Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     اولاد پیدا ہوئی یا مال پایا یا گمی ہوئی چیز مل گئی یا مریض نے شفا پائی یا مسافر واپس آ یا الغرض کسی بھی نعمت کے حصول پر سجدۂ شکر کرنا مستحب ہے ۔  (  [1])

سوال      حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس کے قتل کاسنا تو سجدۂ شکر ادا کیا ؟

جواب     حضور نبی  پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابوجہل کے قتل کی خبر سن کر سجدۂ شکر ادا کیا ۔  (  [2])

جُمُعَہ

سوال      نمازِ جُمُعَہ ادا کرنے کی کیا فضیلت  ہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُناابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ حضورنبیِ پاک ، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جس نے اچھی طرح وُضُو کیا پھر جُمُعَہ پڑھنے کے لیے آیا ،  (  خطبہ) سنا اور چُپ رہا تواس کے وہ گناہ بخش دیئے جائیں گے جو اس جُمُعَہ اور دوسرے جُمُعَہ کے درمیان ہیں اور تین دن  مزید اور جس نے کنکری چُھوئی اس نے لغو کیا ۔  (  [3])

سوال      نمازِ جُمُعَہ کے لئے غسل کرنے اور خوشبو لگانے والے کے لئے کیا انعام ہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُناسلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضورنبیِ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جو شخص جُمُعَہ کے دن نہائے ، جس طَہَارت کی اِستطاعت ہو کرے ، تیل لگائے ، گھر میں جو خوشبو ہو مَلے پھر نماز کے لیے نکلے ، دو شخصوں میں جدائی نہ کرے  (  یعنی دوشخص بیٹھے ہوئے ہوں انہيں ہٹا کر بیچ میں نہ بیٹھے ) ، جو نماز اس کے ليے لکھی گئی ہے پڑھے اور امام جب خطبہ پڑھے تو چُپ رہے اُس کے اِس جُمُعَہ اور دوسرے جُمُعَہ کے درمیان ہونے والے گناہوں کی مغفرت ہو جائے گی ۔  (  [4])

سوال      نمازِ جُمُعَہ میں لوگوں کی گردنیں پھلانگنے والے کے لیے کیا وعید ہے ؟

جواب     حدیثِ مبارک میں ہے کہ جس نے جُمُعَہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگیں اس نے جہنّم کی طرف پُل بنایا[5]) ۔  (  [6])

سوال      کونسے مریض اور تیمار دار پر جُمُعَہ فرض نہیں؟

جواب     مریض پر جُمُعَہ فرض نہیں ، مریض سے مراد وہ ہے کہ مسجد تک نہ جاسکتا ہو یا چلا تو جائے گا مگر مرض بڑھ جائے گا یا دیر میں اچھا ہوگا ۔  (  [7])  جو شخص مریض کا تیماردار ہو ،  (  اگر وہ) جانتا ہے کہ جُمُعَہ کو جائے گا تو مریض دِقتوں میں پڑجائے گا اور اس کا کوئی پُرسانِ حال نہ ہوگا تو اُس تیماردار پر جُمُعَہ فرض نہیں ۔  (  [8])

سوال      کس نابینا پر جُمُعَہ فرض ہے اور کس پر نہیں؟

جواب     وہ نابینا جو خود مسجدِ جُمُعَہ تک بلا تکلّف نہ جا سکتا ہو اس پر جُمُعَہ فرض نہیں ۔ بعض نابینا بلا تکلّف بغیر کسی کی مدد کے بازاروں راستوں میں چلتے پِھرتے ہیں اور جس مسجد میں چاہیں بِلا پُوچھے جاسکتے ہیں ان پر جُمُعَہ فرض ہے ۔  (  [9])

سوال      جُمُعَہ فرض نہ ہونے کے باوجود پڑھ لینا کیسا ہے ؟

جواب     جُمُعَہ واجب ہونے کے ليے گیارہ شرطیں ہیں[10]) ان میں سے ایک بھی نہ پائی جائے تو فرض نہیں پھر بھی اگر پڑھے گا تو ہوجائے گا بلکہ مرد عاقل بالغ کے ليے جُمُعَہ پڑھنا افضل ہے اور عورت کے ليے ظہر افضل اور نابالغ نے جُمُعَہ پڑھا تو نفل ہے کہ اس پر نماز فرض ہی نہیں ۔  (  [11])

سوال      خطبہ سننے والوں کے لیے کیا احکام وآداب ہیں ؟

جواب     سننے والا اگر امام کے سامنے ہو تو امام کی طرف منہ کرے اور دہنے بائیں ہو تو امام کی طرف مُڑ جائے ، امام سے قریب ہونا افضل ہے مگر یہ جائز نہیں کہ امام سے قریب ہونے کے ليے لوگوں کی گردنیں پھلانگے ، البتہ اگر امام ابھی خطبہ کو نہیں گیا ہے اور آگے جگہ باقی ہے تو آگے جاسکتا ہے اور خطبہ شروع ہونے کے بعد مسجد میں آیا تو مسجد کے کنارے ہی بیٹھ جائے اورخطبہ سننے کی حالت میں دو زانو بیٹھے جیسے نماز میں بیٹھتے ہیں ۔  (  [12])

سوال      جس پر جُمُعَہ فرض ہے اگر اس نے جُمُعَہ کی نماز سے پہلے ظُہْر کی نماز پڑھ لی توکیا جُمُعَہ کی نماز اسے پڑھنی ہوگی یا نہیں؟

 



[1]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثالث عشر فی سجود التلاوة ، ۱ /  ۱۳۶ ۔

[2]     اشعة اللمعات ، کتاب الصلاة ، باب فی سجود الشکر ، ۱ /  ۶۶۳ ۔

[3]     مسلم ، کتاب الجمعة ، باب فضل من استمع وانصت فی الخطبة ، ص۳۳۲ ، حدیث : ۱۹۸۸ ۔

[4]     بخاری ، کتاب الجمعة ، باب الدھن للجمعة ، ۱ /  ۳۰۶ ، حدیث : ۸۸۳ ۔

[5]     حدیث میں لفظ اتَّخذَ جِسْرًا واقع ہو اہے اس کو معروف و مجہول  (  یعنی اِتَّخَذَ اور اُتُّخِذَ) دونوں طرح پڑھتے ہیں اور یہ ترجمہ معروف کا ہے اور مجہول پڑھیں تو مطلب یہ ہوگا کہ خودپُل بنا دیا جائے گا یعنی جس طرح لوگوں کی گردنیں اس نے پھلانگی ہیں ، اس کو قیامت کے دن جہنّم میں جانے کا پُل بنایا جائے گا کہ اس کے اوپر چڑھ کر لوگ جائیں گے ۔  (  بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۷۶۱)

[6]     ترمذی ، کتاب الجمعة ، باب ماجاء فی کراھیة التخطی یوم الجمعة ، ۲ /  ۴۸ ، حدیث : ۵۱۳ ۔

[7]     غنیۃ المتملی ، فصل فی صلاة الجمعة ، ص۵۴۸ ۔

[8]     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، ۳ /  ۳۱ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۷۷۰ ۔

[9]     در مختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الجمعة ، مطلب فی شروط وجوب الجمعة ،