Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

رِضائے الٰہی کے لیے اسے  دِینِ اِسلام سے قریب کرنا مَقصود ہو ۔ دِینِ اِسلام نے ہمیں ایسے اُصول بتائے ہیں جنہیں ہم اپنا کر دوسروں کو مُتأثر کر کے مدنی ماحول سے وابستہ کر کے دِینِ اِسلام کے قریب کر سکتے ہیں ۔ چند اُصول پیشِ خدمت ہیں :

سلام میں پہل کرنا چاہیے

ہر مسلمان کو سلام کیجیے خواہ اسے جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے : ایک آدمی نے نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے دَریافت کیا کہ اِسلام میں کیا کام بہتر ہے ؟ فرمایا : لوگوں کو کھانا کھلانا اور سلام کرنا خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہ جانتے ہو ۔ ( [1] )نیز سلام کرنے میں پہل کرنا چاہیے کہ یہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی سُنَّتِ مُبارَکہ ہے ۔  ”آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عادتِ مُبارَکہ تھی کہ جس سے مُلاقات ہوتی تو سلام میں پَہل فرماتے ۔ “( [2] ) اگر آپ ثواب کی نیَّت سے اس سُنَّت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ہر چھوٹے بڑے مسلمان کو سلام کرنے میں پَہل کریں گے تو ضِمناً وہ آپ سے اور آپ کی میٹھی میٹھی تحریک دعوتِ اسلامی سے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ضَرور مُتأثر ہو گا ۔ سلام میں پَہل کرنے کے ساتھ ساتھ دِلجوئی کی نیَّت سے  اگر مُصافحہ کرنے کے لیے ہاتھ بڑھانے میں بھی پَہل  کر دیں تو اس کا بھی ثواب ملے گا ۔  

انگوٹھا دَبانے سے محبت پیدا ہوتی ہے

ہاتھ ملاتے وقت  ہاتھ کو بالکل ڈھیلا نہ چھوڑیں بلکہ انگوٹھے  کو ہَلکا سا دَبائیں کہ   ”انگوٹھے میں  ایک رَگ ہے جسے دَبانے سے محبت پیدا ہوتی ہے ۔ “( [3] ) انگوٹھے  کو ہلکا سا دَبانے اور اپنی  طرف کھینچنے سے وہ متوجہ ہو گا پھر چہرے پر مُسکر اہٹ لاتے ہوئے نام جاننے کی صورت میں اچھے طریقے سے اس کا نام لیتے ہوئے اس سے خیریت دَریافت کیجیے ۔ اگر پہلی مُلاقات ہے تو اس کا نام پوچھئے پھر طبیعت بھی پوچھئے ۔ جب کسی کا نام لے کر  اُس سے سلام و گفتگو کی جائے  تو اسے خوشی ہوتی ہے اور وہ اپنائیت محسوس  کرتا ہے اور جلد  مائِل ہو جاتا ہے ۔

عموماً ہمارے مُعاشرے میں گفتگو کے دَوران ایک مرتبہ طبیعت پوچھ لینے پر اِکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ بار بار جُملوں کی تکرار کی جاتی ہے ۔ مثلاً حاجی بلال آپ خیریت سے ہیں ، بالکل ٹھیک ہیں ، گھر میں سب خیریت ہے ، آپ کے بچے ٹھیک ہیں ۔ اب کچھ اور یاد نہ ہو تو پھر پوچھیں گے : اور سنائیے کیا حال ہے ؟

سامنے والا بھی ٹھیک ٹھیک کہتا رہتا ہے تو یوں کافی  وقت اسی ٹھیک ٹھاک میں نکل جاتا ہے ۔ بہرحال دونوں طرف سے ایک ہی جملے کی تکرار کرنے  کے بجائے اچھے اچھے  کلِمات اِستعمال کرنے چاہییں ۔  

دَورانِ مُلاقات نیکی کی دعوت

آجکل کا ماحول ایسا ہے کہ عموماً لوگ مُلاقات کے فوراً بعد حالات پر تبصرہ ، کاروبار پر گفتگو اور تنخواہ وغیرہ کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں مگر آپ  ہرگز ایسا نہ کیجیے بلکہ موقع کو غنیمت جانتے ہوئے  اپنی اور سامنے والی کی آخرت بہتر بنانے کے جذبے کے تحت دَورانِ مُلاقات موقع کی مُناسَبت سے نیکی کی دعوت پیش کیجیے ۔ اگر وہ بے نمازی ہے تو اسے نماز کی دعوت دیجیے ، اگر وہ نمازی ہے لیکن جماعت کا اِہتمام نہیں کرتا تو نمازِ  باجماعت پہلی صف میں ادا کرنے کی تَرغیب دِلائیے ۔ یاد رکھیے ! اگر کسی کے بارے میں



[1]    بخاری ، کتاب الاستٔذان ، باب السلام للمعرفة و غير المعرفة ، ۴ / ۱۶۷ ، حدیث : ۶۲۳۶ دار الکتب العلمیة بیروت 

[2]    شعب الایمان ، باب فی حب النبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ، فصل فی خِلقه و خُلقه ، ۲ / ۱۵۵ ، حدیث : ۱۴۳۰ دار الکتب العلمیة بیروت 

[3]    ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، باب الاستبراء  وغیرہ ، ۹ / ۶۲۹ دار المعرفة  بيروت  



Total Pages: 17

Go To