Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

یعنی اس کے بدن کا کوئی حصہ امام کے سامنے ہو ۔  (  [1])

سوال      کیا خود کشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی؟

جواب      اگر چہ خودکشی بہت بڑا  گناہ ہے لیکن خود کشی کرنے والے کی نماز ِ جنازہ پڑھی جائے گی ۔  (  [2])

سوال      کن لوگوں کی نمازِجنازہ پڑھنا منع ہے ؟

جواب     1) باغی جو امامِ برحق پر ناحق خُرُوْج کرے اور اُسی بَغاوَت میں مارا جائے 2) وہ ڈاکو جو ڈاکے میں مارا گیا3) جو لوگ اپنی قوم کی ناحق حمایت کرتے ہوئے لڑیں اور مرجائیں  (  4) جس نے کئی لوگ  گلا گھونٹ کر مار ڈالے 5) جو شہر میں رات کو ہتھیار لے کر لوٹ مار کریں6) جس نے اپنی ماں یا باپ کو مار ڈالا  (  7) جو کسی کا مال چھین رہا تھا اور اس حالت میں مارا گیا ۔  (  [3])

سوال      نمازِ جنازہ کی امامت کا حق کس کو ہے ؟

جواب     نمازِ جنازہ میں امامت کا حق بادشاہِ اسلام کو ہے ، پھر قاضی ، پھر امامِ جمعہ ، پھر امامِ محلہ اور پھر (  میت کے ) ولی کو ۔  ولی سے پہلے امامِ محلہ کو حق ہونا بطورِ استحباب ہے اور یہ بھی اُس وقت ہے جب محلے کا امام ولی سے افضل ہو ورنہ ولی بہترہے ۔  (  [4])

سوال      نمازِ جنازہ میں سورۂ فاتحہ پڑھنا کب جائز ہے ؟

جواب     نمازِ جنازہ میں حمد و ثناء کی نیّت سے سورۂ فاتحہ پڑھنا جائز ہے ۔  (  [5])

سوال      جو شخص چوتھی تکبیر کے بعد  جنازہ میں شامل ہواوہ کیا کرے ؟

جواب     جو شخص چوتھی تکبیر کے بعدآیا تو جب تک امام نے سلام نہ پھیرا ہو شامل ہو جائے اور امام کے سلام کے بعد تین بار اَللہُ اَکْبَر کہہ لے ۔  (  [6])

سوال      جب کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ نماز پڑھی جائے یا الگ الگ ؟

جواب     کئی جنازے جمع ہوں تو ایک ساتھ سب کی نماز پڑھ سکتا ہے یعنی ایک ہی نماز میں سب کی نیّت کر لے اور افضل یہ ہے کہ سب کی علیحدہ علیحدہ پڑھے ۔   اگر سب کی ایک ساتھ پڑھیں تو اس بات کا اختیار ہے کہ سب کو آگے پیچھے رکھیں یعنی سب کا سینہ امام کے مُقابِل ہو یا برابر برابر رکھیں یعنی ایک کے پاؤں کی طرف دوسرے کا سر ہو اوردوسرے کے پاؤں کی طرف تیسرے کا سر ہو ۔  اگر آگے پیچھے رکھے تو امام کے قریب اس کا جنازہ ہو جو سب میں افضل ہو پھر اُس کے بعد جو ا فضل ہو ۔  (  [7])

سوال      کیا ایک مرتبہ نمازِ جنازہ پڑھنے کے بعد دوبارہ پڑھی جاسکتی ہے ؟

جواب     اگر ولی نمازجنازہ  پڑھ چکا یا اس کی اجازت سے ایک بار نماز ہوچکی تو اب دوسروں کو مطلقاً جائز نہیں ، نہ ان کو جو پڑھ چکے نہ اُن کو جو باقی رہے ۔  (  [8]) مگر جب ولی کے سوا کسی ایسے شخص نے نماز پڑھائی  جو ولی پر مُقَدَّم نہ ہو اورولی نے اُسے اجازت بھی نہ دی تھی تو ا گر ولی نماز میں شریک نہ ہوا تو نماز کا اعادہ کر سکتا ہے لیکن اس دوسری نماز میں وہی لوگ جنازہ پڑھ سکتے ہیں جنہوں نے پہلے نہ پڑھی ہو ، جو پہلے شریک تھے اب ولی کے ساتھ نہیں پڑھ سکتے اور اگر ایسے شخص نے نماز پڑھائی جو ولی پر مقدم ہے جیسے بادشاہِ اسلام یا قاضی یا محلے کا وہ امام جو ولی سے افضل ہو تو اب ولی بھی نماز کا اعادہ نہیں کر سکتا ۔  (  [9])

سوال      اگر میت کو غسل دیئے بغیر نمازِ جنازہ پڑھ لی تو  کیا حکم ہے ؟

جواب     غسل کے بغیر نماز پڑھی گئی تو نہیں ہوگی لہٰذا میت کو غسل دے کر دوبارہ نماز پڑھیں اور اگر قبر میں رکھ چکے مگر ابھی مٹی نہیں ڈالی گئی تو قبر سے نکالیں اور غسل دے کر نماز پڑھیں اور مٹی ڈال چکے تو اب نہيں نکال سکتے لہٰذا اب اُس کی قبر پر نماز پڑھیں کیونکہ غسل نہ ہونے کی وجہ سے پہلی نماز ہوئی ہی نہیں تھی اور اب چونکہ غسل نا ممکن ہے لہٰذا اب ہو جائے گی ۔  (  [10])

 



[1]      درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب فی صلاة الجنازة ، ۳ /  ۱۲۱ تا ۱۲۳ ۔

[2]      درمختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، ۳ /  ۱۲۷ ۔

[3]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب ھل یسقط فرض... الخ ، ۳ /  ۱۲۵ تا ۱۲۸ ۔

فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۳ ۔

[4]     غنیۃ المتملی ، فصل فی الجنائز ، ص۵۸۴ ، بہارشریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۳۶ ۔

[5]     عمدة الرعایة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، ۱ /  ۲۵۳ ۔

[6]     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاةالجنائز ، ۳ /  ۱۳۶ ۔

[7]     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب صلاةالجنائز ، ۳ /  ۱۳۸ ۔

[8]     فتاویٰ رضویہ ، ۹ /  ۳۱۸ ۔

[9]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب تعظیم اولی الامر واجب ، ۳ /  ۱۴۴.