Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

عظیم مَدَنی  کام کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔

اللہ  اس سے پہلے اِیماں پہ موت دیدے

نقصاں مِرے سبب سے ہو سُنَّتِ نبی کا ( وسائلِ بخشش )

اگر کوئی اپنا غیرمسلم ہونا ظاہر کرے تو کیا کرنا چاہیے ؟

سُوال : بعض اوقات مَدَنی قافلے میں اِنفرادی کوشش یا نیکی کی دعوت دینے کے بعد سامنے والا کہہ دیتا ہے کہ میں غیر مُسلِم ہوں ۔ اُس وقت ہمارا مبلغ خاموش ہو جاتا ہے ۔ اُس وقت مبلغ کو کیا کرنا چاہیے ؟

جواب : غیرمُسلِم کو اِسلام کی دَعوت دینا ہر ایک کا کام نہیں لہٰذا  اِنفرادی کوشش یا نیکی کی دعوت دینے کے دَوران اگر کوئی اپنے غیر مُسلِم ( یہودی ، عیسائی  اور ہندو وغیرہ )  ہونے  کا اِظہار کرے تو  مبلغ کو چاہیے کہ ہِمَّت کر کے نَرمی کے ساتھ اتنا کہہ دے کہ ہم آپ کو اِسلام کی دَعوت پیش کرتے ہیں آپ اِسلام قبول کر  لیجیے ۔ اگر وہ کہے کہ میں مُسلمان ہو جاؤں تو مجھے کیا ملے گا؟ تو کہہ دیجیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رَحمت سے جنَّت ملے گی ۔ اب اگر وہ کہے کہ میں مُسلمان ہونا چاہتا ہوں تو فوراً  اسے پہلے والے مذہب سے توبہ کروا کر کلمہ پڑھا دیجیے ۔ کسی عالِمِ دِین ، پیر صاحب یا اِمام مسجد کے پاس جانے کے  اِنتظار میں ہرگز ہرگز تاخیر مَت کیجیے ۔   

ہاں! اگر وہ  خُود کہے  کہ مجھے عالِمِ دِین کے پاس لے چلو ، میں اِسلام قبول کر لوں گا تو اب چُونکہ مُطالَبہ غیر مُسلِم کی طرف سے ہے لہٰذا کسی عالِمِ دِین کے پاس لے جاتے  ہوئے تاخیر کی صورت میں لے جانے والا گناہ گار نہ ہو گا بلکہ ثواب کا حق دار ہو گا ۔ کلمہ  پڑھا لینے کے بعد اس کو آزاد نہ چھوڑ دیں بلکہ اس کو  ضَروریاتِ دِین کے بارے میں بتائیں  یا پھر کسی سُنّی عالِمِ دِین کے پاس لے کر جائیں جو اس کو دِینِ اِسلام کی بُنیادی باتیں سکھائے ۔ دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والا New muslim course بھی کروایا جا سکتا ہے ۔ آپ خُود اس سے رابطے میں رہیں یا اُس کو کسی اور کے حوالے کر دیں جو اس سے رابطہ رکھے تاکہ وہ شیطان کے بہکاوے سے بچ کر دِینِ اِسلام پر ثابِت قدم رہے ۔ اگر ایسا نہ ہو بلکہ وہ غیر مُسلِم آپ سے دَلائل مانگے یا بَحث و مُباحَثہ کرے اور اپنے کفریہ عَقائد پر دَلائل پیش کرے  تو پھر آپ اس سے بَحث و مُباحَثہ  ہرگز نہ کیجیے بلکہ اس شہر کے کسی ایسے بڑے سُنّی  عالِم دِین کی طرف رہنمائی کر دیں جو اس کے مَذہَب کی مَعلومات رکھتا ہو ، اسے معلوم ہوکہ وہ  کیا کیا اِعتراضات کر سکتا ہے اور ان اِعتراضات کے جوابات کیا  ہیں؟

مَدَنی کام بڑھانے کے لیے مَدَنی قافِلوں میں سفر

سُوال : اگر اپنے علاقے میں مدنی کام نہ ہو تو پہلے اپنے علاقے میں مدنی کام  بڑھائیں یا مدنی قافلوں میں سفر کریں؟ کہا جاتا ہے کہ اگر گھر میں آگ لگی ہو تو پہلے اُسے بجھانا چاہیے ۔  

جواب : گھر میں آگ لگی ہو تو پہلے اُسے بجھانا چاہیے یہ تو دُرُست ہے مگر آگ بجھانے کے لیے اس کا طریقہ بھی آنا چاہیے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آگ بجھانے کے لیے اس میں کُود پڑیں ، آگ بھی نہ بجھے اور خُود بھی جَل کر  مَر جائیں ۔ جس علاقے میں مدنی کام بالکل نہ ہو یا کم ہو تو  اُس علاقے کے اسلامی بھائیوں کو زیادہ سے زیادہ مدنی قافلوں میں سفر کرنا چاہیے ۔ مدنی قافلوں میں سفر کرنے سے مدنی کام خُود بخود بڑھے گا کیونکہ اُس علاقے کے جو اسلا می بھائی مدنی قافلے کے مُسافر بنیں گے تو  وہ مدنی قافلے سے  واپس آ کر اپنے علاقے میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچائیں گے اور اسلامی بھائیوں کو مَدَنی اِنعامات کا عامِل اور مَدَنی قافِلوں کا مُسافِر بنانے کی



Total Pages: 17

Go To