Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     دفن کے بعد قبر کے پاس اذان دینے سے مُردہ کو منکَر و نکِیْر کے سوالوں کا جواب دینے میں آسانی ہوتی ہے نیز مُردہ کی وحشت اور گھبراہٹ دور ہوجاتی ہے ۔  (  [1])

سوال      تَدفِین کے بعدقبرکے پاس کتنی دیر تک ٹھہرنا مستحب ہے ؟

جواب     دفن کے بعد قبر کے پاس اتنی دیر تک ٹھہرنا مستحب ہے جتنی دیر میں اونٹ ذَبْح کر کے گوشت تقسیم کر دیا جائے کہ ان کے رہنے سے مَیِّت کو اُنْس ہو گا اور نکِیْرَین کا جواب دینے میں وَحشت نہ ہوگی اور اتنی دیر تک تلاوتِ قرآن اور مَیِّت کے ليے دُعا واِستغفار کریں اور یہ دُعا کریں کہ سوالاتِ نکِیْرَین کے جواب میں ثابت قدم رہے ۔  (  [2])

سوال      رشتہ دار کی قبر پر جانے کے لیے قبروں پر گزرنا اورقبرِستان میں جوتے پہننا کیسا؟

جواب     اپنے کسی رشتہ دار کی قبر تک جانا چاہتا ہے مگر قبروں پر گزرنا پڑے گا تو وہاں تک جانا منع ہے ، دور ہی سے فاتحہ پڑھ دے ، قبرِستان میں جوتیاں پہن کر نہ جائے ۔  (  [3]) ایک شخص کو حضورِ اقدسصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَسَلَّمنے جوتے پہنے دیکھا توفرمایا : جوتے اُتاردے ۔  (  [4])

زکوٰۃ

سوال      زکوٰۃ کو ظاہر کرکے دینا مستحب ہے مگرکس صورت میں چُھپا کر دینا مستحب ہے ؟

جواب     جب مال کی زیادتی ظاہر ہونے سے ظالموں کا خوف ہو تو اس صورت میں زکوٰۃ کو چھپا کردینامستحب ہے ۔  (  [5])

سوال      زکوٰۃ کو ظاہر کرکے دینا افضل کیوں ہے ؟

جواب     زکوٰۃ میں اعلان اس وجہ سے ہے کہ چُھپا کر دینے میں لوگوں کو تہمت اور بدگمانی کا موقع ملے گا ، نیز اعلان اوروں کے لیے باعثِ ترغیب ہے کہ اس کو دیکھ کر اور لوگ بھی دیں گے مگر یہ ضرور (  یعنی لازمی) ہے کہ رِیا نہ آنے پائے کہ ثواب جاتا رہے گا بلکہ گناہ واِستحقاقِ عذاب ہے ۔  (  [6])

سوال      حاجتِ اَصلیّہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب     حاجَتِ اصلیّہ یعنی جس کی طرف زندگی بسر کرنے میں آدمی کو ضرورت ہے اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ، جیسے رہنے کا مکان ، جاڑے گرمیوں میں پہننے کے کپڑے ، خانہ داری کے سامان ، سواری کے جانور ، آلاتِ حَرْبْ ، پیشہ وَروں کے اَوزار ، اہلِ علم کے لیے حاجت کی کتابیں ، کھانے کے لیے غلّہ ۔  (  [7])

سوال      کیا حاجتِ اصلیہ پوری کرنے کے لیے جمع کی گئی رقم پر بھی زکوٰۃ ہے ؟

جواب     حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کے روپے رکھے ہیں تو سال میں جو کچھ خرچ کیا کیا اور جو باقی رہے اگر بقدرِ نصاب ہیں تو ان کی زکوٰۃ واجب ہے ، اگرچہ اسی نیّت سے رکھے ہیں کہ آئندہ حاجتِ اصلیہ ہی میں صَرف ہوں گے اور اگر سال تمام  (  یعنی سال مکمل ہونے ) کے وقت حاجتِ اصلیہ میں خرچ کرنے کی ضرورت ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ۔  (  [8])

سوال      کس صورت میں زکوٰۃ دیتے وقت نیّت نہ ہونے کے باوجود زکوٰۃ ادا ہوجائے گی؟

جواب     (  1) ایک شخص کو وکیل بنایا اُسے دیتے وقت تو نیّتِ زکوٰۃ نہ کی ، مگر جب وکیل نے فقیر کو دیا اُس وقت مُؤکِّل نے نیّت کرلی ، ہوگئی ۔  (  [9])  (  2) دیتے وقت نیّت نہیں کی تھی ، بعد میں کی تو اگر وہ مال فقیر کے پاس موجود ہے یعنی اُس کی مِلْک میں ہے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے گی ورنہ نہیں ۔  (  [10])

سوال      کیا ایڈوانس زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟

جواب     سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ دی جاسکتی ہے لیکن اس کے لئے تین شرائط ہیں :   (  1) زکوٰۃ ادا کرتے وقت اس مال پر سال شروع ہوچکا ہو (  2) جس نصاب کی زکوٰۃ ادا کی وہ نصاب سال کے آخر میں کامل طور پر پایا جائے (  3) زکوٰۃ ادا کرنے اور سال پورا ہونے کے درمیان وہ مال ہلاک نہ ہو ۔  (  [11])  اگر سال پورا ہونے سے پہلے آخری دوشرطیں نہیں پائی گئیں تو دی ہوئی زکوٰۃ نفلی صَدَقہ شمارہوگی ۔  (  [12])

سوال      کیا مستحق کو زکوٰۃ دیتے وقت زکوٰۃ کہہ کر دینا ضروری ہے ؟

جواب   زکوٰۃ دینے میں اس کی ضرورت نہیں کہ فقیر کو زکوٰۃ کہہ کر دے ، بلکہ صرف نیّتِ زکوٰۃ کافی ہے یہاں تک کہ اگر ہِبَہ  یا قرض کہہ کر دے اور نیّت زکوٰۃ کی ہوادا ہوگئی ۔ بعض



[1]      فتاوی رضویہ ، ۵ /  ۶۷۲ماخوذ ا ۔

[2]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، الجزء الاول ، ص ۱۴۱ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۴۶ ۔

[3]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۴۸ ۔

[4]     نوادر الاصول ، الاصل الحادی عشر والمائتان ، ۲ /  ۷۷۵ ، حدیث : ۱۰۷۱ ۔

[5]     الاشباہ والنظائر ، الفن الرابع ، کتاب الزکاة ، ص۳۴۲ ۔

[6]     بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ /  ۸۹۰ ۔

[7]      بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ /  ٨٨٠-٨٨١ ، ملتقطاً ۔

[8]     ردالمحتار ، کتاب الزکاة ، مطلب فی زکاة ثمن المبیع وفاء ، ۳ /  ۲۱۳ ملخصاً ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ /  ۸۸۱ ۔

[9]     جوھرة نیرة ، کتاب الزکاة ، الجزء الاول ، ص۱۴۹ ۔

[10]     درمختار ، کتاب الزکاة ، ۳ /  ۲۲۲ ، بہار شریعت ، حصہ۵ ، ۱ /  ۸۸۶ماخوذاً ۔

[11]     فتاوی ھندیة ، کتاب الزکاة ، الباب الاول فی تفسیرھا وصفتھا وشرائطھا ، ۱ /  ۱۷۶ ۔

[12]     فتاویٰ اہلسنّت ، احکام زکاۃ ، ص۱۶۵ ۔



Total Pages: 122

Go To