Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

گی اور چار رَکعتوں میں تسبیح کی گنتی تین سو مرتبہ ہوگی ۔  (  [1])

سوال      کب کب نوافل پڑھنا مستحب ہے ؟

جواب                     جب  تیز آندھی آئے یا دن میں سخت تاریکی چھا جائے یا رات میں خوفناک روشنی ہو یا لگاتار کثرت سے بارِش برسے یا بکثرت اَولے پڑیں یا آسمان سُرخ ہو جائے یا بجلیاں گریں يابکثرت تارے ٹوٹیں یا طاعون وغیرہ وبا پھیلے یا زلزلے آئیں یادشمن کا خوف ہو یا اورکوئی دَہشت ناک اَمر پایا جائے ان سب کے لیے دو رَکعت نَما زمُستَحَب ہے ۔  (  [2])

سوال      کونسے اوقات میں نوافل پڑھنا منع ہے ؟

جواب     بارہ وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے :  (  1) طُلوعِ فجر سے طلوع آفتا ب تک  (  2) اپنے مذہب  (  مثلا فقہِ حنفی والوں) کی جماعت کے ليے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختمِ جماعت تک]البتہ اگر نمازِ فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سُنّت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنتِ فجر پڑھ کر شریک ِجماعت ہو[ (  3) نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک  (  4) غُروبِ آفتاب سے فرضِ مغرب تک (  5) جس وقت امام اپنی جگہ سے خطبۂ جُمُعَہ کے ليے کھڑا ہوا اس وقت سے فرضِ جُمُعَہ ختم ہونے تک  (  6) عین خطبہ کے وقت اگرچہ جمعہ کا ہو یا خطبۂ عِیدَین یا کُسُوف واِسْتِسْقا و حج و نکاح کا (  7) نمازِ عِیدَین سے پہلے  (  8) نما زِعِیدَین کے بعد جب کہ عید گاہ یا مسجد میں پڑھے ، گھرمیں پڑھنا مکروہ نہیں (  9) عَرَفات میں جو ظہر و عصر ملا کر پڑھتے ہیں ، ان کے درمیان اور بعد میں بھی (  10) مُزْدَلفہ میں جو مغرب و عشا جمع کیے جاتے ہیں ، فقط ان کے درمیان ، بعدمیں مکروہ نہیں (  11) فرض کا وقت تنگ ہو تو ہر نماز یہاں تک کہ سُنّتِ فجر و ظہر مکروہ ہے  (  12) جس بات سے دل بٹے اور دفع کر سکتا ہو اسے بے دفع کیے ہر نماز مکروہ ہے ، کوئی ایسا امر درپیش ہو جس سے دل بٹے خُشُوع میں فرق آئے ان وقتوں میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہے ۔  (  [3])

تراویح

سوال      کیسے حافظ صاحب کوامام بنانا  چاہئے ؟

جواب     خوش خوان (  یعنی  محض اچھی آواز والے ) کو امام نہ بنانا چاہئے بلکہ درست خوان  (  صحیح پڑھنے والے ) کوبنائیں ۔  (  [4]) افسوس صد افسوس کہ اس زمانہ میں حُفّاظ کی حالت نہایت ناگفتہ بِہ ہے ، اکثر تو ایسا پڑھتے ہیں کہ یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَ کے سوا کچھ پتہ نہیں چلتا الفاظ و حروف کھا جایا کرتے ہیں جو اچھا پڑھنے والے کہے جاتے ہیں اُنہیں دیکھئے تو حروف صحیح نہیں ادا کرتے ہمزہ ، الف ، عین اور ذ ، ز ، ظ اورث ، س ، ص ، ت ، ط وغیرہ حروف میں فرق نہیں کرتے جس سے قطعاً نماز ہی نہیں ہوتی  ۔  (  [5])

سوال      تراویح میں امام صاحب کو کس طرح تلاوت کرنی چاہئے ؟

جواب     تراویح میں مُتَوسِّط انداز پر قراء ت کرے مگر ایسا پڑھے کہ سمجھ میں آسکے یعنی کم سے کم مد کا جو درجہ قاریوں نے رکھا ہے اس کو ادا کرے ، ورنہ حرام ہے اس ليے کہ تَرتِیل سے قرآن پڑھنے کا حکم ہے ۔  آج کل کے اکثر حُفّاظ اس طرح پڑھتے ہیں کہ مد کا ادا ہونا تو بڑی بات ہے یَعْلَمُوْنَ تَعْلَمُوْنَکے سوا کسی لفظ کا پتہ بھی نہیں چلتا نہ تصحیحِ حُروف ہوتی ، بلکہ جلدی میں لفظ کے لفظ کھا جاتے ہیں اور اس پر تَفَاخُر ہوتا ہے کہ فلاں اس قدر جلد پڑھتا ہے ، حالانکہ اس طرح قرآنِ مجید پڑھنا حرام و سخت حرام ہے ۔  (  [6])

سوال      ستائیسویں شب کو ختمِ قرآن کے لیے ہر رکعت میں کتنی تلاوت کی جائے ؟

جواب     مُجَدِّدِ اعظم ، اعلیٰ حضرت ، شاہ  امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :  رُکوع جاری ہوئے آٹھ سو برس ہوئے ۔ مشائخِ کرام نے اَلْحَمْد شریف کے بعد پانچ سو چالیس (  ركوع) رکھے کہ تراویح کی ہر رکعت میں ایک رکوع پڑھے تو ستائيسویں شب میں کہ شبِ قدر ہے ختم ہو ۔  (  [7])

سوال      ختمِ قرآن  میں سورۂ بقرہ کی ابتدائی پانچ آیات کیوں پڑھی جاتی ہیں ؟

جواب     بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکوسب سے محبوب عمل کیاہے ؟ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  منزل پر پہنچنا اور کوچ کرنا ۔  عرض کی  :  منزل پر پہنچنااور کوچ کرنا کیا ہے ؟ ارشاد فرمایا : یہ کہ بندہ قرآنِ کریم کو شروع سے آخر تک  پڑھے اورہر بار ختم کرتے ہی پھر شروع کر دے ۔  (  [8]) سَیِّدی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزْت فرماتے ہیں  : جب وہ ایک پارہ پڑھ چکتا ہے شیطان کہتا ہے اب شاید رک جائے نہ پڑھے ۔ جب دوسرا پارہ ختم کرتا ہے تو کہتا ہے اب شاید نہ پڑھے ۔  اسی طرح ہر پارہ پر کہتا ہے ، یہاں تک کہ جب تیسوں پارے ختم ہوجاتے ہیں کہتا ہے اب نہ پڑھے گا اب ختم کرچکا ۔  پھر” اَلْمُفْلِحُوۡنَ“ تک پڑھتا ہے ۔ کہتا ہے : یہ نہ مانے گا پڑھتا ہی رہے گا ۔  مایوس ہوجاتا ہے ، اس کی امید ٹوٹ جاتی ہے ۔  (  [9])

 



[1]     ترمذی ، کتاب الوتر ، باب ماجاء فی صلاة التسبیح ، ۲ /  ۲۴ ، حدیث : ۴۸۱ ، غنیۃ المتملی ، صلاة التسبیح ، ص۴۳۱ ۔

[2]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثامن عشر فی صلاة الکسوف ، ۱ /  ۱۵۳ ۔

[3]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الاول فی المواقیت ، ۱ /  ۵۲ ، ۵۳ ۔

درمختار ، کتاب الصلاة ، ۲ /  ۴۶ ۔ ۵۰ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ /  ۴۵۵ -۴۵۷ ۔

[4]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، فصل فی تراویح ، ۱ /  ۱۱۶ ۔

[5]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۹۱ ۔

[6]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب صفة الصلاة ، ۲ /  ۳۲۰ ، بہار شریعت ، حصہ۳ ، ۱ /  ۵۴۷ ۔

[7]     ملفوظات اعلیٰ حضرت ، ص۱۴۹ ۔

[8]     ترمذی ، کتاب القراءات ، باب۱۱ ، ۴ /  ۴۳۷ ، حدیث : ۲۹۵۷ ۔

[9]     ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۵۲۴ ۔



Total Pages: 122

Go To