Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

اسی کو نصیب ہو گا جو دنیا میں (  خوفِ خدا کے سبب) سب سے زیادہ رونے والا ہو اور بروز ِ قیامت سب سے زیادہ ستھرا ایمان اسی کا ہوگا جو دنیا میں زیادہ غور وفکر کرنے والا ہے ۔  [1])

سوال      جو لوگوں کے سامنے خوفِ خدا کا اِظہار زیادہ کرے اسے کیا قراردیا گیا ہے ؟

جواب     حدیث شریف میں ہے :  جو لوگوں کو اس سے زیادہ خوفِ خدا دکھائے جتنا اس کے پاس ہے تو وہ منافق ہے ۔  (  [2])

سوال      کسی صحابی کے خوفِ خدا کے متعلق بتائیے ؟

جواب     حضرت سیدنا ابو ذر غفاریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے غلبۂ خوف کے وقت ارشاد فرمایا :  خدا کی قسم !  اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے جس دن مجھے پیدا فرمایا تھا کاش ! اُس دن وہ مجھے ایسادرخت بنادیتا جس کو کاٹ دیاجاتا اور اس کے پھل کھالئے جاتے ۔  (  [3])

سوال      کیا جمادات پر بھی خوفِ خدا کی کیفیت ہوتی ہے ؟

جواب     جی ہاں !  حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام ایک پتھر کے قریب سے گزرے جس کے دونوں طرف سے پانی بہہ رہا تھا ۔ کسی کو معلوم نہ تھا کہ یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے پتھر سے دریافت فرمایا :  اے پتھر !  یہ پانی کہاں سے آرہا ہے اور کہا ں جائے گا؟ اس نے عرض کی  :  جو پانی میری سیدھی جانب سے آرہا ہے وہ میری دائیں آنکھ کے آنسو ہیں اور الٹی جانب سے آنے والا پانی میری بائیں آنکھ کے آنسو ہیں ۔ آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے پوچھا  : تم یہ آنسو کس لئے بہا رہے ہو؟ پتھر نے جواب دیا :  اپنے رب عَزَّوَجَلَّکے خوف کی وجہ سے کہ کہیں وہ مجھے جہنم کا ایندھن نہ بنا دے  ۔  (  [4])

سوال      کن چیزوں کے ذریعے خوفِ خدا پیدا ہوتا ہے ؟

جواب     خوفِ خداکی عملی کوشش کے سلسلے میں درجِ ذیل چیزیں مدد گار ثابت ہوں گی ۔  اِنْ شَآءَاللهُ عَزَّ  وَجَلَّ (  1) رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ اوراس نعمت کے حصول کی دعا کرنا  (  2) قرآن ِعظیم واحادیث مبارکہ میں وارد ہونے والے خوفِ خدا کے فضائل پیش ِنظر رکھنا (  3) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غور وتفکر کرنا  (  4) خوف ِ خدا کے حوالے سے اَسلاف کے حالات کا مطالعہ کرنا  (  5) خود احتسابی کی عادت اپنانے کی کوشش کرتے ہوئے فکرِ مدینہ کرنا (  6) ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرنا جو اِس صفتِ عظیمہ سے مُتَّصِف ہوں ۔  (  [5])

عدل و انصاف

سوال      عدل کسے کہتے ہیں؟

جواب     عدل اَقوال اور اَفعال میں انصاف و مُساوات کا نام ہے ۔  (  [6])

سوال      قرآنِ کریم میں عدل و انصاف کے بارے میں کیا حکم دیا گیا؟

جواب     قرآنِ کریم میں متعدد مقامات پر عدل و انصاف کا حکم دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ( اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِؕ-) (  پ۵ ، النساء :  ۵۸)  ترجمۂ کنزالایمان : ’’جب تم لوگوں میں فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو ۔ ‘‘ ایک مقام پرارشاد فرمایا : ( وَ اَقْسِطُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ(۹)) (  پ۲۶ ، الحجرات :  ۹) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور عدل کرو بے شک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں ۔ ‘‘

سوال      احادیث میں عدل کرنے والوں کی کیا فضیلت بیان کی گئی ہے ؟

جواب      حضور امامُ العادِلین ، راحت العاشقین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا :  بے شک عدل و انصاف کرنے والے اللہتعالیٰ کے دربار میں نور کے منبروں پر ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنے فیصلوں میں ، اپنے گھر والوں کے بارے میں اور ان تمام کاموں میں جن کے وہ والی بنے ہیں عدل کرتے ہیں ۔  (  [7]) نیزبخاری شریف کی حدیث پاک کے مطابق بروزقیامت سایۂ عرش پانے والوں میں سے ایک عادل حکمران بھی ہے ۔  (  [8])

سوال      اسلام میں عدل وانصاف  کی کیا اہمیت ہے ؟

جواب   اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چاہے عدل و انصاف کی بات آدمی کے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو مگر اس وقت بھی اسے عدل کا حکم دیا گیا ۔ ارشادِ باری تعالیٰ



[1]     تنبیہ الغافلین ، باب التفکر ، ص۳۰۸ ۔

[2]     مسند فردوس ، ۲ /  ۳۰۲ ، حدیث : ۶۲۹۱ ۔

[3]     مصنف ابن ابی شیبة ، کتاب الزھد ، کلام ابی ذر رضی اللہ عنہ ، ۸ /  ۱۸۳ ، حدیث : ۱ ۔

[4]     شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالی ، ۱ /  ۵۲۸ ، حدیث : ۹۳۲ ۔

[5]     خوف خدا ، ص۲۳ ۔

[6]     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۴ ، النحل ، تحت الآیۃ : ۹۰ ، ۵ / ۳۷۱ ۔

[7]     مسلم ، کتاب الامارة ، باب فضیلة الامام العادل ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۷۸۳ ، حدیث : ۴۷۲۱ ۔

[8]     بخاری ، کتاب الاذان ، باب من جلس فی المسجد ینتظر الصلاة ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ /  ۲۳۶ ، حدیث : ۶۶۰ ۔



Total Pages: 122

Go To