Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     (  1) سیدنا عمرفاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مسلمان ہونے پر چالیس کی تعداد مکمل ہوئی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے سورۂ انفال کی آیت نمبر ۶۴ نازل فرمائی ۔  (  [1])  (  2) آپ کے قبولِ اسلام پر فرشتوں نے خوشیاں منائیں ۔  (  [2])  (  3) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ جبریلِ امین نے مجھے بتایا :  حضرت عمر کی وفات پر دِینِ اسلام روئے گا ۔  (  [3])

سوال      حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے سورۂ بقرہ  کی تفسیر کتنے سال میں پڑھی؟

جواب     آپ نے 12سال میں سورۂ بقرہ پڑھی اور تفسیر مکمل ہونے پر شکرانے میں ایک اونٹ ذبح فرمایا ۔  (  [4])

سوال      سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو کس صحابی نے غسل دیا؟

جواب     آپ کے بڑے صاحبزادے حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے غسل دیا ۔  (  [5])

سوال      سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوقبرمیں اتارنے والے صحابۂ  کرام کے نام بتائیے ؟

جواب     (  1) حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر (  2) حضرت سیدنا عثمانِ غنی (  3) حضرت سیدنا سعید بن زَید (  4) حضرت سیدنا صُہَیب بن سِنان اور  (  5) بعض روایتوں میں حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا نام بھی آیا ہے ۔  (  [6])

سَیِّدُنا  عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ

سوال      مسلمانوں میں سب سے پہلے کس نے  اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ ہجرت کی تھی؟

جواب     سب سے پہلے حضرت سیدناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی زوجہ شہزادیٔ رسول حضرت سیدتنارُقَیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی ، بقیہ تمام مہاجرین ان کے بعد ہجرت کرکے حبشہ پہنچے تھے ۔ اور ان کے لئے سرکارِ دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں میاں بیوی کے ساتھ ہو اور حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام  کے بعد عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کے لئے ہجرت کی ہے  ۔  (  [7])

سوال      بیعتِ رضوان میں کس صحابی کی طرف سے حضورنبیِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خود بیعت فرمائی تھی  ؟

جواب     وہ صحابی حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔  بیعتِ رضوان کے موقع پرآپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبیِ مکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قاصد بن کر مکۂ  مکرمہ گئے ہوئے تھے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا  :  بے شک عثمان اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کے کام میں ہے ۔  پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ پر رکھ کر فرمایا :  یہ عثمان کی طرف سے ہے ۔  (  [8])

سوال      کون سے صحابی غیر حاضری کے باوجودشرکائے بدر میں شامل ہیں ؟

جواب     وہ حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔  جنگ بدر کے دنوں میں آپ کی زوجہ شہزادیٔ رسول حضرت سیدتنارقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  زیادہ بیمار تھیں تو حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت سیدناعثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ان کی تیمارداری کے لئے مدینہ طیبہ میں رہنے کا حکم دیا اور جنگِ بدر میں جانے سے روک دیا ، جس دن فتح بدر کی خبر مدینہ منورہ پہنچی اسی دن شہزادیٔ رسول کا انتقال ہوا ۔  حضرت سیدناعثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  اگرچہ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے مگرحضورتاجدارِ دوجہاںصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں جنگِ بدر کے مجاہدین میں شمار فرمایا اور مجاہدین کے برابر مالِ غنیمت میں سے حصہ بھی عطا فرمایا ۔  (  [9])

سوال      حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہرجمعہ کو کیا خاص عمل کرتے تھے ؟

جواب     امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  :  اسلام لانے کے بعد میں نے ہر جمعہ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے ایک غلام آزاد کیا ، اگر اس وقت ممکن نہ ہوا تو بعد میں آزاد کیا ۔  (  [10])

سوال      سیدنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی والدہ کانام بتائیے اور ان کا حضورنبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کیا رشتہ تھا؟

 



[1]     معجم کبیر ، ۱۲ /  ۴۷ ، حدیث : ۱۲۴۷۰ ۔

[2]     ابن ماجہ ، کتاب السنة ، باب فضل عمر ، ۱ /  ۷۶ ، حدیث : ۱۰۳ ۔

[3]     معجم کبیر ، ۱ /  ۶۷ ، حدیث : ۶۱ ۔

[4]     شرح المؤطا للزرقانی ، کتاب القران ، باب ماجاء فی القرآن۲ /  ۲۹ ، تحت الحدیث : ۴۸۰ ۔

[5]     اسد الغابة ، رقم۳۸۲۴

Total Pages: 122

Go To