Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

جو مصطفے ٰ کے عشق میں سب کو رُلا سکے          ( وسائلِ بخشش )

مَدَنی قافلے میں سفر کس نیت سے کیا جائے ؟

سُوال : مدنی قافلوں میں سفر سیکھنے سکھانے کی نیت سے کرنا چاہیے یا اس نیت سے  کہ دیگر مسلمانوں تک نیکی کی دعوت پہنچانا ہماری ذِمَّہ داری ہے ؟  

جواب : ایک کام میں کئی نیتیں کی جا سکتی ہیں ۔ اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : بے شک جو علمِ نیّت جانتا ہے ایک ایک فعل کو اپنے لیے کئی کئی نیکیاں کر سکتا ہے ۔ ( [1] )اس لیے حسبِ حال جتنی نیتیں ہو سکیں کر لیجیے کہ جتنی نیتیں زیادہ ہوں  گی اتنا ہی ثواب بھی زیادہ ہو گا ۔ سب سے پہلے یہ نیت کر  لیجیے کہ میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا پانے اور ثوابِ آخرت کمانے کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کر رہا ہوں ۔ مدنی قافلے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش  کا ایک بہترین ذریعہ ہیں لہٰذا اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی  کوشش کرنے کی نیت سے مدنی قافلوں میں سفر کیا جائے ۔

( شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : ) جب بھی مَدَنی قافلے میں سفر کریں تو اپنی تربیت و اِصلاح  کا بھی  ذہن لے کر جائیں اگر فقط دوسرں کی تربیت کا ذہن لے کر جائیں گے تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے جیسا کہ ایک مرتبہ بین الاقوامی سنتوں بھرے اِجتماع کے بعد پنجاب کے اسلامی بھائیوں کا ایک مدنی قافلہ اندرونِ سندھ ایک گاؤں میں گیا ۔ ایک یا دو دِنوں کے بعد وہ مدنی قافلہ واپس آ گیا ۔ جب اُن سے ملاقات ہوئی اور واپس آنے کی وجہ  پوچھی گئی تو انہوں نے کہا : ہمیں  ایک ایسے گاؤں میں بھیجا گیا تھا جہاں پر سارے سندھی اسلامی بھائی تھے ، نہ اُن کو ہماری بات  سمجھ آتی اور نہ ہی  ہمیں اُن کی بات  سمجھ آتی تھی ، اس وجہ سے ہم  تنگ آ کر واپس آ گئے ہیں ۔ میں نے ان سے اظہارِ اَفسوس کیا اور کہا کہ آپ کو مدنی قافلے میں سفر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضا پانے ، ثواب کمانے اور اپنی قبر و آخرت کو بہتر بنانے کے لیے کرنا تھا لہٰذا آپ اپنا پورا وقت سیکھنے سکھانے میں صَرف کرتے ۔ پھر ان اسلامی بھائیوں کو اِحساس ہوا اور وہ  دوبارہ مدنی قافلے میں راہِ خُدا  کے مُسافِر بن گئے ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر آپ اپنی تربیت کا مدنی ذہن لے کر مَدَنی قافلے میں سفر کریں گے تو مَقامی لوگ کسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والے اور کوئی بھی زبان بولنے والے ہوئے تو آپ کو پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ ہماری یہ ذِمَّہ داری نہیں کہ جہاں ہمارا  مَدَنی قافلہ سفر کرے وہاں کے لوگوں کو سکھا کر ہی آنا ہے ، ہمارا کام کوشش کرنا ہے اَلبتَّہ ایسا بھی نہیں  ہونا چاہیے کہ آپ مسجِد سے باہَر ہی نہ نکلیں کہ یہ دوسری زبان بولتے ہیں ان کو ہماری اور ہمیں ان کی کیا سمجھ آئے گی؟ ہمارے صحابۂ کرام و بُزرگانِ دِین رِضْوَانُ اللّٰہِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے بھی دُنیا کی ساری زبانیں نہیں سیکھی تھیں لیکن اِسلام کا پیغام لے کر دُنیا کے مختلف مَمالک  کا سفر کیا اور دِینِ اسلام کو دُنیا کے گوشے گوشے میں پہنچایا ۔ یہ انہیں نُفُوسِ قُدسیّہ کی کاوِشوں اور قُربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  دُنیا بھر میں اِسلام کی روشنی پھیلی ہوئی ہے اور گُلشنِ اِسلام ہرا بھرا لہلہاتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔

لوگ زبان نہ سمجھتے ہوں تو مدنی کام کیسے کریں ؟

سُوال : اگر مدنی قافلہ ایسی جگہ سفر کرے جہاں کے مَقامی لوگ  نہ  ہماری زبان سمجھتے ہوں اور  نہ ہمیں  ان کی زبان کی سُوجھ بُوجھ ہو  تو وہاں مدنی کام کیسے کیا جائے ؟

 



   [1]      فتاویٰ رضویہ ،  ۵ / ۶۷۳ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور  



Total Pages: 17

Go To