Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

پینا مستحب ہے ۔ اسی طرح آبِ زَم زَم کو بھی کھڑے ہو کر پینا سُنَّت ہے ۔ یہ دونوں پانی اس حکم سے مستثنیٰ( یعنی الگ )ہیں اور اس میں حِکمت یہ ہے کہ کھڑے ہو کر جب پانی پیا جاتا ہے وہ فوراً تمام اَعضاء  کی طرف سَرایَت کر جاتا ہے ( یعنی تمام اَعضاء میں پہنچ جاتا ہے ) اور یہ مُضِر ( نقصان دہ )ہے ، مگر یہ دونوں بَرکت والے ہیں اور ان سے مَقصود ہی تَبَرُّک ہے لہٰذا ان کا تمام اَعضاء میں پہنچ جانا فائدہ مند ہے ۔ ( [1] )

مُرید کو چاہیے کہ اپنے دِل میں پیر کی محبت اِس قدر بڑھائے کہ مُریدِ کامِل ہو  جائے ۔ اگر بالفرض پیر صاحب بغیر کسی وجہ کے جھاڑ کر نکال بھی دیں تو  اس کی عقیدت ومحبت  میں کمی نہ آئے ۔ اپنے پیر صاحب کی صحبت میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارے اور ان کی اِطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے وہ جو اِرشاد فرمائیں اُس پر عمل پیرا ہو ۔ پیر اپنے مُرید کو شریعت کا  پابند دیکھنا چاہتا ہے لہٰذا مُرید کو چاہیے کہ وہ رضائے الٰہی کے لیے نمازوں کی پابندی ، جماعت کا اِہتمام ، سُنَّت کے مُطابِق چہرے پر داڑھی ، سر پر عمامہ اور سُنَّت کے مُطابِق لباس زیب تن کرے ۔ اسی طرح اگر پیر صاحب مَدنی اِنعامات پر عمل اور مدنی قافلوں میں سفر کرنے سے خوش ہوتے ہوں تو مُرید کو چاہیے کہ وہ روزانہ فکرِ مدینہ کرتے ہوئے مدنی اِنعامات کے رسالے کو پُر کرے اور ہر مدنی ماہ کی پہلی تاریخ  کو اپنے یہاں کے ذِمَّہ دار کو جمع کروانے کا معمول بھی بنا لے اور سُنَّتوں کی تربیت کے لیے زندگی میں یکمشت 12ماہ ، ہر12 ماہ میں ایک ماہ اور عمر بھر ہر ماہ 3 دن کے لیے عاشقانِ رسول کے ساتھ مَدَنی  قافِلوں میں سفر کرے ۔ مُرید کا ظاہِر و باطِن ایک ہونا چاہیے ، ایسا نہ ہو کہ پیر صاحب کے سامنے تو گِڑ گڑائے ، دِیوانگی دِکھائے اور غیر موجودگی میں اس  کا خِلاف کرے ۔ اَلغرض اگر مُرید اپنے پیر کی مَحبَّت میں سچا ہو گا  تو  اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ضَرور اپنے پیر و مُرشِد کے فُیُوضُ و بَرکات سے مالا مال ہو گا ۔

 ”اِنفرادی کوشش“  کا مَطلب و اَہمیت

سُوال :  ”اِنفرادی کوشش“ کسے کہتے ہیں ؟

جواب : ایک یا چند ( مثلاً  دو یا تین )اسلامی بھائیوں کو الگ سے سمجھاتے  ہوئے انہیں نیکی کی دعوت دینا   ”اِنفرادی کوشش “کہلاتا ہے جبکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے دَرس و بیان  کرتے ہوئے انہیں  نیکی کی دعوت دینا  ”اِجتماعی کوشش“ کہلاتا ہے ۔  ”اِنفرادی کوشش“ تبلیغ ِدِین اور نیکی کی دعوت کی جان ہے اور یہ ہر وقت ، اُٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، سفر و حضر اَلغرض ہر جگہ ہو سکتی ہے اور یہ  ”اِجتماعی کوشش“ سے کہیں زیادہ مُؤثر بھی ہوتی ہے ۔  بارہا   دیکھا گیا ہے  کہ بَرسہا برس سے  اسلامی بھائی اِجتماع وغیرہ میں شریک  ہوتے اور مدنی  قافلوں کی تَرغیبات سُنتے رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود مدنی قافلوں میں سفر نہیں کر پاتے مگر جب ان پر کوئی  ”اِنفرادی کوشش“ کرتے ہوئے انہیں مدنی قافلوں میں سفر کرنے کی دعوت دیتا ہے  تو وہ مدنی قافلوں میں سفر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ۔  ”اِجتماعی کوشش“ کے مُقابلے میں ”اِنفرادی کوشش“ کرنا بے حد آسان بھی ہے کیونکہ کثیر اسلامی بھائیوں کے سامنے بیان کرنا ہر ایک کے بَس کی بات نہیں   جبکہ  ”اِنفرادی کوشش“ بچّہ ، بوڑھا ، جوان وغیرہ سبھی کر سکتے ہیں خواہ انہیں بیان کرنا آتا ہو یا نہ آتا  ہو ۔

 ”اِنفرادی کوشش“ کرنے کا طریقہ

سُوال :  ”اِنفرادی  کوشش“  کرنے کا طریقہ بھی اِرشاد فرما دیجیے ۔

 



[1]    بہارِشریعت ، ۳ / ۳۸۴ ، حِصّہ : ۱۶مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی   



Total Pages: 17

Go To