Book Name:Sulah Karwaney Ke Fazail (Q-29)

سُوال :  کیسا ذِمَّہ دار اچھا اور ہر دِلعزیز ہوتا ہے ؟

جواب :  ( شیخِ طریقت، اَمیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :  ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں دعوتِ اسلامی والا ہوں اور دعوتِ اسلامی کا مدنی ماحول گویا کہ میرا  مدنی کاموں کا کاروبار ہے ۔  ذِمَّہ داران ومُبلغین اسلامی بھائی  میرے سیلزمین ہیں ۔  ہر دُکان دار کو  وہی سیلزمین اچھا لگتا ہے جو قابِل ، محنتی، مُخلِص اور زیادہ کما کر دینے والا ہو ۔  والدین بھی اسی بیٹے سے زیادہ محبت کرتے ہیں جو زیادہ کما کر لاتا ہے ۔  اِسی طرح مجھے بھی وہ  ذِمَّہ دار سب سے زیادہ عزیز اور پیارا ہے جو نیک و پرہیزگار، خوفِ خدا وعشقِ مصطفے ٰ عَزَّ وَجَلَّ وَ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں رونے والا، سُنَّتوں پر عمل کرنے والا اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کے لیے اَنتھک کوششیں کرنے والا ہو ۔  روزانہ فکرِ مدینہ کے ذَریعے مدنی اِنعامات کا رِسالہ پُر کر کے ہر مدنی ماہ کی پہلی تاریخ اپنے ذِمَّہ دار کو جمع کرواتا ہو نیز ہر ماہ خود بھی پابندی کے ساتھ مدنی قافِلوں میں سفر کرنے والا اور اِنفرادی کوشش کے ذَریعے دوسروں کو بھی مدنی قافِلوں کا مُسافِر بنانے والا ہو ۔  نیز سب کے ساتھ یکساں تَعَلُّقات رکھنے ، وقت دینے ، حُسنِ اَخلاق سے پیش آنے اور اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں پر نَرمی و شَفقت کا بَرتاؤ کرنے والا ہو کہ ایسا ذِمَّہ دار ہر دِلعزیز ہوتا ہے ۔  جو ذِمَّہ دار بَدخُلق، غُصیلہ، تُند مزاج، سمجھانے پر اُلجھنے والا، حُبِّ جاہ کا مریض اور دعوتِ اسلامی کی مجالس کی مُخالفت کرنے والا ہو تو ایسے ذِمَّہ دار سے   میں بھی بیزار، میری شوریٰ اور کابینہ بھی بیزار بلکہ جس اسلامی بھائی کا بھی  اس سے واسطہ پڑتا ہو گا وہ بھی  اس سے  بیزار ہوتا ہو گا ۔  ذِمَّہ داران کو اِنتہائی حِکمتِ عملی اپنانے کی ضَرورت ہے ، نہ تو اتنے بھولے بھالے ہوں کہ  ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں ان کی کوئی قدر و اَہمیت  ہی نہ ہو اور نہ ہی اتنے سخت ہوں کہ اسلامی بھائی ان سے دُور ہو جائیں ۔ مشہور مقولہ ہے کہ”نہ اتنے میٹھے بنو کہ لوگ تمہیں ہڑپ کر جائیں اور نہ ہی اتنے کڑوے بنو کہ لوگ تمہیں تھوک دیں ۔ “

ہو اَخلاق اچھا ہو کِردار ستھرا

                                             مجھے متقی تو بنا یاالٰہی ( وسائلِ بخشش )

محبت اِطاعت کرواتی ہے

سُوال :  ذِمَّہ دار کا اِس طرح کہتے پھرنا کہ” میری اِطاعت نہیں کی جاتی “ کیسا ہے ؟

جواب : ذِمَّہ دار کا اِس طرح کی باتیں کرنا گویا اپنی حَماقَت کا اِعلان کرنا ہے ۔  اِس طرح کی باتیں کرنے سے پہلے ذِمَّہ دار کو ماتحت اسلامی بھائیوں کے اِطاعت نہ کرنے کے اَسباب اور اپنی کمزوریوں  پر غور کرنا چاہیے کہ  وہ اس کی اِطاعت کیوں نہیں کرتے ۔  اگر وہ بات بات پر اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں پر غُصّے کا اِظہار کرتا، جھاڑتا ، ذاتی دوستیاں کرتا ، ماتحت اسلامی بھائیوں کے دُکھ دَرد اور غَمی خُوشی کے مَواقع پر شِرکت نہ  کرتا ، دوسروں کو مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافِلوں میں سفر کی دعوت دیتا اور خُود جی چُراتا ہو گا تو ایسی صورتِ حال میں ماتحت اسلامی بھائیوں کے دِلوں میں اس کی محبت کیسے پیدا ہو گی اور وہ اس کی اِطاعت کیسے   کریں گے ؟ کیونکہ محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جو اِطاعت کرنے پر مجبور کرتی ہے ۔  ”میری اِطاعت کرو ، میری اِطاعت کرو“ کہنے سے کوئی بھی اِطاعت نہیں کرتا ۔  اِطاعت کروانے کے لیے اَخلاقِ حَسَنَہ اور اَوصافِ حَمِیدہ  کا پیکر بن کر اپنے کِردار کو سُتھرا کرنا ہو گا تاکہ ہر ماتحت اسلامی بھائی کا دِل اِطاعت کی طرف مائِل ہو جائے ۔  دیکھیے !اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  کی اِطاعت کا حکم دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا :

 



Total Pages: 18

Go To