Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

جواب :  ”اِنفرادی کوشش“ کرنے والے کے لیے   مِلنسار اور غمخوار ہونا بَہُت ضَروری ہے کیونکہ مِلنساری اور غمخواری   ”اِنفرادی کوشش “کی جان ہے ۔ اگر مِلنساری نہیں ہو گی تو پھر  ”اِنفرادی کوشش“ کرنے میں کَمَا حَقُّہٗ کامیابی حاصِل نہیں ہو سکتی ۔ یوں سمجھیے کہ  ”اِنفرادی کوشش“ کرنا شربت تیار کرنے کی طرح ہے ۔ اس میں شہد جیسی مِٹھاس ہونی چاہیے ، مُسکراہٹ کے پستے اور بادام بھی ڈالنے ہوں گے ، اگر کوئی مانِعِ شَرعی نہ ہو تو سامنے والے  کو گلے لگا کر تھپکی بھی دینی ہو گی ۔ اَلغرض  حِکمتِ عملی کے ساتھ ایسی ” اِنفرادی کوشش“ کی جائے کہ سامنے والا مُتأثر ہو کر دعوتِ اسلامی کے مَدَنی  ماحول سے وابستہ ہو جائے ۔

اِسی طرح  ”اِنفرادی کوشش“ کرنے والے کو موقع محل کی مُناسبت سے  مِلنسار ہونے کے ساتھ ساتھ غمخوار بھی ہونا چاہیے ۔  ”اِنفرادی کوشش“ کے دَوران اگر بالفرض  کسی کو اُداس دیکھیں یا اُس سے پریشانی کی خبر سنیں تو  فوراً آپ کے چہرے پر اُداسی  اور غم کے آثار نَمُودار ہو جانے چاہئیں ، مثلاً سامنے والا  کہتا ہے کہ میری ماں بیمار ہے ، ڈاکٹروں نے  کینسر کی نِشاندہی کی ہے تو آپ کو چاہیے کہ اُسے دِلاسا دیں ، اپنے مُنہ سے ایسے اَلفاظ ادا کریں جو اُس کے لیے تسکین اور حَوصَلہ اَفزا ئی کا سامان کریں اور اُس کی والدہ کی صحتیابی کے لیے دُعا کیجیے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کی والدہ کو شِفا عطا فرمائے اور آپ کی ہر پریشانی دُور  فرمائے ۔ پھر اس کو مدنی مَشورہ دیجیے کہ آپ اپنی امّی جان کی صحتیابی کے لیے راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشِقانِ رسول کے ہَمراہ سُنَّتوں کی تربیت کے مدنی قافلوں میں سفر کر کے دُعا  مانگیے کہ مُسافِر کی دُعا قبول ہوتی ہے جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے : تین قسم کی دُعائیں مستجاب ( یعنی مقبول )ہیں ، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : ( ۱ )مَظلُوم کی دُعا ( ۲ ) مُسافِر کی دُعا ( ۳ ) باپ کی اپنے بیٹے کے ليے دُعا ۔ ( [1] )

ماں جو بیمار ہو یا وہ ناچار ہو

رَنج وغم مَت کریں قافِلے میں چلو

ربّ کے دَر پر جھکیں اِلتجائیں کریں

بابِ رَحمت کھلیں قافِلے  میں چلو    ( وسائلِ بخشش )

 ”اِنفرادی کوشش“ کرنا سُنَّت ہے

سُوال : کیا  ”اِنفرادی کوشش“ کرنا ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ثابت ہے ؟

جواب : جی ہاں! تمام اَنبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور خود ہمارے پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفے ٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے  ”اِنفرادی کوشش“ فرمائی ۔ حج کے موقع پر ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم بَنَفسِ نَفِیس مِنیٰ شریف کے خیموں میں تشریف لے جا کر نیکی کی دعوت اِرشاد فرماتے ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی  ”اِنفرادی کوشش“ سے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ  الرِّضْوَان ایمان کی دولت سے مُشَرَّف ہوئے مثلاً  ”مَردوں میں سب سے پہلے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدّیقرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اِیمان لائے ، عورتوں میں اُمُّ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتنا خَدیجۃُ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اِیمان لائیں ، بچّوں میں سب سے پہلے اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ  سَیِّدُنا علیُّ  المرتضیٰ ، شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اِیمان لائے ۔ ( [2] )  

اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرتِ سَیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی اپنی بہن ، بہنوئی اور سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم



[1]    ترمذی ، کتاب  الدعوات ، باب  ما ذکر  فی  دعوة  المسافر ، ۵ / ۲۸۰ ، حدیث : ۳۴۵۹   دار الفکر بیروت  

[2]    تاریخ الخلفاء ، ص۲۶  ملخصاً بابُ المدینه کراچی  



Total Pages: 17

Go To