Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

اسلام قبول کرنے کے بعد حقوق میں تم دونوں برابر ہو ۔  (  [1])

سوال      عدل وانصاف  نہ ہونے کی وجہ سے کونسی معاشرتی  خرابیاں جنم لیتی ہیں؟

جواب     جس معاشرے میں عدل وانصاف کی بالادستی نہ ہو وہاں ناانصافی ، ظلم وجبر ، قتل و غارت گری اور طرح طرح کی برائیاں عام ہوجاتی ہیں اور معاشرہ جرائم کا گھر بن جاتا ہے ۔

صِلۂ رحمی

سوال      والدین کے ساتھ صلۂ رحمی کے حوالے سے قرآن پاک میں کیا حکم دیا گیا ہے ؟

جواب     اللہتعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ( وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا(۲۳)وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ(۲۴)) (  پ۱۵ ، بنٓی اسرآءیل : ۲۳ ، ۲۴) ترجمۂ کنزالایمان :  اورتمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یادو نوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنا اوران کے لئے عا جزی کابازوبچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن (  بچپن) میں پالا ۔

سوال      صلۂ رحمی بارگاہِ ربُّ العزت میں کیا التجاکرتی ہے ؟

جواب     حضورتاجدارِ ختمِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : صلۂ رحمی رزق کو بڑھاتی اور عمر میں زیادتی کرتی ہے ، صلۂ رحمی عرش سے لٹکی ہوئی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں التجاکرتی ہے  : اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !  تُو اسے مِلاجو مجھے ملائے اور تُو اسے کاٹ جو مجھے کاٹے ۔ تو اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتاہے  : میری عزت وجلال کی قسم !  میں ضرور اس کو ملاؤں گاجو تجھے ملائے گااور ضرور اسے قطع کر وں گاجو تجھے قطع کرے گا ۔  (  [2])

سوال      کن افعال کی جزا وسزا بہت جلدی مل جاتی ہے ؟

جواب     اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  اے مسلمانوں کے گروہ !  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو اور آپس میں صلۂ رحمی کرو  ! کيونکہ صلۂ رحمی سے زيادہ جلدکسی چیزکا ثواب نہيں ملتا ، ظلم سے بچتے رہو کيونکہ ظلم سے زیادہ جلد کسی گناہ کی سزا نہيں ملتی ۔  (  [3])

سوال      کن لوگوں کی  وجہ سے دنیا آباد ہے اور مال میں اضافہ ہوتا ہے ؟

جواب     حضرتِ سیدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ  حضورنبیٔ غیب دان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا  : بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ  کچھ لوگوں کی وجہ سے دنیا کو آباد رکھتا ہے ، ان کی بدولت مال میں اضافہ کرتا ہے اور جب سے انہیں پیدا فرمایا ہے ان کی طرف ناپسندیدہ نظر سے نہیں دیکھا ۔ عرض کی گئی : یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  وہ کیسے ؟ فرمایا  : اُن کے اپنے رشتہ داروں سے صلۂ رحمی کرنے کی وجہ سے ۔  (  [4])

سوال      دَرَجات کو بلند کرنے والے چار اعمال کون سے ہیں ؟

جواب     حضرتِ سیدنا عُبادہ بن صامت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ درجات کو بلند فرماتا ہے ؟ حضراتِ صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی :  یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  ضروربتائیے ۔ ارشاد فرمایا :  جو تمہارے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے  تم اُس کے ساتھ بُردباری سے پیش آؤ ، جو تم پر ظلم کرے تم اُسے معاف کردو ، جو تمہیں محروم کرے تم اُسے عطا کرو اور جو تم سے قطع تعلقی کرے تم اُس کے ساتھ صلۂ رحمی کرو ۔  (  [5])

سوال      روزِمحشر حساب میں آسانی دلانے والی تین چیزیں کونسی ہیں؟

جواب     حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : جس میں یہ تین باتیں ہوں گی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا حساب آسان طریقے سے لے گا اور اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا :   (  1) جو تمہیں محروم کرے تم اس کو عطا کرو  (  2) جوتم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو  اور  (  3) جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے رشتہ جوڑو  ۔  (  [6])

 



[1]     فتوح الشام ، ذکر فتح حمص ، ۱ /  ۱۰۰ ، ماخوذاً ۔

[2]     قرة العیون ومفرح القلب المحزون ، الباب الثامن فی عقوبة قاتل النفس وقاطع الرحم ، ص۴۰۱ ، معجم اوسط ، ۱ /  ۲۷۳ ، حدیث : ۹۴۳ملتقطا ، مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الادب ، باب ماقالوافی البر وصلة الرحم ، ۶ / ۹۷ ، حدیث : ۲ ۔

[3]     معجم اوسط ، ۴ /  ۱۸۷ ، حدیث : ۵۶۶۴ ۔

[4]     معجم کبیر ، ۱۲ /  ۶۷ ، حدیث : ۱۲۵۵۶ ۔

[5]     مسند بزار ، مسند عبادة بن الصامت ، ۷ / ۱۶۱ ، حدیث : ۲۷۲۷ ، بتغیر ۔

مجمع الزوائد ، کتاب البر والصلة ، باب مکارم الاخلاق والعفو عمن ظلم ، ۸ /  ۳۴۵ ، حدیث : ۱۳۶۹۴ ۔

[6]     معجم اوسط ، ۱ /  ۲۶۳ ، حدیث : ۹۰۹ ۔



Total Pages: 122

Go To