Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

سے دُور کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے بالآخر نفس و شیطان کے بہکاوے میں آ کر بعض اسلامی بھائی مدنی ماحول سے دُور ہو جاتے ہیں ۔  

( شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہفرماتے ہیں : )اِسلامی بھائیوں کے  مدنی ماحول سے دُور ہونے کی ایک بڑی وجہ کچھ نادان اسلامی بھائیوں  کی غیر اِرادی کوتاہیاں ہیں کہ اسلامی بھائی ایک دوسرے کے دُکھ دَرد اور غَمی خُوشی کے مَواقع میں شریک نہیں ہوتے ۔ اگر آپ کسی کے ہاں شادی وغیرہ خُوشی کے موقع پر نہ جائیں تو اِتنا مَحسُوس نہیں ہوتا مگر غَمی کے موقع پر نہ جائیں تو بَہُت مَحسُوس  کیا جاتا ہے ۔ اِس طرح کے کئی واقعات ہیں کہ وہ اسلامی بھائی جو بَرسوں سے مدنی ماحول سے وابستہ تھے ان کے کسی عزیز کے وفات  پانے پر  ذِمَّہ دار اسلامی بھائیوں کی  شِرکت نہ کرنے کی وجہ سے وہ مدنی ماحول سے دُور  ہو گئے ۔ پنجاب کے ایک شہر سے مجھے مکتوب مَوصُول ہوا جس میں مکتوب بھیجنے والے اسلامی بھائی نے لکھا تھا کہ میرے والِد صاحب  کا اِنتقال ہوا تو میں نے  علاقے کے ذِمَّہ دار کو اِطِّلاع بھی دی مگر پھر بھی ذِمَّہ دار تو کیا کسی ایک اسلامی بھائی نے بھی شِرکت نہیں کی ۔ میرا دِل آپ لوگوں کی طرف سے بالکل ٹُوٹ چُکا ہے ، اب میرا آپ لوگوں سے کوئی تَعلُّق نہیں ۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے کہ ایک اسلامی بھائی کے والِد صاحب کے فوت ہونے پر اسلامی بھائیوں کے شِرکت نہ کرنے کے سبب اس کا دِل ٹُوٹ گیا اور وہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے دُور ہو گیا ۔ ہر اسلامی بھائی کو ایک دوسرے کے دُکھ  دَرد اور غَمی خُوشی میں شَریک ہونا چاہیے ۔ اگر کوئی اسلامی بھائی بیمار پڑ جائے  تو اس کی عِیادَت کیجیے ، اس  کا کوئی عَزیز فوت ہو جائے اور کوئی شَرعی مَجبُوری نہ ہو تو ضَرور شِرکت کیجیے ۔ غَمی کے مَواقع پر مَذہَبی لوگوں کی زیادہ ضَرورت ہوتی ہے عموماً اس پر توجُّہ نہیں دی جاتی  ۔ نمازِ جنازہ کے علاوہ تَدفِین ، تَلقِین وغیرہ کے مَواقع پر بھی مَذہَبی لوگوں کی ضَرورت پڑتی ہے ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے قیام  سے قبل اور اس کے اَوائل میں بھی جب کسی  کے ہاں اِنتقال ہوتا اور  مجھے پتہ چلتا تو میں غُسل ، تکفین  اور تدفین وغیرہ میں  بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتا تھا ۔ آپ بھی اپنی آخرت  بہتر بنانے ، نیکیاں کمانے اور دعوتِ اسلامی کا مدنی کام دُینا بھر میں پھیلانے کے جَذبے کے تحت جہاں بھی عاشقانِ رسول میں سے کسی کے اِنتقال کی اِطِّلاع ملے اگرچہ وہ   دعوتِ اسلامی كے مدنی ماحول سے وابستہ نہ ہو تب بھی بڑھ چڑھ کر حصّہ  لیجیے ۔ آپ خود دیکھیں گے کہ مَیِّت کے اہلِ خانہ دعوتِ اسلامی سے مُتأثر ہو کر اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول سے وابستہ ہو جائیں گے اور یوں دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں کو مدینے کے بارہ چاند لگ جائیں گے ۔

مقبول جہاں بھر میں ہو  ”دعوتِ اسلامی“

صدقہ تجھے اے ربِّ غفّار! مدینے کا  ( وسائلِ بخشش )

٭٭٭٭٭

عبادت کے نو حصّے خاموشی میں ہیں

حضرتِ سَیِّدُنا اَنَس بن مالِک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا : عبادت کے 10 حصّے ہیں نو حصّے خاموشی میں اور دَسواں حصّہ حلال کمانے میں ہے ۔ ( فردوس الاخبار ، باب العین ، ۲ /  ۸۶ ، حدیث : ۴۰۶۲  دار الفکر بیروت )

 



Total Pages: 17

Go To