Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

قبرودفن

سوال      مَیِّت کو تابوت میں رکھ کر دَفْن کرنا  کیسا ہے ؟

جواب     تابُوت کہ مَیِّت کو کسی لکڑی وغیرہ کے صندوق میں رکھ کر دفن کریں یہ مکروہ ہے ، مگر جب ضرورت ہو مثلاً زمین بہت تر ہے تو حرج نہیں اور اس صورت میں تابوت کے مَصَارِف  (  یعنی اخراجات) اس مال میں سے ليے جائیں جو مَیِّت نے چھوڑا ہے ۔  (  [1])

سوال      تابوت میں رکھ کر دفن کرنے کاطریقہ  کیا ہے ؟

جواب     اگر تابوت میں رکھ کر دفن کریں تو سُنّت یہ ہے کہ اس میں مٹی بچھا دیں اور دائیں بائیں کچی اینٹیں لگا دیں اور اوپر مٹی کی لِپائی کر دیں ، غرض یہ کہ اندر کا حصہ لَحْد کی طرح ہو جائے ۔  (  [2])

سوال      مَیِّت کی تدفین کہاں مستحب ہے  اور قَبْر کس جگہ بنانی بہتر ہے ؟

جواب     جس شہر یا گاؤں وغیرہ میں انتقال ہوا وہیں کے قبرستان میں دفن کرنا مستحب  ہے اگرچہ یہ وہاں رہتا نہ ہو بلکہ جس گھر میں انتقال ہوا اس گھر والوں کے قبرستان میں دفن کریں ۔  (  [3]) ایسی جگہ دفن کرنا بہتر ہے جہاں صالحین کی قبریں ہوں ۔  (  [4])

سوال      کن جگہوں پر  مُردہ دفن کرنا حرام ہے ۔  

جواب     مالک کی اجازت کے بغیر اس کی زمین میں نیز اورجگہ ہوتے ہوئے پُرانی قبر میں مردہ دفن کرنا حرام ہے ۔ یونہی مسجد تعمیر ہونے کے بعد مسجد کے صحن میں بھی مردہ کو دفن کرنا حرام ہے ۔  (  [5])

سوال      قبر میں اُترنے والے افراد کتنے اور کیسے ہوں ؟

جواب     قبر میں اترنے والے دو تین جو مناسب ہوں ، کوئی تعداد اس میں خاص نہیں اور بہتر یہ کہ قوی و نیک و اَمین ہوں کہ کوئی بات نا مناسب دیکھیں تو لوگوں پر ظاہر نہ کریں ۔  (  [6])

سوال      قبر میں شجرہ و عَہْد نامہ رکھنا کیسا نیز کفن پر لکھنے کی کیا برکت ہے ؟

جواب     شجرہ یا عہد نامہ قبر میں رکھنا جائز ہے اور بہتر یہ ہے کہ میّت کے منہ کے سامنے قبلہ کی جانب طاق کھود کر اس میں رکھیں ، بلکہ دُرِّمختار میں کَفْن پر عہد نامہ لکھنے کو جائز کہا ہے اور فرمایا کہ اس سے مغفرت کی امید ہے اور مَیِّت کے سینہ اور پیشانی پر بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم لکھنا جائز ہے ۔  یوں بھی ہو سکتا ہے کہ پیشانی پر بِسْمِ اللہ شریف لکھیں اور سینہ پر کلمہ طیّبہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم مگر نہلانے کے بعد کفن پہنانے سے پیشتر  (  یعنی پہلے ) ، کلمہ کی انگلی سے لکھیں ، روشنائی سے نہ لکھیں ۔  (  [7])

سوال      مَیِّت کو قبر میں اُتارتے وقت کونسی  دعا پڑھی جاتی ہے ؟

جواب     بِسْمِ اللہِ وَ بِاللہِ وَعَلٰی مِلَّۃِ رَسُوْلِ اللہِ ۔  (  [8]) اور ایک روایت میں بِسْمِ اللہِ کے بعد وَفِیْ سَبِیْلِ اللہِ بھی آیا ہے ۔  (  [9])

سوال      مَیِّت کو مٹی دینے کا مستحب طریقہ بتائیے نیز اُس وقت کیا پڑھنا چاہئے ؟

جواب     مستحب یہ ہے کہ سرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں ۔   پہلی بار کہیں :  مِنْھَا خَلَقْنٰـکُمْ  (  اسی سے ہم نے تم کو پیدا کیا) دوسری بار :  وَفِیْھَا نُعِیْدُکُمْ  (  اور اسی میں تم کو لوٹائیں گے ) اورتیسری بار :  وَمِنْھَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْریٰ  (  اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے )  (  پھر) باقی مٹی ہاتھ یا کُھرپی یا پھاوڑے وغیرہ جس سے ممکن ہو قبر میں ڈالیں اور جتنی مٹی قبر سے نکلی اُس سے زیادہ ڈالنا مکروہ ہے ۔  (  [10])

سوال      بعدِ تَدفِین مَیِّت کے سِرہانے اور پاؤں کی طرف کھڑے ہوکر کیا پڑھا جائے ؟

جواب     مستحب یہ ہے کہ دفن کے بعد قبر پر سورۂ بقرہ کا اوّل و آخر پڑھیں ، سرہانے اَلٓمّۤ سے مُفْلِحُوْنَ تک اور پائنتی (  پاؤں کی جانب) اٰمَنَ الرَّسُوْلُ سے ختم ِسورت تک پڑھیں ۔  [11])

سوال      دفن کے بعد قبر کے پاس اذان دینے سے کیا فوائد حاصل ہوتے ہیں؟

 



[1]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۴۳ ۔

[2]      رد المحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب صلاۃ الجنازۃ ، ۳ / ۱۶۵ملخصاً ۔

[3]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ / ٨٤٦-٨٤٧ ۔

[4]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، الجزء الاول ، ص ۱۴۱ ۔

[5]     فتاوی رضویہ ، ۹ /  ۳۷۹ ، ۳۸۵ ، ۴۰۷ماخوذ ا ۔

[6]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۶ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۴۳-۸۴۴ ۔

[7]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، ۳ /  ۱۸۵ ۔ ۱۸۶ملتقطاً ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۴۸ملتقطاً ۔

[8]     ترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ما یقول اذا ادخل المیّت القبر ، ۲ / ۳۲۷ ، حدیث : ۱۰۴۸ ۔

[9]     ابن ماجہ ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی ادخال المیت القبر ، ۲ /  ۲۴۱ ، حدیث : ۱۵۵۰ ۔

[10]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، الجزء الاول ، ص۱۴۱ ،

Total Pages: 122

Go To