Book Name:Mufti e Dawateislami

اَفْسُرْدَہ انداز میں ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سلسلے میں ہی گفتگو کر رہے تھے۔ان کوحال ہی میں (یعنی ان کی وفات سے کچھ عرصہ قبل)غیر مسلموں کی جانب سے نبی پاک صاحب ِ لولاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی شان میں کی گئی گستاخی کا بہت صدمہ تھا۔{اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم }

امیرِا ہلِسنت دامت برکاتہم العالیہ سے محبت:

شیخِ طریقت،امیرِاہلِسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اگر انہیں کچھ عنایت فرماتے تویہ بے حد خوش ہوتے اورجاکر اپنی والدہ محترمہ کے ہاتھ میں دے دیتے اور عرض کرتے: ’’اس تبرک کو گھرمیں سب کو تھوڑا تھوڑا تقسیم کردیجیے۔‘‘

جب کبھی گھر میں موجودگی کے دوران شیخِ طریقت،امیرِاہلِسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا فون آتا تو جیسے ہی فون آتا کرتہ پہننے لگتے۔

اکثر فرمایا کرتے کہ:’’ مجھے جو عزّت ملی میرے مرشد کا صدقہ ہے۔‘‘ مَکْتَبِ مجلس ِ افتاء میں ان کی رَفاقت میں کام کرنے والے مفتی صاحب مدظلہ العالی کا کہنا ہے کہ امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ کی بہت سی عادات ان میں موجود تھیں ، مثلاً؛مسکرانے کا انداز،گفتگو کاانداز اوراشاروں سے گفتگوکرنے کا اندازوغیرہ۔مفتی ٔ دعوتِ اسلامی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو جب بھی اپنے مرشد ِ کریم شیخِ طریقت، امیرِاہلِسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہکی بارگاہ میں حاضِری کا شرف


 

 



Total Pages: 89

Go To