Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب                     سُنَّتِ فجر کی پہلی رَکعت میں  سورۂ فاتحہ کے بعد قُلْ یٰۤاَیُّہَا الْکٰفِرُوۡنَ (  سورۂ کافِرون) اور دوسری میں قُلْ ھُوَ اللّٰہ پڑھناسُنّت ہے ۔  (  [1])

سوال                        ظہر کی سنتیں اور نوافِل ادا کرنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حدیثِ پاک میں ہے  :  جس نے ظہر سے پہلے چاراور بعد میں چار (  رکعات) پر مُحافظت کی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے دوزخ پر حرام فرما دے گا  ۔  (  [2]) حضرت سَیِّدُنا علامہ ابنِ عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیفرماتے ہیں :  ایسے شخص کے لیے خوشخبری ہے کہ اس کا خاتمہ سعادت پر ہوگا اور دوزخ میں نہ جائے گا ۔  (  [3])

سوال      کونسی چار رکعت والی نماز  کی تیسری رکعت میں ثنا اور تَعَوُّذْ پڑھنے کا حکم ہے ؟

جواب     فرض اور ظہر و جمعہ کی پہلی اور بعد کی چاررکعت والی سُنّت کے علاوہ ہر چار رکعت والی نماز کی تیسری رکعت میں ثنا اور تَعَوُّذ پڑھنے کا حکم ہے ۔  (  [4])

سوال      صلوٰۃُ الْاوَّابین کی فضیلت بیان کیجئے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا ابوہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ  حضور نبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جو شخص مغرب کے بعد چھ رکعتیں پڑھے اور درمیان میں کوئی بُری بات نہ کہے تو یہ چھ رکعتیں 12 سال  کی عبادت کے برابرہوں گی ۔  (  [5]) اور ایک حدیث شریف میں ہے :  جوبعدِ مغرب چھ رکعتیں پڑھے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اگرچہ سمندر کے جھاگ برابر ہوں ۔  (  [6])

سوال      سورج گَہْن کی نماز کا حکم بتائیے اور اِس کی جماعت کی کیا شرائط ہیں؟

جواب     سورج گَہْن کی نماز سُنّتِ مؤکَّدہ ہے اورجماعت سے پڑھنا مستحب ہے ، اگر جماعت سے پڑھی جائے تو خطبہ کے سوا تمام شرائطِ جُمُعَہ اس کے لیے شرط ہیں ، وہی شخص اس کی جماعت قائم کر سکتا ہے جو جُمُعَہ کی کر سکتا ہے ، وہ نہ ہو تو تنہا گھر میں یا مسجد میں پڑھیں  ۔  (  [7])

سوال      سورج گہْن کی نماز کس وقت پڑھنے کا حکم ہے ؟

جواب     گہْن کی نماز اسی وقت پڑھیں جب آفتاب گہنا ہو ، گہن چھوٹنے کے بعد نہیں اور گہن چھوٹنا شروع ہوگیا مگر ابھی باقی ہے اُس وقت بھی شروع کر سکتے ہیں اور گہن کی حالت میں اس پر اَبْر (  یعنی بادل) آجائے جب بھی نماز پڑھیں ۔  ایسے وقت گہن لگا کہ اس وقت نماز ممنوع ہے تو نماز نہ پڑھیں ، بلکہ دُعا میں مشغول رہیں اور اسی حالت میں ڈوب جائے تو دُعا ختم کر دیں اور مغرب کی نماز پڑھیں ۔  (  [8])

سوال      صلوٰۃُ التسبیح کی فضیلت بیان کیجئے ؟

جواب     صَدرُالشّریعہ مفتی امجدعلی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  اس نماز میں بے اِنتہا ثواب ہے ، بعض محققین فرماتے ہیں :  اس کی بزرگی سن کر ترک نہ کرے گا مگر دین میں سُستی کرنے والا ۔ حضورتاجدارِ خَتمِ نَبوّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سَیِّدُنا عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا : ”اے چچا !  کیا میں تم کو عطا نہ کروں ، کیا میں تم کو بخشش نہ کروں ، کیا میں تم کو نہ دوں ، تمہارے ساتھ احسان نہ کروں ، دس خصلتیں ہیں کہ جب تم کرو تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بخش دے گا ۔  اگلا پچھلا پُرانا نیا جو بھول کرکیا اور جو قصداً  کیا چھوٹا اور بڑا پوشیدہ اور ظاہر ۔  اس کے بعد صلوٰۃُ التسبیح کی ترکیب تعلیم فرمائی پھر فرمایا :   کہ اگر تم سے ہو سکے کہ ہر روز ایک بار پڑھو تو کرو اور اگر روز نہ کرو تو ہر جمعہ میں ایک بار اور یہ بھی نہ کرو تو ہر مہینہ میں ایک بار اور يہ بھی نہ کرو تو سال میں ايک بار اور یہ بھی نہ کرو تو عمر میں ایک بارضرورپڑھو ۔  (  [9])

سوال      صلوٰۃُ التسبیح  ادا کرنے کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب   اِس نَماز کی ترکیب یہ ہے کہ تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثنا پڑھے ، پھر پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سُبْحٰنَ اللهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاللهُ اَكْبَر ، پھرسورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھ کر رُکوع سے پہلے دس باریہی تسبیح پڑھے پھر رُکوع کرے اور رُکوع میں سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم تین بار پڑھ کر پھر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر رُکوع سے سر اٹھائے اور سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہ ۔  اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَلَکَ الحَمْد کے بعد پھر کھڑے کھڑے دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر سجدے میں جائے اورسُبحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین بار پڑھ کرپھردس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے پھر سجدے سے سر اُٹھائے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھ کر دس مرتبہ یہی تسبیح پڑھے ، پھر دوسرے سجدے میں جائے اور پہلے کی طرحسُبحٰنَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی تین بار  پڑھ کر یہی تسبیح دس مرتبہ پڑھے ، اسی طرح چار رَکعت پڑھے اور خیال رہے کہ کھڑے ہونے کی حالت میں سورۂ فاتحہ سے پہلے پندرہ مرتبہ اورباقی سب جگہ یہ تسبیح دس دس بارپڑھے یوں ہر رکعت میں75 مرتبہ تسبیح پڑھی جائے



[1]      مسلم ، کتاب صلاة المسافرین وقصرھا ، باب استحباب  رکعتی سنة الفجر ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۲۸۶ ، حدیث : ۱۶۹۰ ۔

[2]     نسائی ، کتاب قیام اللیل وتطوع النھار ، باب الاختلاف علی اسماعیل بن ابی خالد ، ص۳۱۰ ، حدیث : ۱۸۱۳ ۔

[3]     ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الوتروالنوافل ، مطلب فی السنن والنوافل ، ۲ /  ۵۴۷ ۔

[4]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ /  ۵۵۲ ۔

[5]     ابن ماجہ ، کتاب اقامة الصلاة ، باب ماجاء فی الست رکعات بعدالمغرب ، ۲ /  ۴۵ ، حدیث : ۱۱۶۷ ۔

[6]     معجم اوسط ، ۵ /  ۲۵۵ ، حدیث : ۷۲۴۵ ۔

[7]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الکسوف ، ۳ /  ۷۷- ۷۹ ۔

[8]     جوھرة نیرة ، کتاب الصلاة ، باب صلاة الکسوف ، ص۱۲۳ ۔

[9]     ابن ماجہ ، کتاب اقامة الصلاة ، باب ماجاء فی صلاة التسبیح ، ۲ /  ۱۵۸ ، حدیث : ۱۳۸۷ ۔

غنیۃ المتملی ،

Total Pages: 122

Go To