Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

نہ لانے کا عَہد کیجیے ۔ ہاں فنائے مسجِد مَثَلاً امام صاحِب کے حُجرہ میں بچّے  کو لے جاسکتے ہیں جبکہ مسجد کے اندر سے نہ گزرنا پڑے ۔

تلفظ کی دُرُستی کا طریقہ

سُوال : گفتگو میں بولے جانے والے غَلَط اَلفاظ کے  تَلَفُّظ کی دُرُستی  کا طریقہ بیان فرما دیجیے ۔

جواب : تَلَفُّظ کی دُرُستی کے لیے اپنے پاس لُغَت رکھنا مُفید ہے ۔ عموماً مارکیٹ میں دَستیاب شُدہ اُردو لُغَات وغیرہ میں لَغْوِیّات اور کفریہ مُحاورات بھی ہوتے ہیں ۔ کاش! لُغَت کی کوئی ایسی کتاب ہو جس میں کُفریات و لَغْوِیّات  وغیرہ نہ ہوں ۔ اس کے علاوہ تَلَفُّظ کی دُرُستی  کے لیے فیضانِ سُنَّت اور مکتبۃُ المدینہ سے شائع ہونے والے مدنی  رَسائِل نیز المدینۃُ العلمیۃ کی کُتُب کا بغور مُطالَعہ بھی بے حد مُفید ہے کیونکہ اِن کُتُب و رَسائِل میں  تَلَفُّظ کی دُرُستی  کا خیال رکھتے ہوئے حتَّی الامکان مشکل اور غیر مشہور اَلفاظ پر اِعراب لگانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ بعض اسلامی بھائی فیضانِ سُنَّت یا رَسائِل سے دَرْس و بیان کرتے ہوئے  اَلفاظ پر اِعراب ہونے کے باوجود غَلَط پڑھ رہے ہوتے ہیں کیونکہ بَرسوں سے ذہن میں بیٹھے ہوئے  غَلَط اِعراب  پر مُشتمل اَلفاظ ادا کرنے کی عادت بن چکی ہوتی ہے لہٰذا دَرس و بیان کی تیاری کے وقت مُطالَعہ کرتے ہوئے اَلفاظ پر لگائے گئے اِعراب کے مُطابِق  ہی پڑھتے ہوئے تَلَفُّظ دُرُست کرنے کی کوشش  کیجیے ۔  

بیسیوں اَلفاظ ایسے ہیں جن پر حَرکت کی تبدیلی سے معنیٰ میں تبدیلی واقع ہو سکتی ہے ۔ صِرف اُردو میں بولے جانے والے چند اَلفاظ مُلاحظہ  کیجیے جن کے تَلَفُّظ میں عموماً لوگ غَلَطی کرتے ہیں مثلاً ہمارے ہاں عام طور پر بولا جاتا ہے ” فُلاں باہِر کھڑا ہے ۔ “حالانکہ باہِر کا معنیٰ روشن ہوتا ہے اصل تَلَفُّظ  ”باہَر“ ہے ۔ اسی طرح  ”تبارَک وتعالیٰ“ کو  ”تبارِک و تعالیٰ“ ، عیدمبارَک کو عید مبارِک ، مُرشِد کو مُرشَد ، سیِّد کو سیَّد ، مَدَنی کو مَدْنی ، میِّت کو میَّت ، قِیامت کو قَیامت ، دُرُست کو دَرُست ، غَلَط کو غَلْط ، حُکْم کو حُکَم ، صَبْر کو صَبَر ، عِلْم کو عِلَم اورشُکْر کو شُکَر پڑھتے ہیں ۔ اسی طرح ناموں میں عابِد کو عابَد ، واحِد کو واحَد اور  واجِد کو  واجَد کہتے ہیں ۔  

پیر و مُرشِد کی مَحبت حاصِل کرنے کا طریقہ

سُوال : مُرید کی بَقا اور اِستقامت  محبتِ مُرشِد میں ہے تو یہ اِرشاد فرمائیے کہ  محبتِ مُرشِد کیسے حاصِل کی جائے ؟  

جواب : اپنے جامع شَرائط  پیر و مُرشِد کی مَحبَّت حاصِل کرنے کے لیے سب سے پہلے اپنے  پیر و مُرشِد کے اَوصاف و کمالات جاننے کی کوشش کی جائے کہ اس سے دِل میں  پیر و مُرشِد کی مَحبَّت بڑھے گی ۔ اپنے آپ کو پیر و مُرشِد کی بدگمانی  سے ہر دَم بچانے کی کوشش کرے کیونکہ پیر پر بَدگمانی ہلاکت کا سبب ہے ۔ اگر پیر و مُرشِد  کوئی کام خلافِ سُنَّت بھی کر رہے ہوں تب بھی بَدگمانی دِل میں  نہ لائے اولاً  یہ کہ ہو سکتا ہے کہ جس عمل کو  وہ سُنَّت سمجھ رہا ہو وہ سُنَّت  بھی ہے یا نہیں اگر ہو تو یہ بھی  ہو سکتا ہے کہ پیر و مُرشِد کی توجہ نہ ہو یا یہ بھی ممکن ہے کہ پیر صاحب کسی عُذرِ شَرعی کی وجہ سے سُنَّت چھوڑ رہے ہوں مثلاً اگر پیر صاحب اُلٹے ہاتھ سے پانی پی رہے ہوں تو اُن سے بَدگمان نہ ہو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پیر صاحب کے سیدھے ہاتھ میں اس قدر شدید زخم ہو جس کی وجہ سے پانی کا  گلاس اُٹھانا ممکن نہ ہو ۔ اِسی طرح اگر وہ  کھڑے کھڑے پانی پی رہے ہوں تو بھی بَدگمانی نہ  کیجیے ہو سکتا ہے کہ وہ وُضو کا  بچا ہوا پانی یا آبِ زَم زَم پی رہے ہوں کہ یہ دو پانی کھڑے ہو کر پی سکتے ہیں جیسا کہ صَدرُ الشَّریعہ ، بَدر الطَّریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِیفرماتے ہیں : لوگ مُطلقاً کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ بتاتے ہیں حالانکہ وُضو کے پانی کا یہ حکم نہیں بلکہ اس کو کھڑے ہو کر



Total Pages: 17

Go To