Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

اپنائے جو سَدا کیلئے مدنی اِنعامات

میری دُعا ہے خُلد میں جائے نبی کے ساتھ      ( وسائلِ بخشش )

اَمیرقافلہ کو کیسا ہونا چاہیے ؟

سُوال : امیرِ قافلہ کو کیسا ہونا چاہیے ؟

جواب : امیرِ قافلہ کو نہایت ہی  سنجیدہ ، بااَخلاق ، مَدَنی اِنعامات کا عامِل ، زبان ، آنکھ اور دِیگر اَعضاء کا قُفلِ مدینہ لگانے والا ، اسلامی بھائیوں کا خیر خواہ اور اپنے ماتحتوں کے ساتھ یکساں تَعَلُّقات رکھنے والا ہونا چاہیے ۔ امیرِقافلہ ایسا ہو جو خود تکالیف  اُٹھائے لیکن اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کو راحت پہنچائے ۔ گاڑی میں سُوار  ہوتے وقت پہلے سب کو بااِصرار بٹھائے پھر آخر میں خُود  بیٹھے ، اگر جگہ نہ ملے تو کھڑا ہو جائے ۔ ایسا نہ ہو کہ پہلے سوار ہو کر خُود سیٹ سنبھال لے اور اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کی پَروا ہی نہ کرے ۔ مدنی قافلے کے دَوران اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کی خُوب خُوب خِدمت کرے اور ہر طرح سے ان کو راحت پہنچائے ۔ واپسی میں تمام شُرکائے قافلہ سے اِنفرادی طور پرپاؤں پکڑ کر ( جبکہ کوئی مانعِ شَرعی نہ ہو تو ) مُعافی مانگے ۔ اس طرح شُرکائے مَدَنی قافلہ پر بہت اچھا اثر پڑے گا ۔ ( شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  جب میں مدنی قافلوں میں سفر کرتا تھا تو پہلے شُرکائے قافلہ کو بس میں سُوار کرتا پھر آخر میں خُود سوار ہوتا ۔ اگر بس میں سیٹ نہ ملتی تو اسلامی بھائیوں کے قدموں میں نیچے بیٹھ جاتا ، اگر سوزوکی وغیرہ میں کہیں جانا پڑتا تو اسلامی بھائیوں کو بٹھانے کے بعد اگر بیٹھنے کی جگہ نہ ملتی تو کھڑا ہو جاتا ۔ دعوتِ اسلامی کے اَوائل میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  مجھے بھی شُرکائے مَدَنی قافلہ کی خُوب خِدمت  کرنے کا موقع ملا ۔  شروع میں حِفاظتی اُمُور کی  پابندیاں نہ تھیں اس لیے مدنی قافلوں میں سفر ، اِجتماعی اعتکاف کے حلقوں میں شِرکت اور بیمار اسلامی بھائیوں کی عِیادَت  کرنا بآسانی ممکن تھا لیکن اب حالات کے پیشِ نظر یہ ممکن نہیں رہا ۔ اب سینکڑوں ، ہزاروں اسلامی بھائی مُعتکف ہوتے ہیں ہر ایک سے اِنفرادی طور پر پوچھنا اور ایک ایک  کے پاس جا  کر مِزاج پُرسی کرنا بَہُت مُشکل ہے اَلبتَّہ اب بھی مجلس کی طرف سے یہ تَرکیب ہے کہ جن بیمار اسلامی بھائیوں کے نام وغیرہ ملتے ہیں اُن کی طرف غمخواری کے لیے میرے مکتوب رَوانہ کیے جاتے ہیں ۔

ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ گھل مِل کر رہیں

اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  میں اسلامی بھائیوں کے ساتھ اس طرح گُھل مِل جاتا کہ  لوگ مجھے پہچان بھی نہ پاتے تھے کہ ”الیاس قادری“ کون ہے ؟ کئی بار تو ایسا بھی ہوا کہ لوگ مجھ سے ہی  پوچھتے تھے  کہ  ”الیاس قادری“ کب آ رہا ہے ؟ان واقعات کو بیان کرنے  کا مَقصد یہ ہے کہ اَمیرِ قافلہ یا  نِگرانِ حلقہ مُشاورت اپنے ماتحت اسلامی بھائیوں کے ساتھ گھل مِل کر رہیں اور اپنے شُرکا  کا خُوب خیال رکھیں ۔ اگر وہ بیمار ہوں تو ان کی عِیادَت کریں ، جہاں تک ممکن ہو اور کوئی  مانِعِ شَرعی نہ ہو تو ایک ایک سے مِزاج پُرسی کریں تاکہ  کسی کے  دِل میں یہ بات  نہ  آئے  کہ میری طبیعت خَراب ہے اور ان کو معلوم بھی ہے  اس کے باوجود  مجھے نہیں پوچھا ۔ سبھی اسلامی بھائیوں اور بالخُصُوص اَمیرِ قافلہ اور نِگران اسلامی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ مِلنساری اور غمخواری کا ذہن بنائیں اور اپنے چہرے پر مُسکراہٹ رکھیں ۔ بالکل روئی کی طرح نرم اور بَرف کی طرح ٹھنڈے ہو جائیں  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کے ماتحت اسلامی بھائی آپ سے متُأثر ہوں گے اور مَدَنی کام میں بھی اِضافہ ہو گا ۔ اگر آپ سخت طبیعت اور غصّے والے  ہوں گے تو آپ کے سبب دینِ اِسلام کے



Total Pages: 17

Go To