Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

جواب : اگر مدنی کام کرنے کا جَذبہ ہو تو راہیں خُود بخود کُھل جاتی ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ  اَسباب پیدا فرما دیتا ہے ۔ کوئی حِکمتِ عملی اپنا کران کو مانوس کر کے اپنے قریب  کیجیے ۔ پھر وہاں ایسے اَفراد  تلاش  کیجیے جو کچھ نہ کچھ آپ کی زبان کی سمجھ بُوجھ رکھتے ہوں ، اس طرح ان کے ذَریعے آپ کو مدنی کام کرنے میں کامیابی ہو جائے گی اور مدنی کام  کا سِلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ آپ کی تَرغیب و تحریص کے لیے ایک مدنی بہار پیشِ خدمت ہے چنانچہ  ”ایک بار دعوتِ اسلامی کا ایک مَدَنی قافلہ چائنہ پہنچا ۔ وہاں کے لوگ مدنی قافلے والوں کی زبان نہیں  سمجھتے تھے اور  نہ ہی مدنی قافلے والوں کو  اُن کی زبان سمجھ آتی تھی ۔ مدنی قافلے والوں نے بَہُت سوچا کہ ان کو کیسے ترکیب میں لیا جائے ، بِالآخر ایک اسلامی بھائی جو خُوش اِلحان نَعت خواں بھی تھے انہوں نے قَصیدۂ بُرْدَہ شریف پڑھنا شروع کیا تو وہاں کے لوگ مسجد میں اِکٹھے ہو گئے ۔ قَصیدۂ بُرْدَہ شریف سُن کر بعضوں  کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ عِلمِ دِین سے دُوری کا یہ حال تھا کہ وہ لوگ جوتے پہن کر مسجد میں آتے تھے ۔ مِسواک شریف کا کوئی تصوُّر ہی نہ تھا ۔ مدنی قافلے والوں نے اِشاروں ہی اِشاروں میں ان کو مسجد سے باہَر جوتے اُتارنے کا طریقہ سمجھایا اور پریکٹیکل کر کے بھی دکھایا کہ مسجد کے اس حصّے میں جُوتے نہیں پہنتے ، پھر اُن کو قریب ہی جنگل میں درخت کی ٹہنیوں کو توڑ کر مِسواک بنانا اور اِشاروں سے کرنا سکھایا کہ یہ سُنَّتِ پیغمبر ہے ( وہ لوگ سرکارِنامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو صِرف پیغمبر کہتے تھے ) ۔ چند دنوں کے بعد وہاں اُردو اور اِنگلش بولنے اور سمجھنے والے کچھ مُسلمان بھی مِل گئے ۔ پھر اُن کے ذَریعے اُس علاقے والوں پر مَزید کوشش کی گئی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  بعض کُفّار بھی مُسلمان ہو کر دائرۂ اِسلام میں داخِل ہوئے ۔ آہستہ آہستہ مدنی کاموں میں ترقی ہوتی گئی ۔ پھر مدنی کاموں کو مَزید بڑھانے کے لیے وہاں کے ایک مَقامی اسلامی بھائی کے گھر ہفتہ وار اِجتماع بھی شروع کر دیا ۔ “ معلوم ہوا کہ اگر مدنی کام کرنے کا جَذبہ ہو تو حِکمتِ عملی کے ساتھ دُنیا کے ہر خطّے میں مَدَنی کام کیاجا سکتا ہے ۔     

مقبول جہاں بھر میں ہو دعوتِ اسلامی

صَدقہ تجھے اے ربِّ غفّار مدینے کا     ( وسائلِ بخشش )

بغیر کیے مدنی اِنعامات پر عمل کا ایک قاعدہ

سُوال : ایسے مدنی اِنعامات جن پر مدنی قافلوں میں سفر  کی وجہ سے عمل نہیں ہو سکتا مثلاً والدین کے ہاتھ چُومنا ، گھر میں دَرس دینا  وغیرہ تو  کیا دَورانِ    مَدَنی قافلہ ان مدنی اِنعامات پر عمل مانا جائے گا ؟

جواب : جی ہاں! اگر  گھر میں ایسے مدنی اِنعامات پر عمل کرنے کا  مَعمول ہو تو مدنی قافلے وغیرہ  کے دَوران ایسے مدنی اِنعامات پر عمل مانا جائے گا جیسا کہ مدنی اِنعامات کے رسالے کے  صفحہ نمبر 2 پر قاعدہ نمبر 4 میں یہ رِعایت موجود ہے : بعض مدنی اِنعامات ایسے ہیں جن پر صحیح عُذر( یعنی حقیقی مجبوری ) کی بنا پر عمل کی کوئی صورت نہ ہو یا اِس دَوران دوسرے مدنی کام میں مَشغولیت ہے مثلاً ذِمّے دار وغیرہ دِیگر مدنی کاموں میں مَصروفیت کے باعِث کسی مدنی اِنعام مثلاً مدرسۃُ المدینہ بالغان میں شریک نہ ہو سکے یا والدین کی وفات یا ان کے دوسرے شہر رہائش کی صورت میں دَست بوسی اور اَن پڑھ ہونے کے باعِث لکھ کر بات کرنے سے محرومی ہے تو بھی تنظیمی طور پر ان پر عمل مان لیا جائے گا ۔

تم مدنی قافلوں میں اے اسلامی بھائیو!

کرتے رہو ہمیشہ سفر خوشدِلی کے ساتھ

 



Total Pages: 17

Go To