Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

سوال      مال کے سبب کسی  مال دارکے لئے تواضع کرنے کی کیا وعید ہے ؟

جواب     روایت میں ہے کہ جس نے کسی مال دار کے لئے اس کے مال کے سبب تواضع کی ا س کا دو تہائی دین جاتا رہا ۔  (  [1])

سوال      لوگوں کے درمیان عاجزی کے الفاظ استعمال کرنا کب منع ہے ؟

جواب     اپنے لئے عاجزی کے الفاظ کااستعمال اُس صورت میں ریا کاری ہے جبکہ رِیاکاری کی نیّت ہو اوریہ گناہ ہے ا ور اسی طرح اگر صرف زبان سے عاجزی کے الفاظ کہہ رہا ہو اور دل میں یہ کیفیت نہ ہو تو مُنافَقت ہے اور یہ بھی گناہ ہے ۔  (  [2])

تَوْبَہ و   اِسْتِغْفَار

سوال      گناہ سرزد ہوجانے پرتوبہ کاقانون بنانے میں کیا حکمت ہے ؟

جواب     اسلام میں توبہ کا قانون بنانا عین حکمت و عِلْم پر مَبنی ہے ۔  جن دِینوں میں توبہ نہیں اُن کے ماننے والے گناہ پر زیادہ دلیر ہوتے ہیں کیونکہ مایوسی جُرم پر دلیر کر دیتی ہے اور معافی کی امید توبہ پر ابھارتی ہے ۔  جس شخص کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی ہو اسے سب سے جُدا قید میں رکھا جاتا ہے تا کہ کسی اور کو قتل نہ کر دے کیونکہ وہ اپنی زندگی سے مایوس ہوچکا ہے اور جسے ایک مقررہ مدت تک سزا کے بعد رہائی کا حکم ہو اسے دیگر مجرموں کے ساتھ قید میں رکھا جاتا ہے ، اس سے یہ خطرہ نہیں ہوتا کیونکہ اسے رہائی کی امید ہے ۔  (  [3])

سوال      جوانی میں  توبہ کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حدیث پاک میں ہے : جوانی میں توبہ کرنے والا اللہ عَزَّ  وَجَلَّکا محبوب ہے ۔  (  [4])  منقول ہے کہ ایک نوجوان جب توبہ کرکے اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف رجوع کرتا ہے تواس کے لئے زمین وآسمان کے درمیان 70قندیلیں روشن کی جاتی ہیں اور ملا ئکہ صف بستہ ہوکربلندآوازسے تسبیح  وتقدیس کرتے ہوئے اسے مبارک باد دیتے ہیں ۔  ابلیس لعین سُن کر کہتا ہے : کیاخبرہے ؟ آسمان سے ایک مُنادِی ندا دیتا ہے :  ایک بندے نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے صلح کرلی ہے ۔ تو ابلیس ملعون اس طرح پگھلتا ہے جس طرح نمک پانی میں پگھلتاہے ۔  (  [5])

سوال      سچی توبہ کرنے والے کے متعلق حدیث شریف میں کیا فرمایا گیا ہے ؟

جواب     حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَاذَنْبَ لَہیعنی گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اُس نے کوئی گناہ نہیں کیا ۔  (  [6])

سوال      سچی توبہ کرنے والے کو بارگاہِ الٰہی سے کیا انعام ملتا ہے ؟

جواب     جب بندہ اپنی توبہ میں سچا ہوتا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کِرَاماً  کَاتِبِیْن  (  یعنی اعمال لکھنے والے فرشتوں) کوان کے لکھے ہوئے اَعمال بُھلا دیتا ہے اور زمین کو حکم فرماتا ہے کہ میرے بندے  کا گناہ چھپا دے  ۔  (  [7])

سوال      کسی کو گناہ میں مبتلا دیکھ کرکیا کہنا چاہیے ؟

جواب     حضرت سیدنا ابو مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا : جب تم اپنے کسی بھائی کو دیکھو کہ کسی گناہ میں مبتلاہوگیا ہے تو اُس کے خلاف شیطان کے مددگار نہ بنو کہ تم یوں کہو :  اللہتعالیٰ اسے رسوا کرے ، اللہتعالیٰ اِس کا بُرا کرے ۔  بلکہ یوں کہو :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرمائے اوراس کی مغفرت فرمائے  ۔  (  [8])

سوال      گناہ کے بعد بھی توبہ نہ کی جائے تو اس کا دل پر کیا اثر پڑتا ہے ؟

جواب     حضور نبی غیب دان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں :  مؤمن جب گناہ کرتاہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتاہے پھر اگر وہ توبہ کرے اورمغفرت طلب کرے تو اس کا دل صاف ہوجاتاہے اوراگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتاہے ۔  (  [9]) یعنی وہ سیاہ نکتہ پورے دل کو ڈھانپ لیتا ہے اور یہ وہی زنگ ہے جس کا ذکر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یوں فرمایا ہے : ( كَلَّا بَلْٚ- رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ(۱۴))  (  پ۳۰ ، المطففین : ۱۴) ترجمۂ کنزالا یمان : کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے ۔

سوال      توبہ اور استغفار میں کیا فرق ہے ؟

 



[1]     شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب ، فصل فی الذکر مافی الاوجاع     الخ ، ۷ /  ۲۱۳ ، حدیث : ۱۰۰۴۳ ۔

[2]     نیکی کی دعوت ، ص۸۰ ۔

[3]     تفسیر صراط الجنان ، پ۴ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۷ ، ۲ /  ۱۶۳ ۔

[4]     موسوعة ابن ابی الدنیا ، کتاب التوبة ، ۳ /  ۴۲۲ ، حدیث : ۱۸۴ ۔

[5]     الروض الفائق ، المجلس الرابع  فی مناقب الصالحین ، ص۳۵ ۔

[6]     ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر التوبة ، ۴ /  ۴۹۱ ، حدیث : ۴۲۵۰ ۔

[7]     الروض الفائق ، المجلس الثانی فی قولہ تعالی : الرحمٰن علّم القراٰن ، ص۱۵ ۔

[8]     مکارم الاخلاق للطبرانی ، باب فضل الصبر والسماحة ، ص۳۲۴ ، حدیث : ۳۵ ۔

[9]     ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، باب ذکر الذنوب ، ۴ / ۴۸۸ ، حدیث : ۴۲۴۴ ۔



Total Pages: 122

Go To