Book Name:Mufti e Dawateislami

کہ تمام اساتذہ دورانِ سبق آیت آجانے پر انہی سے اس کے بارے میں پوچھا کرتے تھے ،ہماری نظر سے ایسا مضبوط حافظے والا حافظ کبھی نہیں گزرا ۔ کبھی اساتِذہ سے غیرضَروری سوالات نہیں کئے ،جب کبھی سوال کیا تو ہر ایک اس سوال میں دلچسپی لیتا تھا اور اس سوال کو اہم ترین قرار دیتا تھا ۔ ہم درجہ اسلامی بھائیوں سے کسی مسئلے پر اختلاف ِ رائے ہونے کی صورت میں اپنے مؤقف کو پُر اعتماد طریقے سے بیان ضرور کرتے تھے لیکن کسی کی تَحْقِیْر یا تَجْہِیْل ہرگز نہیں فرماتے تھے۔ دورانِ طالبُ العلمی جب پِیریڈ خالی ہوتا قرآن مجید کی تلاوت شروع فرمادیتے ان کے ہم درجہ اسلامی بھائیوں نے ان سے متأثرہوکر ان سے تجوید وقراء ت کے اصولوں کے مطابق قرآن پاک پڑھنا شروع کردیا کیونکہ یہ حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھّے قاری بھی تھے۔انہی میں سے ایک اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ میں پڑھنے کے ساتھ ساتھ شام کے وقت تدریس بھی کرتا تھا ۔ جب کبھی بھی میں نے ان سے کسی سبق کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے کبھی بیزاری کا اظہار نہیں کیا بلکہ بہت شوق اور لگن سے میرے سُوالات کے جوابات دئیے ۔ان کے کردار کی بلندی کی بناء پر ہمارا ان کے بارے میں یہی حسنِ ظن ہے کہ یہ اللہ عزوجل کے ولی تھے۔‘‘(انتہی)

{اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو۔۔ا ور۔۔ اِن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہ وسلَّم }

تقریباً چار ہزار فتاویٰ لکھے :

مفتی ٔ دعوتِ اسلامی حافظ محمد فاروق العطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی نے فتویٰ نویسی


 

 



Total Pages: 89

Go To