Book Name:Mufti e Dawateislami

سوال آیا ہے ،اس کا کیا جواب ہونا چاہئیے اور میں نے یہ لکھا ہے ، اگر میں کہتا تھا :’’یہ جواب یوں نہیں بلکہ یوں ہونا چاہئے تو یہ مان جاتے اور فتویٰ روک دیتے یا پھر مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے ۔الحمدللہ عزوجل! میں نے ان کی عاجزی کے بہت سے معاملات دیکھے ہیں ،اللہ عزوجل ان پر کروڑو ں رحمتیں نازل فرمائے ۔

انہوں نے مجھ سے کئی بار کہا کہ مجھے تمام تر تنظیمی ذمہ داریوں سے چھڑا کر اپنے پاس رکھ لیں اور مجھ سے کام لیتے رہیں ،آپ جو کہیں گے، میں کرتا رہوں گا۔ لیکن میں انہیں جواب دیتا کہ میں آپ کو کیسے رکھ لوں ، آپ کام کے آدمی ہیں ، اور کام کے آدمی کو گھر پرنہیں بٹھایاجاتا ۔ یہ بھی اصرار کرتے رہے کہ چلئے کم از کم میرے گھر پر آکر رہیں ۔ انہوں نے مجھے اپنا گھر دکھایا ، کمرہ دکھایا اور کہنے لگے کہ جیسا کمرہ آپ کہیں گے ، ہم بنادیں گے، نیچے ہمارا مکان کرایہ پر ہے اورفُلاں تا ریخ کو خالی ہونے والا ہے ۔ہم مستقل طور پر خالی کرالیں گے اور اب نیا اجارہ نہیں کریں گے۔ آپ یہیں رہ جائیے ہمارے گھر والے بھی آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن میری کچھ مجبوریاں تھیں جن کی وجہ سے میں وہاں نہیں رَہ سکتا تھا ۔ کیونکہ ان کا گھر آباد علاقے میں ہے اور مجھے تحریری کام کے لئے یکسوئی چاہئے۔جب عوام کو پتا چلتا تو وہ ملاقات کے لئے وہاں پہنچ جاتے ۔ بہرحال ان کی خواہش تھی اور کئی بار انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں آکر رہئے،اللہ عزوجل ان کو جزائے خیر عطا فرمائے ۔‘‘

(اس بیان کو مکمل طور پر سننے کے لئے اس بیان کا کیسیٹ ’’مفتی ٔ دعوتِ اسلامی کے تیجے کا بیان‘‘مکتبۃ المدینہ سے حاصل فرمائیں ۔ )


 

 



Total Pages: 89

Go To