Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

اسلامی بھائی  ہو ۔ جب آپ یہ کورس کریں گے تو  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی مَزید  ترقی کی مَنازِل طے کرے گی اور اس کے مدنی کاموں کو تَقْوِیَت ملے گی ۔  

دَرسِ نظامی اَہم ہے یا مدنی قافلوں میں سفر کرنا؟

سُوال : دَرسِ نظامی کرنا اَہم ہے یا مدنی قافلوں میں سفر کرنا؟

جواب : یقیناً دَرسِ نظامی کرنے کی بہت اَہمیت ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ دعوتِ اسلامی کے جتنے بھی مَدارسُ المدینہ اور جامعاتُ المدینہ  ہیں جن میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  ہزارہا  طلبا عِلمِ دِین حاصل کر رہے ہیں ، ان میں مدنی قافلوں کی بَرکتیں بھی شامِل ہیں ۔ دعوتِ اسلامی کے اَوائل میں جب مَدارسُ المدینہ و جامعاتُ المدینہ نہیں تھے اس وقت بھی مدنی قافلے راہِ خدا میں سفر کرتے تھے ، مدنی قافلوں کی بَرکت سے دعوتِ اسلامی ترقی کے زینے طے کرتی رہی اور یہ مَدارسُ المدینہ و جامعاتُ المدینہ وجود میں آئے ہیں ۔ دَرسِ نظامی بھی کیجیے ، فرض عُلُوم کے حُصُول کے لیے ذاتی مُطالَعہ بھی کیجیے اور اپنے مدنی مقصد  ”مجھے اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کرنی ہے ۔ “کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی اِصلاح  کی کوشش کے ساتھ ساتھ ساری دُنیا کے لوگوں کی اِصلاح کی کوشش کے لیے مدنی قافلوں میں سفر بھی کیجیے ۔

زبا ن میں تاثیر کیسے پیدا ہو؟

سُوال : زبان میں ایسی  تاثیر  کیسے پیدا ہو کہ  ہم جس کو بھی مدنی قافلے کی دعوت دیں وہ راہِ خُدا  کا مُسافِر بن جائے ؟

جواب : زبان میں تاثیر پیدا کرنے کے لیے اِخلاص شَرط ہے ۔ ہمارا  کام اِخلاص کے ساتھ اَحسن انداز میں دوسرے اسلامی بھائیوں تک نیکی کی دعوت پہنچانا ہے ، انہیں عمل کی توفیق دینے والی اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی ذات ہے ۔ اگر آپ  کسی کو نیکی کی دعوت پیش کریں ، مدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے کا ذہن دیں لیکن وہ  تیار نہ ہو تو آپ اپنا دِل ہرگز چھوٹا نہ کیجیے ، نہ ہی سامنے والے کے بارے میں  اپنے دِل میں یہ بات لائیے کہ بہت  ڈھیٹ ہے ، ٹَس سے مَس نہیں ہوتا ، اس کا دِل پتھرسے بھی زیادہ سخت ہے وغیرہ وغیرہ بلکہ اسے اپنے اِخلاص کی کمی تصوُّر کرتے ہوئے رضائے  الٰہی عَزَّوَجَلَّ کے لیے کوشش  جاری رکھیے اور دِل سوزی کے ساتھ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی بارگاہ میں دُعا بھی کرتے رہیے کہ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ  ! میری زبان میں تاثیر عطا فرما اور میری نیکی کی دعوت میں پائی جانے والی خامیوں  کو دُور فرما کر لوگوں کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ آپ کا یہ کُڑھنا اور دِل سوزی کے ساتھ دُعائیں کرتے رہنا ایک نہ ایک دن ضَرور رَنگ لائے گا اور آپ اپنی آنکھوں سے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اس کے مدنی نَتائج دیکھ لیں گے ۔

ہمارے بُزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن مُخلِص  ہونے کے ساتھ ساتھ عِلم وعمل  اور حُسنِ اَخلاق کے پیکر بھی ہوا کرتے  تھے ، ان کی زبانیں  ایسی پُرتاثیر ہوتیں   کہ جس کو بھی نیکی کی دعوت دیتے ان کی بات تاثیر کا تیر بن کر سامنے والے کے دِل میں پَیْوَست ہو جاتی ، یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن کی مَساعیٔ جمیلہ( عُمدہ کوششوں )سے کُفّار کلمہ پڑھ کر دائرۂ اِسلام میں  داخِل ہو جاتے ۔

جس وقت سُنَّتوں کا میں کرنے لگوں بیاں

ایسا اَثر ہو پیدا جو دِل کو ہِلا سکے

میری زَبان میں وہ اَثر دے خُدائے پاک

 



Total Pages: 17

Go To