Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     حضرت سیِّدُناامام شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’ایک بار کے علاوہ میں نے 16سال سے کبھی پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا کیونکہ شکم سَیْری بدن کو بھاری ، دل کو سخت اورعقل کو زائل کر تی ہے نیزنیند لاتی اور عبادت میں کمزوری کا باعث ہے ۔ ‘‘[1])

سوال      کھڑے ہوکر کھانے کاطِبِّی نقصان کیا ہے ؟

جواب     اِٹلی کے ایک ماہرِ اَغذِیہ ڈاکٹرکا کہنا ہے  :  کھڑ ے ہوکر کھانا کھانے سے تلی اور دل کی بیماریاں نیزنَفسیاتی اَمراض پیدا ہوتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات انسان ایسا پاگل ہو جاتا ہے کہ اپنوں تک کو پہچان نہیں پاتا ۔  (  [2])

سوال      کھانے کی پانچ سنتیں  اور آداب بیان کیجئے ؟

جواب     (  1) اپنے آگے سے کھائے  (  2) کوئی ساتھ کھا رہا ہو اُس کے آگے سے نہ کھائے (  3) رِکابی کے درمِیان سے نہ کھائے  (  4) پہلے دسترخوان اُٹھا یا جائے اِس کے بعد کھانے والے اٹھیں ۔  (  افسوس  ! آج کل عُمُوماً الٹا انداز ہے یعنی پہلے کھانے والے اُٹھتے ہیں اِس کے بعد دسترخوان اُٹھایا جاتا ہے )  (  5) دوسرے بھی کھانے میں شامل ہوں تو اُس وَقْت تک ہاتھ نہ روکے جب تک سارے فارِغ نہ ہو جائیں ۔  (  [3])

سوال      ٹیک لگاکر کھانے کے طِبّی نقصانات کیا ہیں؟

جواب     (  1) کھانا اچّھی طرح چبا یا نہیں جا سکے گا اور اس میں لُعاب جس مقدار میں ملنا چاہئے اُتنا نہیں ملے گا جو کہ مِعدے میں جا کرنَشاستہ دار غذاؤں کوہَضم کر سکے اور یوں نِظامِ اِنْہِضام  (  یعنی ہاضِمہ) مُتَأثّرہو گا  (  2) ٹیک لگا کر بیٹھنے سے مِعدہ پھیل جاتا ہے لہٰذا اس طرح غیر ضَرور ی خوراک مِعدے میں چلی جائے گی اور ہاضِمہ خراب ہو گا (  3) ٹیک لگا کر کھانے سے آنتوں اور جگر کو نقصان پہنچتا ہے ۔  (  [4])

سوال      ’’فیضانِ سنت‘‘میں بیان کردہ تنگدستی کے اسباب میں سے 9 اسباب بیان کیجئے ؟

جواب     (  1) بِغیرہاتھ دھوئے کھانا (  2) میّت کے قریب بیٹھ کر کھانا  (  3) نکلا ہوا کھانا کھانے میں دیرکرنا  (  4) جس برتن میں کھانا کھایا ہے اُسی میں ہاتھ دھونا   (  5) خِلال کرتے وَقت جو ریشہ نکلے اسے پھر منہ میں رکھ لینا (  6) زیادہ سونے کی عادت (  7) رات کو جھاڑو دینا  (  8) والدین کو اُن کے نام سے پکارنا (  9) نماز میں سستی کرنا ۔  (  [5])

سوال      کھانے کے بعد انگلیاں چاٹنے کی ترتیب بیان کیجئے ؟

جواب     حضرت سیِّدُناکعب بن عُجْرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ میں نے سرورِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو انگوٹھا ، شہادت والی اور درمِیانی انگلی ملا کر تین اُنگلیوں سے کھاتے دیکھا  ۔ پھر میں نے دیکھا کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں پُونچھنے سے پہلے چاٹ لیا ، سب سے پہلے درمیانی پھر شہادت والی اور پھر انگوٹھا شریف چاٹا ۔  (  [6])

سوال      کھانے کے بعد برتن چاٹنے کی حکمت بتائیے ؟

جواب     حکیمُ الاُمّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : برتن چاٹنے میں کھانے کا ادب ہے ، اِس کو بربادی سے بچانا ہے ، برتن یوں ہی چھوڑ دینے سے اِس پر مکھیاں بھنبھناتی ہیں ، برتن میں لگے ہوئے کھانے کے اَجزاء مَعَاذَاللہ عَزَّ  وَجَلَّ نالیوں ، گندگیوں میں پھینک دیئے جاتے ہیں ، جس سے اُس کی سخْت بے اَدَبی ہوتی ہے ۔  اگر ایک وقت میں ہر فرد چند دانے بھی برتن میں چھوڑ کر ضائِع کر دے تو روزانہ کئی من کھانا برباد ہو گا ۔  غرض یہ کہ برتن چاٹنے میں کئی حکمتیں ہیں ۔  (  [7])

سوال      روٹی کا کنارہ توڑ کر الگ کرلینا اور صرف درمیان کا حصہ کھا لینا کیسا ہے ؟

جواب     روٹی کاکَنارا توڑ کر ڈال دینا اور بیچ کاحصّہ کھا لینا اِسراف ہے ۔ ہاں اگرکَنارے کچّے رہ گئے ہیں ، اِس کے کھانے سے نقصان ہو گا تو توڑ سکتا ہے ، اِسی طرح یہ معلوم ہے کہ روٹی کے کَنارے دوسرے لوگ کھا لیں گے ضائع نہ ہوں گے تو توڑنے میں حرج نہیں ، یہی حکم اس کا بھی ہے کہ روٹی میں جو حصّہ پھولا ہوا ہے اُسے کھا لیتا ہے باقی کو چھوڑ دیتا ہے ۔  (  [8])

لباس انگوٹھی اور زیور

سوال      حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کونسی چادر بہت پسند تھی؟

جواب     حدیثِ پاک میں ہے کہ حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حِبَرہ  (  یعنی دھاری دار یمنی چادر) بہت پسندتھی ۔  (  [9])

سوال      کیا مرد ایسا لباس پہن سکتا ہے جس کے کناروں پر ریشم لگا ہوا ہو؟

 



[1]     حلية الاولیاء ، الامام الشافعی ، ۹ /  ۱۳۵ ، رقم : ۱۳۳۸۶ ۔

[2]     فیضانِ سنّت ، ص۲۳۰ ۔

[3]     فیضانِ سنّت ، ص۲۴۱ ۔

[4]     فیضانِ سنّت ، ص۲۵۳ ۔

[5]     فیضانِ سنّت ، ص۲۶۴ ۔

[6]     معجم اوسط ، ۱ / ۴۴۸ ، حدیث : ۱۶۴۹ ۔

[7]     مرآۃ المناجیح ، ۶ /  ۳۷ ۔

[8]     بہار شریعت ، حصہ ۱۶ ، ۳ /  ۳۷۷ ، ماخوذاً ۔

[9]     بخاری ، کتاب اللباس ، باب البرود ۔ ۔  ۔ الخ ، ۴ / ۵۴ ، حدیث : ۵۸۱۳ ، فیض القدیر ، ۵ /  ۱۰۵ ، تحت الحدیث : ۶۵۰۴ ۔



Total Pages: 122

Go To