Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     آپ عَلَیْہِ السَّلَامنے ارشاد فرمایا :  اے لوگو !  کیا تم جانتے ہو کہ میرا گھر کہا ں ہے ؟ لوگوں نے عرض کی  : اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نبی !  آپ کا گھر کہاں ہے ؟ آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا : مسجدیں میری قیام گاہ ہیں ۔  (  [1])

سوال      آخرت کا بازارکسے کہتے ہیں ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا عطا بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار نے ایک شخص کو مسجد میں کچھ بیچتے دیکھا تو اُسے بُلا کر فرمایا : یہ آخرت کا بازار ہے ، تو اگر کچھ بیچنا چاہتا ہے تو دنیا کے بازار میں چلا جا ۔  (  [2])

سوال      زمین پر سب سے پہلے بنائی جانے والی مساجد کے نام بتائیے ؟

جواب     حضور نبی غیب دان ، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : زمین پر سب سے پہلے مسجدِحرام بنائی گئی ، پھر مسجدِ اَقصیٰ اور ان دونوں کے درميان 40سال کاعرصہ تھا[3]) ۔  (  [4])

سوال      قیامت کے دن کامِل نور کی خوشخبری کا مُژدہ کن افراد کو سنایا گیاہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنابُریدہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور تاجدارِ ختمِ نبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :  اندھیریوں میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کوقیامت کے دن کامِل نور کی بشارت ہے  ۔  (  [5])

سوال      حدیث میں مسجد میں بیٹھنے  والے کی کتنی اور کون کونسی خصلتیں بیان ہوئی ہیں؟

جواب     حضور نبی پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : مسجد میں بیٹھنے والے میں تین خصلتیں ہوتی ہیں :  (  1) اس سے فائدہ حاصل کیاجاتا ہے یا  (  2) وہ حکمت بھرا کلام کرتاہے یا  (  3) رحمت کامنتظر ہوتا ہے ۔  (  [6])

سوال      مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے پر کیا وعید آئی ہے ؟

جواب     حضور نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ مَساجِد میں دنیا کی باتیں ہوں گی ، تم ان کے ساتھ نہ بیٹھو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو ان سے کچھ کام نہیں ۔  (  [7])

سوال      حدیثِ مبارکہ میں  بدترین مجلس اور بہترین مجلس کسے قرار دیاگیاہے ؟

جواب     حدیث شریف میں فرمایا گیا : بَدترین مجلس راستے کے بازار ہیں اور بہترین مجلس مساجد ہیں پس اگر تو مسجد میں نہ بیٹھے تو اپنے گھر کو لازم کر ۔  (  [8])

سوال      کیا مختلف مساجد میں نماز پڑھنے سے ثواب میں کمی زیادتی ہوتی ہے ؟

جواب     جی ہاں ! حضور پُر نور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کا ثواب ہے ، محلے کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کا ثواب ہے ، جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کا ثواب ہے ، مسجدِ اقصیٰ میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے ، میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے اور ا ُس کامسجدِ حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے ۔  (  [9])

سوال      حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے مساجد آبادکرنے کی کیا کیا صورتیں بیان فرمائی ہیں ؟

جواب     (  1) مسجد تعمیر کرنا (  2) اس میں اضافہ کرنا (  3) اسے وسیع کرنا (  4) اس کی مَرمَّت کرنا (  5) اس میں چٹائیاں ، فرش فروش بچھانا  (  6) اس کی قلعی چونا کرنا  (  7) اس میں روشنی و زِینت کرنا  (  8) اس میں نمازو تلاوتِ قرآن کرنا (  9) اس میں دینی مدارس قائم کرنا  (  10) وہاں داخل ہونا ، وہاں اکثر جانا آنا ، رہنا  (  11) وہاں اذان وتکبیر کہنا ، اِمامَت کرنا ۔  (  [10])

سوال      مساجد آبادکرنا کس کی علامت ہے اور اُسے اس کی کیا برکت حاصل ہوگی؟

 



[1]     عیون الحکایات ، الحکایة الثامنة والتسعون من نصائح عیسی علیہ السلام ، ص۱۱۹ ۔

[2]     الزھد لامام احمد ، زھد محمد بن سیرین ، ص۳۲۰ ، رقم : ۱۸۴۶ ۔

[3]      خیال رہے کہ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے خانہ کعبہ کی اورحضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام نے بیت المقدس کی بنیاد نہ رکھی بلکہ پہلی بنیادوں پرعمارتیں بنائیں ۔ ان دوپیغمبروں کے درمیان ایک ہزار سال سے زیادہ فاصلہ ہے ۔  اس حدیث میں یا تو ان دونوں مسجدوں کی بنیادوں کا ذکر ہے کہ آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے توبہ قبول ہوتے ہی کعبۃ اﷲ کی بنیاد ڈالی ، پھرچالیس سال کے بعد جب آپ کی اولاد بہت ہوگئی اور پھیل گئی تو ان میں سے کسی نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی ۔ بعض روایات میں ہے کہ خود آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے ہی کعبہ کے چالیس سال بعد بیت المقدس کی بنیاد رکھی یا کوئی خاص تعمیر مراد ہے ، جیساکہ بعض روایات میں ہے کہ ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے تعمیر کعبہ کے چالیس سال بعد یعقوب عَلَیْہِ السَّلَام نے بیت المقدس کی تعمیر کی ۔  (  مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۴۶۴)

[4]     بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب۱۱ ، ۲ /  ۴۲۷ ، حدیث : ۳۳۶۶ ۔

[5]     ابو داود ، کتاب الصلاة ، باب ماجاء فی المشی الی الصلاة فی الظلام ، ۱ /  ۲۳۲ ، حدیث : ۵۶۱ ۔

[6]     مسند امام احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳ / ۳۹۹ ، حدیث : ۹۴۲۵ ۔

[7]      شعب الایمان ، باب فی الصلوات ، فصل المشی الی المساجد ، ۳ /  ۸۶ ، حدیث :