Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

ربیع الاول یا جمادی الاول 10ہجری  میں وفات پائی ۔  (  [1])

سوال      پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے جسمِ اقدس کا رنگ کیسا تھا؟

جواب     نورانی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسمِ اقدس کا رنگ ’’گورا سپید‘‘ تھا ، گویا کہ آپ کا مقدس بدن چاندی سے ڈھال کر بنایا گیا تھا ۔  (  [2])

سوال      حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جسمِ اطہر میں  ’’مہرِ نبوت‘‘ کس جگہ واقع تھی؟

جواب     حضور تاجدارِ انبیاومرسلین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مقدس شانوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت تھی ۔  (  [3])

سوال      حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دن رات کو کتنے حصّوں میں تقسیم فرمایا ہوا تھا؟

جواب     حضورتاجدارِ ختمِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دن رات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا ۔ ایک حصہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کے لیے ، دوسرا عام مخلوق کے لیے اور تیسرا اپنی ذات کے لیے ۔  (  [4])

سوال      حضورنبیِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس خاتون سے یہ جملہ کہا تھا :   اَنْتِ اُمِّیْ بَعْدَ اُمِّیْ یعنی میری سگی ماں کے بعدآپ  میری ماں ہو ۔

جواب     یہ بات حضرت اُمِّ ایمن  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے فرمائی تھی کیونکہ حضرت آمنہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے  انتقال کے بعد حضورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پرورش کی  سعادت آپ ہی کے حصے میں آئی تھی ۔  (  [5])

سوال      کیا 1438سال پہلے بھی جھنڈے کے ساتھ جلوس نکلا تھا؟

جواب     جی ہاں ! جب پیارے آقا ، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرماکر ’’موضَعِ غَمِیم‘‘کے قریب پہنچے تو بُریدہ اسلمی ، قبیلہ بنی سہم کے 70سوار لے کر مَعَاذَاللہگرفتار کرنے آئے ، مگررحمتِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ فیضِ آثار سے خود ہی محبتِ شاہِ ابرار میں گرفتار ہوکر پورے قافلے سمیت مشرف بہ اسلام ہوگئے اور اپنا عمامہ سر سے اتار کر نیزے پر باندھ لیا اوریوں جھنڈے کے ساتھ جلوس کی صورت میں مدینۂ منورہ میں داخل ہوئے ۔  (  [6])

فَضَائِل وخَصَائِص ومُعْجِزَات

سوال      احمد اور محمد نام رکھنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حدیثِ پاک میں ہے کہ قیامت کے دن دوبندوں کو جنت میں جانے کا حکم ہوگا تو وہ عرض کریں گے :  یَااَللہ عَزَّ  وَجَلَّ !  ہم کس سبب سے جنت کے قابل ہوئے ، ہم نے تو جنت والا کوئی عمل نہیں کیا؟ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا :  جنت میں داخل ہوجاؤ کیونکہ میں نے اپنے ذِمَّۂ کرم پرلیا ہے کہ جس کا نام محمد یا احمد ہوگا وہ دوزخ میں نہیں جائے گا ۔  (  [7])

سوال      وہ کونسا اسم مبارک ہے جو دنیا کی پیدائش سے حضورامامُ الانبیاء صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہری تشریف آوری تک کسی کا نہ ہوا؟

جواب     حضورِ اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک اسم مبارک’’احمد‘‘ہے ، آپ سے پہلے جب سے دنیا پیدا ہوئی کسی کا یہ نام نہ تھا تاکہ اس بات میں کسی کو شک وشبہ کی گُنجائش نہ رہے کہ کُتُبِ سابقہ اِلہامِیَّہ میں جس اَحمد کا ذِکر ہے وہ آپ ہی کی ذاتِ عالی ہے ۔  (  [8])

سوال      حدیثِ پاک کی روشنی میں بتائیے کہ سب سے پہلے کون سی چیز بنائی گئی ؟

جواب     حضرت سیّدُنا جابر بن عبداللہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی  :  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے بتائیے کہ سب سے پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے کیاچیز بنائی؟ ارشاد فرمایا : اے جابر ! بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات سے پہلے تیرے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کا نور اپنے نور سے پیدا فرمایا ۔  (  [9])

سوال      قبولِ اسلام سے پہلے حضرت سیِّدُناابوسفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے شاہِ روم کے دربار میں حضور نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بارے میں کیا کہا تھا؟

جواب     انہوں نے کہا : ”ھُوَ فِیْنَا ذُوْ نَسَبٍ یعنی  وہ ہمارے درمیان عالی خاندان والے ہیں ۔ “حالانکہ اس وقت وہ آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بدترین دشمن تھے ۔  (  [10])

سوال      پاکیزگیٔ مصطفیٰ کے متعلق حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کیا فرمایا؟

جواب   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا : میں نے کبھی کوئی عنبر ، مشک یا کوئی اور چیز ایسی نہیں سونگھی جس کی مہک پیارے آقا ، مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مہک



[1]     مرآۃ المناجیح ، ۲ /  ۳۸۴ ۔

[2]     ترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ، ۵ /  ۰۵  ۵ ، حدیث : ۱۲ ۔

[3]     ترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی خاتم النبوة ، ۵ /  ۵۰۶ ، حدیث : ۱۷ ۔

[4]     سیرتِ مصطفیٰ ، ص۵۸۶ ۔

[5]     مواھب اللدنیۃ ، المقصد الاول ، ذکر حضانتہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ۱ /  ۹۷ ۔

[6]     وفاء الوفا ، الباب الثالث فی اخبار سکانھا ۔ ۔ ۔ الخ ، الفصل التاسع فی ھجرة النبی ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۲۴۳ ۔