Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

بھی اس کی مادری زبان نہ پہچان سکا ۔ ایک اَدیب نے بادشاہ سے کہا : ” مجھے تین دن کی مہلت دیجیے میں اس کی مادری زبان معلوم کر لوں گا ۔ “ چنانچہ اسے تین دن کی مہلت دے دی گئی ۔ دو دن تک تو اسے اپنا مَقصُود حاصل نہ ہو سکا ۔ اِتفاقاً تیسرے دن پروفیسر صاحب چھت سے سیڑھیوں کے ذَریعے نیچے اُتر رہے تھے کہ وہ شخص تیزی سے نیچے کی طرف اُترتے ہوئے اس پروفیسر سے جا ٹکرایا ۔ پروفیسر اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے  نیچے جا گرا اور دَھکا دینے والے کو بُرا بھلا کہنے لگا ۔  جواب میں اس اَدِیب نے مُسکراتے  ہوئے کہا : ”پروفیسر صاحب !میں نے آپ کی مادری زبان پہچان لی ہے ۔  جس زبان میں آپ بُرا بَھلا کہہ رہے ہیں یہی آپ کی مادری زبان ہے ۔ “ پروفیسر صاحب نے سَر جُھکاتے ہوئے اِقرار کر لیا کہ  واقعی یہ میری مادری زبان ہے  ۔ اس کے بعد دونوں بادشاہ کے پاس حاضر ہوئے ۔  اس شخص نے پروفیسر سے مُعافی مانگتے ہوئے کہا : میں دو دن تک آپ کی مادری زبان معلوم کرنے سے قاصِر رہا، تیسرے دن میرے ذہن میں آیا کہ جب کسی کو دَھکّا لگتا ہے تو اس وقت اس  کے اندر کا حال  ظاہِر ہوتا ہے جس کے لیے مجھے یہ صُورَت اِختیار کرنی پڑی ۔  

رضائے الٰہی کے لیے مدنی کام کیجیے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے جب تک اس پروفیسر کو دَھکا نہیں  لگا تو اس وقت تک اس کا راز ظاہر نہیں  ہوا لیکن جیسے ہی دَھکا لگا تو اس کے اندر کا راز بھی  ظاہر ہو گیا ۔  اسی طرح بعض ذِمَّہ داران ایسے ہوتے ہیں  جب تک مَدَنی مَرکز ان  کی پیٹھ تھپکتا رہے ، ان کی ذِمَّہ داری بحال رہے تو وہ  مَدَنی مَرکز کے فرمانبردار رہتے ہوئے مدنی کام  کرتے رہتے ہیں مگر جُوں ہی ذِمَّہ داری ختم ہوئی تو اب شِکوہ و شِکایت کرتے ہوئے مُخالَفت پر اُتر آتے اور اپنے کارنامے بیان کرنے لگتے ہیں کہ مجھے بِلا وَجہ ذِمَّہ داری سے ہٹا دیا گیا ہے ، میں تو اِتنا کام کرتا تھا، اِتنے دَرس دیتا تھا ، میں نے اتنے مدنی قافلوں میں سفر کیا ہے ، میں نے اس سال اتنی کھالیں اور اتنا فِطرہ جمع کیا ہے ، فُلاں ذِمَّہ دار میرے بیان سے مُتأثر ہو کر مدنی ماحول میں آیا تھا، فُلاں علاقے میں میں نے مدنی کام شروع کیا تھا ۔  اب اسی پر بس نہیں بلکہ اپنے ذِمَّہ داران اور مجالس کے خِلاف باتیں کرنے لگتے ہیں ۔ اگر آپ یہ کام رضائے الٰہی کے لیے کرتے تھے تو عُہدے کے بغیر بھی یہ کام کیے جا سکتے ہیں لہٰذا نفس و شیطان کے اس وار کو ناکام بناتے ہوئے عُہدے کے حُصُول کے لیے نہیں بلکہ محض اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا کے لیے مدنی کام کیجیے ۔  اگر کسی سے کوئی ذِمَّہ داری وغیرہ واپس لی جائے تب بھی اسے وفاداری کے ساتھ دعوتِ اسلامی  کا مدنی کام کرتے رہناچاہیے ۔    

بنا دے مجھے ایک دَر کا بنا دے

                              میں ہر دَم رہوں باوفا یاالٰہی  ( وسائلِ بخشش )

عُہدہ واپس لیے جانے پر صحابۂ کرام  کا طرزِ عمل

سُوال : عُہدہ واپس لیے جانے پر صحابۂ  کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا  کیا طرزِ عمل ہوا کرتا تھا؟

جواب : ہمارے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے پیشِ نظر ہر وقت اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رضا ہوتی، وہ جو کام بھی کرتے محض رضائے الٰہی کے لیے کرتے ، دُنیوی شہرت اور عُہدے وغیرہ کا حُصُول ان کا مقصد ہرگز نہ ہوتا تھا، یہی وجہ ہے کہ اگر ان سے عُہدہ واپس لیا جاتا تو وہ بخوشی اس پر راضی ہو جاتے چنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو عُبَیْدَہ بِن جَرَّاح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو کہ”عَشرۂ مُبَشَّرہ“میں سے ہیں ان کو خَاتَمُ النَّبِیِّیْن ،



Total Pages: 18

Go To