Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

کی  ”اِنفرادی کوشش“سے مُشَرَّف بہ اِسلام ہوئے ۔  ”آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک دن غصّہ میں بھرے ہوئے ننگی تلوار لے کر اس اِرادہ سے چلے کہ آج میں اسی تلوار سے پیغمبرِ اِسلام کو شہید کر دوں گا ۔ اِتفاق سے راستہ میں حضرتِ سَیِّدُنا نعیم بن عبدُ اللہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مُلاقات ہو گئی ۔ یہ مسلمان ہو چکے تھے مگر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کے اِسلام کی خبر نہیں تھی ۔ انہوں نے پوچھا : اے عمر! اس دوپہر کی گرمی میں ننگی تلوار لے کر کہاں چلے ؟ کہنے لگے کہ آج بانئ اِسلام کو شہید کرنے کے لیے گھر سے نکل پڑا ہوں ۔ انہوں نے کہا : پہلے اپنے گھر کی خبر لو ۔ تمہاری بہن  ”فاطمہ “اور تمہارے بہنوئی ”سعید بن زید“ بھی تو مسلمان ہو گئے ہیں ۔ یہ سُن کر آپ بہن کے گھر پہنچے اور دَروازہ کھٹکھٹایا ۔ گھر کے اَندر چند مُسلمان چُھپ کر قُرآن پڑھ رہے تھے ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آواز سُن کر سب لوگ ڈر گئے اور قُرآن کے اَوراق چھوڑ کر اِدھر اُدھر چُھپ گئے ۔ بہن نے اُٹھ کر دَروازہ کھولا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ چِلّا کر بولے : اے اپنی جان کی دُشمن! کیا تو بھی مُسلمان ہو گئی ہے ؟پھر اپنے بہنوئی حضرتِ سَیِّدُنا سعید بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جھپٹے اور ان کی داڑھی پکڑ کر ان کو زمین پر پَٹَخ دیا اور سینے پر سُوار ہو کر مارنے لگے ۔ ان کی بہن حضرتِ سَیِّدَتنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اپنے شوہر کو بچانے کے لئے دوڑ پڑیں تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان کو ایسا طَمانچہ مارا کہ ان کا چہرہ خُون سے لَہُو لہان ہو گیا ۔ بہن نے صاف صاف کہہ دیا : اے  عمر! سُن لو ، تم سے جو ہو سکے کر لو مگر اب اِسلام دِل سے نہیں نکل سکتا ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بہن کا خُون آلودہ چہرہ دیکھا اور ان کا عَزم و اِستقامت سے بھرا ہوا یہ جُملہ سُنا تو ان پر رِقَّت طاری ہو گئی اور ایک دَم دِل نرم پڑ گیا ۔ تھوڑی دیر تک خاموش کھڑے رہے ۔ پھر کہا : اچھا تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھے بھی دکھاؤ ۔ بہن نے قُرآن کے اَوراق سامنے رکھ دیئے ۔ ان کی نظر جب اس آیت پر پڑی : ( سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱) ) ( پ۲۷ ، الحدید : ۱ ) ترجمۂ کنز الایمان :  ”اللہ  کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے  اور وہی عزّت و حِکمت والا ہے ۔ “ اس آیت کا ایک ایک لفظ صَداقت کی تاثیر کا تیر بن کر دِل کی گہرائی میں پَیوَست ہوتا چلا گیا اور جِسم کا ایک ایک بال لَرزَہ بَراَندام ہونے لگا ۔ جب اس آیت پر پہنچے : ( اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ )( پ۲۷ ، الحدید : ۷ )  ترجمۂ کنز الایمان :  ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ ۔ “تو بالکل ہی بے قابو ہو گئے اور بے اِختیار پُکار اُٹھے :  ”اَشْہَدُ اَن لَّا  اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللہ“اس وقت حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حضرتِ سَیِّدُنا اَرقمرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں تشریف فرما تھے حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہن کے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرتِ سَیِّدُنا اَرقم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان پر پہنچے تو دَروازہ بند پایا ، کُنڈی بجائی ، اَندر کے لوگوں نے دَروازہ کی جِھری سے جھانک کر دیکھا تو حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ننگی تلوار لیے کھڑے تھے ۔ لوگ گھبرا گئے اور کسی میں دَروازہ کھولنے کی ہِمَّت نہ ہوئی مگر حضرتِ سَیِّدُنا حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بُلند آواز سے فرمایا : دَروازہ کُھول دو اور اندر آنے دو اگر نیک نیتی کے ساتھ آیا ہے تو اس کا خَیرمَقدَم کیا جائے گا ورنہ اسی کی تلوار سے اس کی گردن اُڑا دی جائے گی ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اَندر قدم رکھا تو حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خود آگے بڑھ کر حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بازو پکڑا اور فرمایا : اے خَطاب کے بیٹے ! تو مسلمان ہو جا ۔ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بہ آواز بُلند کہا :  ”اَشْہَدُ اَن لَّا اِلٰہَ  اِلَّا اللہُ وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ“حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے خُوشی سے نَعرہ تکبیر بُلند فرمایا اور تمام حاضِرین نے اس زور سے اَللہُ اَکْبَر  کا نَعرہ مارا



Total Pages: 17

Go To