Book Name:Mufti e Dawateislami

سائیکل چلا رہا تھا اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تلاوت کر رہے تھے ۔ راستے میں مجھے یوں لگا کہ کوئی تار ہماری موٹر سائیکل سے ٹکرایاہے ۔ بہر حال جب میں آپ کوگھر چھوڑ کر اسی راستے سے واپس آیا تو لوگو ں کا سڑک پر ہجوم تھا ۔پوچھنے پر معلوم ہوا بجلی کاتار سڑک پر گراہوا ہے، جس میں کرنٹ ہے ۔یہ سن کر مجھے ذہنی طور پر دھچکا لگا کہ یہی تا ر توہماری موٹر سائیکل سے ٹکرایا تھا لیکن ہمیں کرنٹ نہیں لگا ۔میرا حسنِ ظن ہے یہ تلاوتِ قرآن کی برکت تھی ۔

پردے کی احتیا طیں :

مفتی ٔ دعوت ِ اسلامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے اپنے گھر میں یہ ترکیب بنارکھی تھی کہ جس وقت کمرے میں مفتی صاحب ہوتے تو اس وقت کوئی بھابھی اس کمرے میں نہ آ سکتی تھیں۔ اور جہاں ان کی بچی کی امی ہوتیں وہاں گھر کا کوئی نامحرم مرد نہ آسکتا تھا۔ اس طرح بہت احتیاط کے ساتھ مکمل پردہ رہتا تھا۔مفتی صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنی ساس کے سامنے بھی نہ آتے تھے بلکہ ان سے بھی پردہ کرتے تھے ۔

آپ کے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ آپ کے گھر میں کچھ تعمیراتی کام ہونا تھا اور مزدوروں وغیرہ کی آمد پر بے پردگی کا احتمال تھا ۔ چنانچہ آپ بے پردگی سے بچنے کے لئے اپنی بچی کی امّی کے ساتھ عارضی طور پر کرائے کے گھر میں منتقل ہوگئے۔ اسی طرح جب کبھی اپنی بچی کی امی کے علاج کی ضرورت پیش آتی تو اس بات کا اِلْتِزَام کیا کرتے کہ ان کا چیک اپ وغیرہ لیڈی ڈاکٹر ہی کرے ۔


 

 



Total Pages: 89

Go To