Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

ویرانیاں ، نمازوں اور سُنَّتوں سے دُوریاں وغیرہ کئی ایسے اَسباب ہیں جن کی وجہ سے میرے دِل میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے کرم اور نبیٔ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی عِنایت سے نیکی کی دعوت دینے  کا جَذبہ بیدار ہوا ۔ شوالُ المکرم 1401ھ مُطابِق ستمبر 1981ء میں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی کام کا آغاز ہوا ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تبلیغِ قرآن و سنَّت کی اس عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کو مَزید ترقی عطافرمائے اور اس مدنی ماحول میں اِستقامت ، ایمان پر زیرِ گُنْبدِ خَضرا  جَلوۂ محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم میں شَہادت ، جنَّتُ البقیع میں مَدفَن اور جَنَّتُ الفردوس میں اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب فرمائے ۔ اٰمین بِجَاہِ النَّبِی الْاَمِیْن  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم 

ترا شکر مولا دیا مدنی ماحول

نہ چھوٹے کبھی بھی خُدا! مدنی ماحول

قیامت تلک یاالٰہی! سَلامت

رہے تیرے عطار کا مدنی ماحول  ( وسائلِ بخشش )

اَمیرِاہلسنَّت کے بچپن کا ایک ناخُوشگوار واقعہ

سُوال : امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  سے عرض ہے کہ اپنے بچپن کا کوئی ایسا واقعہ بیان فرما دیجیے جس سے آپ کے دِل کو بہت صَدمہ پہنچا  ہو؟

جواب : ( شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنا ایک دِلخراش واقعہ بیان کرتے ہوئے  اِرشاد فرماتے ہیں : )ایک مرتبہ بارہویں شریف کے موقع پر مُوئے مبُارَک کی زیارت کروائی جا رہی تھی اور آخر میں صلوٰۃ و سَلام پڑھا گیا تو میں بھی دِیگر بچوں کی طرح اس موقع پر آگے چلا گیا ۔ صلوٰۃ و سَلام کے بعد اذانِ ظہر ہوئی پھر جب نماز کے لیے صفیں بننا شروع ہوئیں تو میں پہلی صَف میں کھڑا ہو گیا ۔ اتنے میں ایک بڑے میاں آئے ،  انہوں نے بڑے زور سے میرا بازو پکڑا اور ڈانٹ کر مجھے وہاں سے نکال دیا ۔ مجھے اس کا بَہُت صَدمہ ہوا اور میری سخت دِل آزاری ہوئی مگر پھر بھی اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے کرم سے میں نے مسجد نہیں چھوڑی وَرنہ ایسے حالات میں شیطان بہکا  کر مسجد سے ایسا دُور کر دیتا ہے کہ شاید بندہ زندگی بھر مسجد کا کبھی رُخ نہ کرے ۔ “  

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !اِس واقعہ سے یہ دَرس ملا کہ اگر  بچے مَساجد میں آئیں تو ان کو جھاڑ کر مَساجد سے نکالنا نہیں چاہیے ، اگر کوئی غَلَطی کریں تو ان کو اَحسن طریقے سے پیار و محبت کے ساتھ سمجھا دیجیے تاکہ وہ آئندہ اس سے باز رہیں ۔ اگر آپ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر مسجد سے باہر نکال  دیں گے تو ہو سکتا ہے کہ ان کا دِل ٹوٹ جائے اور  پھر وہ کبھی بھی مسجد کی طرف نہ آئیں ۔

چھوٹے بچوں کو  مسجد میں لانے کا حکم

سُوال : کیا چھوٹے بچوں کو بھی مسجد میں لا سکتے ہیں ؟

جواب : اتنا چھوٹا بچّہ جس سے نَجاست ( یعنی پیشاب وغیرہ کر دینے ) کا خَطرہ ہو اور پاگل کو مسجِدکے اندرلے جانا حَرام ہے اگر نَجاست کا خَطرہ نہ ہو تو مکروہ ۔ ( [1] )ایسا بچّہ یا پاگل یا بے ہوش یا جس پر جِنّ آیا ہوا ہو ان کو دَم کروانے کے لیے بھی مسجد میں لے جانے کی شَریعت میں اِجازت نہیں ۔ اگر آپ چھوٹے بچّے وغیرہ کو مسجدمیں لانے کی بھول کرچکے ہیں تو بَرائے کرم ! فوراً توبہ کرکے آئندہ



[1]    در مختار ، کتاب الصلٰوة ، باب ما یفسد الصلاة  وما یکرہ فیھا ، ۲ / ۵۱۸  دار المعرفة بيروت 



Total Pages: 17

Go To