Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

لے تو اس کا یہ عمل حرام ہے اور اگرکوئی ان کی تاثیر کو حقیقی نہ سمجھے اور نہ ہی ان سے مدد لے بلکہ اپنے معاملات میں ان کی رعایت کرے تو اس کا یہ عمل توکل کے خلاف ضرور ہے ۔  (  [1])

سوال      اِس اُمّت میں کون سی تین چیزیں لازمی رہیں گی؟

جواب     حضور نبیٔ غیب دان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  میری اُمّت میں تین چیزیں لازماً رہیں گی  :  بد فالی ، حَسَد اور بَد گمانی  ۔  (  [2])

سوال      حَسَد ، بَدگمانی اوربدفالی  کا تدارک کیسے کیا جائے ؟

جواب     حدیث شریف میں ہے :  جب تم حسد کرو تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے اِسْتِغْفار کرو اور جب تم کوئی بد گمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم بد فالی نکالو تو اس کام کو کر لو ۔  (  [3])

سوال      بدشگونی کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں؟

جواب     (  1) بَدشگونی کا شکار ہونے والوں  کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر اِعتماد اور توکُّل کمزور ہو جاتا ہے ۔   (  2) اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے بارے میں  بَدگمانی پیداہوتی ہے ۔   (  3) تقدیر پر ایمان کمزور ہونے لگتا ہے ۔   (  4) شیطانی وَسْوَسوں  کا دروازہ کھلتاہے ۔  (  5) بَدفالی سے آدمی کے اندر توہُّم پرستی ، بُزدلی ، ڈر اور خوف ، پَست ہِمَّتی اورتنگ دلی پیدا ہوجاتی ہے ۔  (  [4])

سوال      مخصوص دنوں اور تاریخوں میں شادی نہ کرنا کیسا ہے ؟

جواب     مُجَدِّدِ اَعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے اسی طرح کا سوال ہوا کہ لوگ 3 ، 13 ، 23 اور 8 ، 18 ، 28 اسی طرح جمعرات ، بدھ اور اتوار  کو شادی وغیرہ نہیں کرتے اور اعتقاد یہ رکھتے ہیں کہ سخت نقصان پہنچے گاان کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے جواب دیا  :  یہ سب باطل وبے اصل ہے ۔  (  [5])

سوال      ماہِ صفر کو منحوس سمجھنا کیسا ہے ؟

جواب     صَدْرُالشَّرِیْعَہ مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی لکھتے ہیں   : ماہِ صفر کو لوگ منحوس جانتے ہیں  ، اس میں  شادی بیاہ نہیں  کرتے ، لڑکیوں  کو رُخْصَت نہیں  کرتے اور بھی اس قسم کے کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں  اور سفر کرنے سے گریز کرتے ہیں ، خصوصاً ماہِ صفر کی ابتدائی تیرہ تاریخیں  بہت زیادہ نحس  (  یعنی نُحوست والی) مانی جاتی ہیں  اور ان کو تیرہ تیزی کہتے ہیں  یہ سب جہالت کی باتیں  ہیں ۔ حدیث میں  فرمایاکہ ’’صفر کوئی چیز نہیں ‘‘[6]) یعنی لوگوں  کا اسے منحوس سمجھنا غَلَط ہے ۔  (  [7])

سوال      صفر المظفر پہلی ہجری میں کن کی شادی خانہ آبادی ہوئی؟

جواب     اس مہینے میں حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور خاتونِ جنّت حضرت سیّدتُنا فاطمہ زہرا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی شادی خانہ آبادی ہوئی ۔  (  [8])

حَسَد

سوال      حسد کی مذمت پر کوئی حدیثِ مبارکہ بیان کیجئے ؟

جواب     حضورسیِّدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : حسد ایمان کو اسی طرح تباہ کردیتا ہے جس طرح صَبِر (  ایلوا) شہد کو تباہ کردیتاہے ۔  (  [9])

سوال      ابلیس اپنے چیلوں کو انسانوں سے  کیا کروانے کا کہتا ہے ؟

جواب     حضور نبی پاک ، صاحبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں :  ابلیس  (  اپنے چيلوں سے ) کہتا ہے : انسانوں سے ظلم اور حسد کراؤ کیونکہ یہ دونوں عمل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نزدیک شرک کے مُساوی ہیں ۔  (  [10])

سوال      کس شخص سے حسد کیا جاتا ہے ؟

جواب     حدیث شریف میں ہے :  ہر نعمت والے سے حسد کیا جاتا ہے ۔  (  [11])

سوال      حسد کرنے پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے کن لوگوں کی مذمت فرمائی ؟

جواب   یہودیوں نے حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور مسلمانوں سے حسد کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : ( اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ



[1]     فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۲۲۳ ، ملخصاً ۔

[2]     معجم کبیر ، ۳ /  ۲۲۸ ، حدیث : ۳۲۲۷ ۔

[3]     معجم کبیر ، ۳ / ۲۲۸ ، حدیث : ۳۲۲۷ ۔

[4]     بد شگونی ، ص۲۰ ۔

[5]     فتاویٰ رضویہ ، ۲۳ /  ۲۷۲ ۔

[6]     بخاری ، کتاب الطب ، باب الجذام ، ۴ /  ۲۴ ، حدیث : ۵۷۰۷  ۔

[7]     بہار شریعت ، حصہ ۱۶ ، ۳ /  ۶۵۹ ۔

[8]     الکامل فی التاریخ ، ثم دخلت السنة الثانیة من الھجرة ، ۲ /  ۱۲ ۔

[9]     کشف الخفاء ، ۱ /  ۳۱۷ ، حدیث : ۱۱۲۹ ۔

[10]     مسند الفردوس ، ۱ / ۱۴۴ ، حدیث : ۹۲۳ ۔

[11]     معجم کبیر

Total Pages: 122

Go To