Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جائيں گی اور اگر اُس کے پاس نيکياں نہ ہوں گی تو دوسرے کے گناہ لے کر اُس پر ڈالے جائيں گے ۔  (  [1])  (  2) حضورنبیِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے :  جو آدمی اس عَزْم سے قرض ليتا ہے کہ اد انہ کرے گا تووہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے چوربن کر ملے گا ۔  (  [2])

سوال      سود کی حُرمت کب نازِل ہوئی؟

جواب     سود کی حرمت۹ہجری میں نازل ہوئی اور اس کے ایک سال بعد  ۱۰ ہجری میں ’’حِجَّۃُ الْوَداع‘‘کے موقع  پر اپنے خطبوں میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کا خوب خوب اعلان فرمایا ۔  (  [3])

سوال      سود کوکس لئے  حرام قراردیا گیا؟

جواب     سود کو حرام فرمانے میں بہت سی حکمتیں ہیں اِن میں سے بعض یہ ہیں :  (  1) سود میں جو زیادتی لی جاتی ہے وہ مالی معاوضے والی چیزوں میں بغیر کسی عوض کے مال لیا جاتا ہے اور یہ صریح ناانصافی ہے  ۔  (  2) سود کا رَواج تجارتوں کو خراب کرتا ہے کہ سود خور کو بے محنت مال کا حاصل ہونا ، تجارت کی مشقتوں اور خطروں سے کہیں زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے اور تجارتوں کی کمی انسانی مُعاشَرَت کو ضَرَر پہنچاتی ہے ۔  (  3) سود کے رَوَاج سے باہمی محبت کے سُلوک کو نقصان پہنچتا ہے کہ جب آدمی سود کا عادی ہوا تو وہ کسی کو قرضِ حَسَن سے اِمداد پہنچانا گوارا نہیں کرتا ۔  (  4) سود سے انسان کی طبیعت میں درندوں سے زیادہ بے رحمی پیدا ہوتی ہے اور سود خور اپنے مقروض کی تباہی و بربادی کا خواہش مند رہتا ہے ۔  (  [4])

سوال      سودکے معاشرتی زندگی پرکیا نقصانات مُرتَّب ہوتے ہیں؟

جواب     سود والا بے رحم ہوجاتا ہے ، وہ مفت میں کسی کو رقم دینے کا تصوّر نہیں کرتا ، انسانی ہمدردی اس سے رُخصت ہوجاتی ہے ، قرض لینے والا ڈوبے ، مرے ، تباہ ہو یہ بَہَر صورت اُسے نچوڑنے پر تُلا رہتا ہے ۔  (  [5])

سوال      سود کے مَعَاشی نقصان بتائیے ؟

جواب     سود کے سبب ملک سے تجارت کا دیوالیہ نکل جاتا ہے ۔  ظاہر ہے کہ دولت چند اداروں ہی میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ دولتWealth) کہ جس کے ذریعے تجارت  (  Trade) ہوتی ہے جب چند اداروں ہی تک مَحْدُود ہو جائے گی تو مَعِیْشَت کی گاڑی کا پہیّابھی رک جائے گا ۔  (  [6])

سوال      سودکھانے والا بروزِ قیامت کس حال میں ہوگا؟

جواب     ان کے پیٹ ایسے ہوں گے جیسے بڑے بڑے مکان اور شیشے کی طرح چمکیں گے کہ لوگوں کو ان کی حالت نظر آئے ، ان میں سانپ اور بچھو بھرے ہوں گے ۔  (  [7])

ذبح

سوال      ذَبح کرتے وقت کونسے الفاظ کہنا مستحب ہیں  اور کیا احتیاط ضروری ہے ؟

جواب     مستحب یہ ہے کہ ذبح کے وقت بِسْمِ اﷲِاَﷲُاَکْبَر کہے یعنی بِسْمِ اﷲ اور اَﷲُاَکْبَر کے درمیان واؤ نہ لائے اور بِسْمِ اﷲِکی”ہ“کو ظاہر کرنا چاہیے اگر ظاہر نہ کی جیسا کہ بعض عوام اس کا تلفظ اس طرح کرتے ہیں کہ ’’ہ‘‘ظاہر نہیں ہوتی اور مقصود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا نام ذکر کرنا ہے تو جانور حلال ہے اور اگر یہ مقصود نہ ہو اور’’ہ‘‘ کا چھوڑنا ہی مقصودہو تو حلال نہیں ۔  (  [8])

سوال      گائے ، بکری  وغیرہ کو کس جگہ سے ذبح کیا جائے ؟

جواب     ذَبح کی جگہ حلق اور لُبَّہ کے مابین ہے ۔  (  [9])  لبہ سینہ کے بالائی حصہ کو کہتے ہیں ۔  لہٰذاگلے کے بالائی ، درمیانی یا نچلے جس جگہ سے بھی ذبح کیا جائے گاجانور حلال ہوگا ۔  (  [10])

سوال      نَحْرکا مطلب بتائیے اور کیااونٹ کو بجائے نحر کے ذبح کیا جاسکتا ہے ؟

جواب  حلق کے آخری حصہ میں نیزہ وغیرہ بھونک کر رگیں کاٹ دینے کو نحر کہتے ہیں ۔  اونٹ کو نَحْر کرنا اور گائے بکری وغیرہ کو ذَبح کرنا سنت ہے اور اگر اس کا عکس کیا یعنی اونٹ کو ذَبح



[1]     معجم کبیر ، ۸ /  ۲۴۳ ، حدیث : ۷۹۴۹ ۔

[2]     ابن ماجہ ، کتاب الصدقات ، باب من ادان دینا لم ینو قضاءہ ، ۳ /  ۱۴۳ ، حدیث : ۲۴۱۰ ۔

[3]     سیرت مصطفیٰ ، ص۵۰۴ ۔

[4]     تفسیرصراط الجنان ، پ۳ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۷۵ ، ۱ /  ۴۱۲ ۔

[5]     تفسیرصراط الجنان ، پ۳ ، البقرۃ ، تحت الآیۃ : ۲۷۵ ، ۱ /  ۴۱۳ ۔

[6]     سود اور اس کا علاج ، ص۴۰ ، ماخوذ اً ۔

[7]     ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب التغلیظ فی الربا ، ۳ /  ۷۱ ، حدیث : ۲۲۷۳ ، مفھوماً ۔

[8]     درمختار مع رد المحتار ، کتاب الذبائح ، ۹ /  ۵۰۳ ۔

[9]     بخاری ، کتاب الذبائح ، باب النحر والذبائح ، ۳ /  ۵۶۲ ۔

[10]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الذبائح ، ۹ /  ۴۹۱ ۔



Total Pages: 122

Go To