Book Name:Dil Jeetnay ka Nuskha (Q-30)

کوشش کریں گے جس سے علاقے میں دعوتِ اسلامی کا مدنی کام بڑھے گا ۔  

مجھ کو جذبہ دے سفر کرتا رہوں پروَردگار

سُنَّتوں کی تربیت کے قافِلے میں بار بار ( وسائلِ بخشش )

اَمیرِاہلسنَّت کی خُود داری

سُوال : سُنا ہے آپ مَدارس وغیرہ کا کھانا  نہیں کھاتے ؟

جواب : ( شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنَّتدَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  میرا شروع  سے ہی  یہ ذہن بنا ہوا ہے کہ میں  مَدارس کا کھانا نہیں کھاتا اور نہ ہی مَدارس کی کوئی چیز مثلاً ٹیلی فون وغیرہ اپنے ذاتی اِستعمال میں لاتا ہوں ۔ اِبتداءً جب ہمارے  مدنی قافلے مَدارس سے ملحقہ مَساجد میں ٹھہرتے تو اس وقت بھی میں مَدارس کا کھانا کھانے سے بَہُت زیادہ کتراتا تھا کیونکہ عموماً مَدارس زکوٰۃ ، صَدقات اور خیرات وغیرہ پر چلتے ہیں ۔ ہم نے مدنی قافلہ میں سفر کر کے  کسی پر اِحسان تو نہیں کیا بلکہ اپنی آخرت  بہتر بنانے کے لیے راہِ خدا میں سفر اِختیار کیا ہے ۔ جب گھر میں ہم  اپنا کھاتے ہیں تو پھر مَدَنی  قافلوں میں کیوں نہ اپنے پاس  سے کھائیں ۔ عُرف میں جن لوگوں کو مَدارس کا کھانا کھانے کی اِجازت ہے وہ کھا سکتے ہیں مگر میں پھر بھی مَدَنی مَرکز فیضانِ مدینہ کا کھانا نہیں کھاتا ۔ آپ بھی اپنے اَندر اِخلاص اور قناعت پیدا کیجیے ، جب آپ مخلص اور قانِع ( یعنی قناعت کرنے والے ) بنیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ دِین کا کام بھی زیادہ اچھے طریقے سے کر سکیں گے اور آپ کی زبا ن میں تاثیر بھی  پیدا   ہو گی ۔

مَدَنی کام کا آغاز کب اور کیسے ہوا ؟

سُوال : دعوتِ اسلامی کے مدنی کام کا آغاز کب اور  کیسے ہوا ؟

جواب : )شیخِ طریقت ، اَمیرِ اہلسنَّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : )اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  جب سے مجھے شُعُور آیا ہے اُس وقت سے ہی نمازیں پڑھنے اور مَساجد میں جانے کا شوق تھا ،  میں اور دِیگر بچے مل کر لوگوں کو نمازوں کے لیے گھروں سے بُلانے جاتے تھے ۔ مجھے بچپن  ہی سے نعتیں اور دُرُود و سَلام پڑھنے کا بہت زیادہ شوق تھا ۔ ہم اپنے محلے کی بادامی مسجد ( گوشت مارکیٹ کھارادر اولڈ بابُ المدینہ  کراچی ) میں نماز پڑھا کرتے تھے جس سے اذان سے قبل دُرُود و سَلام کی آوازیں  آتی اور دِل کو بھاتی تھیں ۔ ہر سال بارہ رَبیعُ الاوَّل کے پُرمَسَرَّت موقع پر  دھوم دھام کے  ساتھ  جَشنِ وِلادت مَنایا جاتا اور مُوئے مُبارَک کی زیارت بھی کروائی جاتی تو میں بڑے جوش و خروش سے اس میں شِرکت کیا کرتا تھا ۔ اسی طرح  ہر سال مُبارَک اَیَّام مثلاً محرمُ الحرام میں دس دن ، رَبیعُ الآخر میں گیارہویں شریف کی نسبت سے گیارہ دن  اور رَبیعُ الاوَّل میں بارہویں شریف کی نسبت سے بارہ دن بیانات کا سِلسلہ ہوتا ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّ وَجَلَّ  دَسویں ، گیارہویں ، بارہویں اور دِیگر مُبارَک مَواقع پر ہونے والے بیانات کی مِٹھاس  اور نیاز کی شیرینی میرے دِل میں اُترتی گئی ۔ جمعۃ المبارک اور دِیگر مَواقع کے اِختتام پر صلوٰۃ و سَلام پڑھا جاتا تو میں بھی دِیگر بچوں کے ساتھ آگے پہنچ جاتا اور صلوٰۃ و سَلام پڑھنے والے کے قریب کھڑا ہو جاتا ۔ مجھے نعت شریف پڑھنے کا دِیوانگی کی حَد تک شوق تھا اور نعت شریف پڑھنے کے لیے محافلِ نعت وغیرہ میں شِرکت کیا کرتا تھا ۔ یوں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ  مجھے بچپن ہی سے اچھی صحبت اور اچھا ذہن نصیب ہوا ۔

پھررَفتہ رَفتہ شُعُور بڑھتا گیا اور مسلمانوں کی بِگڑی ہوئی حالتِ زار ، گُناہوں کی یَلغار ، ہر طرف بے حیائی کی بَھرمار ، مَساجد کی



Total Pages: 17

Go To