Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

سوال      اگر کوئی رشتہ داروں سے مالی تعاون نہ کرسکے تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟

جواب     حضرت سیدنا امام فقيہ ابو الليث سمرقندی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہيں : اگر کسی شخص کے رشتہ دار قريب ہوں تو اس پر لازم ہے کہ تحائف و ملاقات کے ذريعہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کرے ، اگر مالی طور پر صلۂ رحمی پر قادر نہ ہو تو ان سے مِلا کرے اور ضرورتاً ان کے کاموں میں ہاتھ بٹائے اور اگر دور ہوں تو ان سے مُراسَلت  (  یعنی خط وکتابت) کرے اور  (  سفر کرکے ) ان کے پاس جانے کی طاقت رکھتا ہوتو  (  خط لکھنے سے ) خود جانا افضل ہے ۔  (  [1])

سوال      کیا ہررشتہ دار کے ساتھ ایک ہی طرح کی صلہ ٔرحمی کا حکم ہے ؟

جواب     جی نہیں !  رِشتے میں چُونکہ مختلف دَرَجات ہیں (  اسی طرح) صِلَۂ رِحم (  یعنی رشتے داروں سے حُسنِ سُلوک) کے دَرَجات میں بھی تفاوُت (  یعنی فرق) ہوتا ہے ۔  والِدَین کا مرتبہ سب سے بڑھ کر ہے ، ان کے بعد ذُورِحم مَحرم کا ،  (  یعنی وہ رشتے دار جن سے نسبی رشتہ ہونے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو) ان کے بعد بَقِیَّہ رشتے والوں کا علیٰ قَدر ِمَراتِب  (  یعنی رشتے میں نزدیکی کی ترتیب کے مطابِق) ۔   (  [2])

سوال      قطع رحمی دعاؤں کی قبولیت پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے  ؟

جواب     حضرتِ سیِّدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  ایک بارصبح کے وَقت مجلس میں تشریف فرما تھے ، اُنہوں نے فرمایا :  میں قطع رحمی کرنے (  رشتہ توڑنے ) والے کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قسم دیتا ہوں کہ وہ یہاں سے اُٹھ جائے تا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دُعا کریں کیونکہ قطع رحمی کرنے والے پر آسمان کے دروازے بند رہتے ہیں ۔  (  [3]) یعنی اگر وہ یہاں موجود رہے گا تو رحمت نہیں اُترے گی اور ہماری دعاقَبول نہیں ہو گی ۔

سوال      قطع رحمی کے حوالے سے قرآنِ کریم میں کیافرمایاگیا ہے ؟

جواب     قطع رحمی کی مذمت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرماتاہے :  (  1) ( فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ(۲۲)اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ(۲۳)) (  پ۲۶ ، محمد : ۲۲ ، ۲۳) ترجمۂ کنز الایمان :  تو کیا تمہارے یہلچّھن (  انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔  (  2) ( الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)) (  پ۱ ، البقرة : ۲۷) ترجمۂ کنز الایمان  :  وہ جواللہکے عہد کو توڑ دیتے ہیں پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں وہی نقصان میں ہیں ۔  (  3) ( اُولٰٓىٕكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَهُمْ سُوْٓءُ الدَّارِ(۲۵))  (  پ۱۳ ، الرعد :  ۲۵) ترجمۂ کنز الایمان  :  ان کا حصّہ لعنت ہی ہے اور ان کا نصیبہ برا گھر  ۔

سوال      کن دو گناہوں کی سزا دنیا میں بھی ملتی ہے ؟

جواب     حضور مکی مدنی سلطان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : ظلم اور قطع رحمی کے علاوہ کوئی گناہ ایسا نہیں جس کے مُرتکب کو اللہ عَزَّوَجَلَّآخرت میں سزا دینے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی سزا دینے میں جلدی کرتا ہو ۔  (  [4])

سوال      کون سے لوگ جنت کی خوشبو تک سے محروم رہیں گے ؟

جواب     حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :   والدين کی نافرمانی سے بچتے رہوجنت کی خوشبو 1000سال کی مسافت سے سونگھی جا سکتی ہے مگر خدا عَزَّ  وَجَلَّکی قسم !  والدين کا نافرمان ، قطع رحمی کرنے والا ، بوڑھا زانی اور تکبر کی وجہ سے تہبندلٹکانے والا جنت کی خوشبونہ پاسکے گا ، بے شک کبريائی تمام جہانوں کے پروردگار اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے ہے ۔  (  [5])

صبر وشکر

سوال      قرآنِ کریم کی روشنی میں صبرکی اہمیّت وفضیلت بیان کیجئے ؟

جواب     درج ذیل آیاتِ مبارکہ سے صبرکی اہمیت وفضیلت خوب واضح ہوتی ہے :   (  1) ( فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ) (  پ۲۶ ، الاحقاف :  ۳۵) ترجمۂ کنز الایمان : تم صبر کرو جیسا ہمّت والے رسولوں نے صبر کیا ۔  (  2) ( اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ(۱۵۳)) (  پ۲ ، البقرۃ : ۱۵۳) ترجمۂ کنز الایمان : بے شک اللہ صابروں کے ساتھ ہے ۔  (  3) ( وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا )  (  پ۱۴ ، النحل :  ۹۶) ترجمۂ کنز الایمان : اور ضرور ہم صبر کرنے والوں کوان کا صلہ ديں گے ۔

سوال      حضرت علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے صبر کے متعلق کیا فرمایا ہے ؟

 



[1]     تنبیہ الغافلین ، باب صلة الرحم ، ص۷۳ ۔

[2]     رد المحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹ /  ۶۷۸ ، ماخوذا ۔

[3]     معجم کبیر ، ۹ /  ۱۵۸ ، حدیث : ۷۸۹۳ ۔

[4]