوئی تو حضرتِ سَیِّدُنا خالِد بِن وَلِید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو اپنی مَعزولی اور حضرتِ سیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی تَقَرُّری کا عِلم ہوا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  بخوشی ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : آپ نے مجھے اس کی اِطّلاع کیوں نہ دی ، عُہدہ آپ کے پاس تھا اس کے باوجودا ٓپ میرے پیچھے نماز پڑھتے رہے !“ ( [3] )  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی کیسی مدنی سوچ ہوا کرتی تھی کہ اگر ان سے عُہدہ واپس لیا جاتا تو بخوشی اس سے سَبُکدوش ہو کر اِطاعت و فرمانبرداری کا اِظہار کرتے ۔  اللہ عَزَّوَجَلَّ  ان مُقَدَّس ہستیوں کے صَدقے ہمارے اَعمال میں اِخلاص پیدا فرمائے  اور ہمیں  ان کے نَقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم

چوروں اور شرابیوں کے بائیکاٹ کاحکم

سُوال : اگر کوئی شخص  چوری کرتے  یا شراب پیتے ہوئے پکڑا جائے  تو  اُسے سزا دینے کا اِختیار کس کو ہے ؟ نیز عام  آدمی کے لیے کیا حکم ہے ؟

جواب : اگر کسی شخص کو چوری کرتے ، شراب پیتے یا کسی بھی  گناہ میں مبتلا دیکھیں تو”اَمْرٌ  بِالْمَعْرُوْف وَنَہْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی نیکی کا حکم کرنے اور بُرائی سے منع کرنے “  کے فریضے کو ادا کرتے ہوئے اپنی اِستطاعت کے مُطابِق اُسے  روکنے کی کوشش کیجیے ۔ اگر  ہاتھ یا زبان سے  روکنے کی  اِستطاعت نہ ہو تو کم از کم  دل میں اس فعل کو ضَرور بُرا جانیے ۔ خَلق کے رہبر، شافعِ محشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی کسی بُرائی کو دیکھے تو  اُسے چاہیے کہ اُس  بُرائی کو اپنے ہاتھ سے بَدل دے اور جو اپنے ہاتھ سے بدلنے کی اِستِطاعت  ( یعنی قوت )  نہ رکھے  اُسے چاہیے کہ اپنی زَبان سے بدل دے اور جو اپنی زَبان سے بدلنے کی بھی



[1]    الاصابة، حرف العین المھملة، عامر بن عبداللّٰہ بن الجراح ، ۳ / ۴۷۵ دار الکتب العلمیة  بیروت 

[2]    فُتُوحُ الشّام، ۱ / ۲۲ تا ۲۴ ملخصاً  دار الکتب العلمية  بیروت 

[3]    الریاض النضرة، الفصل الثامن ، ۲ / ۳۵۳  ملخصاً  دار الکتب العلمية  بیروت



Total Pages: 18

Go To