Book Name:Mufti e Dawateislami

دُبلا پتلا مُبلِّغ :

۲۹ صفر المظفر ۱۴۲۷؁ھ بعد نَمازِ مغرب شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت،بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرتِ علّامہ مولانا محمد الیاس عطّار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ سے بابُ المدینہ کراچی ملاقات کیلئے حاضِر ہونے والے مرکز الاولیاء (لاہور)کے ایک اسلامی بھائی نے حلفیہ بتایا جس کا خُلاصہ کچھ یوں ہے ، دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے میری وابَستگی کا ابتدائی دورتھا ،طبیعتاً میں انتہائی شرارتی تھا ،ایک بار ڈیرہ اسمٰعیل خان(سرحد ،پاکستان)دوستوں کے ہمراہ جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ بابُ المدینہ کراچی سے 12دن کیلئے ایک مَدَنی قافِلہ تشریف لایا ہے اور اس جمعرات کوہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتِماع میں بابُ المدینہ کراچی کے مبلّغ بیان فرمائیں گے ۔

میں اجتِماع میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک دُبلے پتلے اسلامی بھائی ایک رسالہپڑھ کر سُنارہے ہیں ۔ میں نے کسی سے پوچھا کہ بابُ المدینہ سے آئے ہوئے مبلّغ کب بیان فرمائیں گے؟ تو اُس نے بتایا کہ جو بیان فرمارہے ہیں وہ بابُ المدینہ ہی کے مبلّغ ہیں۔ یہ سن کر میں نے شرارت کے انداز میں کہا کہ یہ کیسے مولانا ہیں جو دیکھ کر بیان کررہے ہیں ؟اُس اسلامی بھائی نے مجھے سمجھانے کی کوشِش کی مگر میں نے طنزیہ جملے کس کر اُس کو دِق کیا ۔نیز میں ان پرمزید طنزیہ جُملے کسنے لگا اوردُبلے پتلے مولانا صاحِب کوبھی اپنی شرارت کا نشانہ بنانے کی ٹھانی۔ اس ارادے سے دوسرے روز میں اپنے دودوستوں کے ساتھ اُس مسجِد میں جاپہنچاجہاں مَدَنی قافِلہ ٹھہرا ہوا تھا اورچھیڑنے کے


 

 



Total Pages: 89

Go To