Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     سب سے پہلے کفن  پھر قرض پھر وصیت اور اس کے بعد میراث ۔  (  [1])

سوال      مرد کے کفن میں جوتین کپڑے ہیں ان کی مقدار بیان کیجئے ؟

جواب     (  1) لفافہ یعنی چادر کی مقدار یہ ہے کہ میّت کے قد سے اتنا زیادہ ہو کہ دونوں طرف باندھ سکیں اور  (  2) اِزار یعنی تہہ بند سر کی چوٹی سے قدم تک یعنی لفافہ کا جتنا حصہ باندھنے کے لیے زائد تھا یہ اتنا حصہ کم ہو اور (  3) قمیص جس کو کفنی کہتے ہیں گردن سے گھٹنوں کے نیچے تک اور یہ آگے اور پیچھے دونوں طرف برابر ہوں ۔  (  [2])

سوال      کیا میت کو زعفران کا رنگا ہوا يا ریشم کا کفن پہنایا جاسکتا ہے ؟

جواب     زعفران کا رنگا ہوا يا ریشم کا کفن مرد کو ممنوع ہے اور عورت کے ليے جائز یعنی جو کپڑا زندگی میں پہن سکتا ہے اُس کا کفن دیا جا سکتا ہے اور جو زندگی میں ناجائزاُس کا کفن بھی ناجائز ۔  (  [3])

سوال      کیا میت کو پرانے کپڑے کا کفن دیا جاسکتا ہے ؟

جواب     پُرانے کپڑے کا بھی کفن ہو سکتا ہے ، مگر پُرانا ہو تو دُھلا ہوا ہو کہ کفن ستھرا ہونا مرغوب ہے ۔  (  [4])

سوال      حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے کفن کے لیے کیا وصیت فرمائی تھی؟

جواب     جب حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ  کا آخری وقت آیا تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ اُنہیں اُس قمیص میں کفن دیا جائے جوحضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ  لِہٖ وَسَلَّمَ نے انہیں عطافرمائی تھی اوریہ ان کے جسم سے متّصل رکھی جائے نیز آپ کے پاس حضوررحمت دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ  لِہٖ وَسَلَّمَ کے ناخن پاک کے کچھ تراشے بھی تھے ان کے متعلق وصیت فرمائی کہ باریک کرکے ان کی آنکھوں اور منہ میں رکھ دیئے جائیں ۔ فرمایا :  یہ کام انجام دینا اور مجھے اَرْحَمُ الرّٰ حِمِیْن کے سپرد کردینا ۔  (  [5])

سوال      حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ کون سے تبرکات رکھے گئے ؟

جواب     حضرت سیدناثابت بنانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِیکا بیان ہے کہ حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ نے مجھ سے فرمایا  :  یہ موئے مبارک حضورسیّدِ عالم ، نورِمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہے اسے میری زبان کے نیچے رکھ دینا ۔  میں نے رکھ دیا اوروہ یوں ہی دفن کئے گئے ۔  (  [6]) نیز حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللّٰہ ُتَعَالٰی عَنْہُ کے پاس حضورتاجدارِ دوجہان ، رحمت عالمیانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ  لِہٖ وَسَلَّمَ کی ایک چھڑی تھی وہ ان کے سینہ پر قمیص کے نیچے اُن کے ساتھ دفن کی گئی ۔  (  [7])

 نمازِ جنازہ  

سوال      مرنے کے بعد مومن کوسب سے پہلا تحفہ کیا دیا جاتا ہے ؟

جواب     حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دَارَیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  مومن کو سب سے پہلا تحفہ یہ دیا جاتا ہے کہ اس کی نمازِ جنازہ پڑھنے والوں کی مَغْفرت کردی جاتی ہے ۔  (  [8])

سوال      جنازہ کے ساتھ چلتے ہوئے کِن اُمُور کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے ؟

جواب     جنازہ کے ساتھ چلنے والوں کوخاموش رہنا چاہيے ۔  موت ، قبرکے حالات اور ہولناکیوں کو پیش نظر رکھیں ، دنیا کی باتیں کریں نہ ہنسیں اور ذکر کرنا چاہیں تو دل میں کریں  ۔ اب  حالاتِ زمانہ کے پیشِ نظر علمائے کرام نے ذِکْر بِالجہر (  بآوازِ بلند ذکرودرود اور نعت خوانی وغیرہ) کی بھی اجازت دی ہے ۔  (  [9])

سوال      نماز جنازہ پڑھنے والے کے لیے کیا شَرائط ہیں؟

جواب     (  1) نمازی کا نجاست حکمیہ و حقیقیہ[10]) سے پاک ہونا ، نیز اس کے کپڑے اور جگہ کا پاک ہونا (  2) ستر عورت  (  3) قبلہ رخ ہونا  (  4) نیت ۔  (  [11])

سوال      نمازِ جنازہ کے لیے میت میں کن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے ؟

جواب      (  1) میّت کا مسلمان ہونا2) میّت کے بدن اور کفن کا پاک ہونا3) جنازہ کا وہاں موجود ہونا یعنی  (  میت کے جسم کا ) کُل یا اکثر یا نصف حصہ سر سمیت موجود ہونا4) جنازہ زمین پر رکھا ہونا یا ہاتھ پر ہو مگر قريب ہو5) جنازہ نمازی کے آگے قبلہ کی طرف ہونا6) میّت کے بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے اس کا چُھپا ہوا ہونا  (  7) میّت امام کے مُحاذِی ہو



[1]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، ص۱۳۴ ۔

[2]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۰ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۸۱۸ ۔

[3]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، ص۱۳۴ ، فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز ، ۱ /  ۱۶۱ ۔

[4]     جوھرة النیرة ، کتاب الصلاة ، باب الجنائز ، ص۱۳۵ ۔

[5]     اسد الغابة ، رقم۴۹۷۷ ، معاویة بن ابی سفیان ، ۵ /  ۲۲۳ ۔