Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

پڑھ کر دم کرنا ضَروری نہیں ۔

عیادت اور موت

سوال      مسلمان کی بیمار پُرسی کی فضیلت بیان کیجئے ؟

جواب     حدیث ِ پاک میں ہے  :   جو مسلمان کسی مسلمان کی عیادت کے ليے صبح کو جائے تو شام تک  اور شام کو جائے تو صبح تک اُس کے لیے 70 ہزار فرشتے مغفرت کی دعا کرتے  ہیں اور جنت میں اُس کے لیے ایک باغ ہوگا ۔  (  [1])

سوال      بیماری اور تکلیف میں مبتلاشخص کو کونسے دینی فوائد حاصل ہوتے ہیں؟

جواب     فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :   (  1) جب بھی مؤمن کی کوئی رگ چڑھ جاتی ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کا ايک گناہ مٹاتا ، ايک نيکی لکھتا اور ايک درجہ بلند فرماتا ہے ۔  (  [2])  (  2) جب بندہ بيمار ہوتا ہے يا سفر پر جاتا ہے تو اس کے وہ اَعمال بھی لکھے جاتے ہيں جو وہ تندرستی کی حالت میں کيا کرتا تھا ۔  (  [3])

سوال      کس صورت میں مریض کی عیادت  (  بیمارپُرسی) نہیں کرنی چاہئے ؟

جواب     مریض کی عیادت کرناسنت ہے ، لیکن اگر معلوم ہے کہ عیادت کرنے جائے گا تو اس بیمار پر گراں گزرے گا (  یعنی ناگواروتکلیف دہ ہوگا) تو ایسی حالت میں عیادت نہ کرے ۔  (  [4])

سوال      عیادت کے وقت کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے ؟

جواب     عیادت کرنے  جائے اور مرض کی سختی دیکھے تو مریض کے سامنے یہ ظاہر نہ کرے کہ تمہاری حالت خراب ہے اور نہ سر ہلائے جس سے حالت کا خراب ہونا سمجھا جاتا ہے ، اس کے سامنے ایسی باتیں کرنی چاہئیں جو اس کے دل کو اچھی  معلوم ہوں ، اس کی مزاج پرسی کرے ، اس کے سر پر ہاتھ نہ رکھے مگر جبکہ وہ خود اس کی خواہش کرے ۔  (  [5])

سوال      یہ دعا”اَسْئَلُ اللّٰہَ الْعَظِیمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ اَنْ یَّشفِیَکَ[6]) کس وقت پڑھی جاتی ہے اور اِس کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب     یہ  دُعا عیادت کے وقت پڑھی جاتی ہے ۔ حدیثِ پاک میں ہے : جس نے ایسے مریض کی عیادت کی جس کی موت کا وقت نہ آیا ہوپس عیادت کرنے والا سات بار یہ دعاپڑھے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اُسے اُس مرض سے شفا عطا فرمادے گا ۔  (  [7])

سوال      جن مسلمانوں کے نابالغ بچے فوت ہوجائیں اُن کے لیے کیااجر ہے ؟

جواب     حضور رحمت عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : جن مسلمان والدین کے تین بچے فوت ہوجائیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان والدین کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرمائے گا ۔ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی : اگر دو بچے فوت ہوں تو؟ ارشاد فرمایا : دوہوں تب بھی یہی فضیلت ہے  ۔ عرض کی : اگر ایک بچہ ہوتو؟ ارشادفرمایا : ایک ہوپھر بھی یہی فضیلت ہے ۔  (  [8])

سوال      اچانک آنے والی موت کے متعلق حدیثِ پاک میں کیا فرمایا گیا ہے ؟

جواب     حضورنبی ِکریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتے ہیں کہ اچانک موت مؤمن کے لیے راحت اورفاجر (   کافروفاسق) کے لیے پکڑ ہے ۔  (  [9])

سوال      کون سا شخص جنت میں جاکر بھی دنیا میں واپسی کی تمنا کرے گا؟

جواب     حدیث شریف میں ہے کہ شہید اس بات کی تمنا کرے گا کہ وہ پھر لوٹ کر دنیا میں جائے اور دس مرتبہ راہِ خدا میں قتل ہوکر شہید ہو ۔  (  [10])

سوال      حضرت عمر فاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضرت کعب اَحباررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے جب موت کی سختیوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کیا جواب دیا؟

جواب   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی  : اے امیر المؤمنینرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ! موت ایک ایسی کانٹے دار ٹہنی کی طرح ہے جسے کسی آدمی کے پیٹ میں داخل کیا جائے اور اس کا ہر کانٹا



[1]     ترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عیادة المریض ، ۲ /  ۲۹۰ ، حدیث : ۹۷۱ ۔

[2]     مستدرک حاکم ، کتاب الجنائز ، باب قصۃ اعرابی لم تأخذہ الحمی ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۶۶۸ ، حدیث : ۱۳۲۴ ۔

[3]     مسندامام احمد ، ۷ / ۱۶۱ ، حدیث : ۱۹۶۹۹ ۔

[4]      ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹ /  ۶۴۰ ۔

[5]     ردالمحتار ، کتاب الحظر والاباحة ، فصل فی البیع ، ۹ /  ۶۴۰ ۔

[6]     ترجمہ : میں عظمت والے ، عرش عظیم کے مالک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے تیرے لئے شفا کا سوا ل کرتا ہوں ۔

[7]     ابو داود ، کتاب الجنائز ، باب الدعاء للمریض عند العیادة ، ۳ /  ۲۵۱ ، حدیث : ۳۱۰۶ ۔

[8]     مسند امام احمد ، مسند معاذ بن جبل ، ۸ /  ۲۵۴ ، حدیث : ۲۲۱۵۱ ۔

[9]     شعب الایمان ، باب فی الصبر علی المصائب ، فصل فی النھی عن شق الثوب ولطم الوجہ ، ۷ /  ۲۵۵ ، حدیث :