Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     وِتْر میں شک ہوا کہ دوسری ہے یا تیسری تو اس میں قُنوت پڑھ کر قعدہ کے بعد ایک رکعت اور پڑھے اور اس میں بھی قُنوت پڑھے اورسجدۂ سَہْو کرے ۔  (  [1])

سوال      کیا وتر کی تینوں رکعات میں فاتحہ کے بعد سورت ملانا ضروری ہے ؟

جواب     نمازِ وِتْرکی تینو ں رکعتوں میں مطلقاً قِراءَت فرض ہے اور ہر ایک میں فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے ۔  (  [2])

سوال      نمازِ وِتْر   میں کون کونسی سورتیں پڑھنا بہتر ہے ؟

جواب     بہتر یہ ہے کہ پہلی میں”سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی“یا ”اِنَّآ اَنْزَلْنَا“دوسری میں ”قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ“تیسری میں ”قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ“پڑھے اور کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لے ۔  (  [3])

سوال      کیا رمضان کے علاوہ  نمازِ وِتْر  جماعت کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟

جواب     نہیں پڑھنا چاہئے ۔ درمختار میں ہے : رمضان شریف کے علاوہ اور دنوں میں وِتْر  جماعت سے نہ پڑھے اور اگر تَدَاعِی کے طور پر ہو تو مکروہ ہے ۔  (  [4])

سوال      وِتْر   کے بعد کتنے نوافل پڑھے جائیں اور ان میں کونسی سورتیں پڑھیں ؟

جواب     وِتْر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنا بہتر ہے ، اس کی پہلی رکعت میں اِذَا زُلْزِلَت  (  سورۂ زلزلہ) دوسری میں قُلْ یٰٓاَیُّھَا الْکٰفِرُوْن (  سورۂ کافرون) پڑھنا بہتر ہے ۔  حدیث میں ہے کہ اگر رات میں نہ اٹھا تو یہ تہجد کے قائم مقام ہوجائیں گے ۔  (  [5])

سوال      تکبیرِ قنوت کے لئے نمازی کس صورت میں ہاتھ نہ اٹھائے ؟

جواب     وِتْر کی قضا میں تکبیرِ قُنوت کے ليے ہاتھ نہ اٹھائے جبکہ لوگوں کے سامنے پڑھتا ہو کہ لوگ اس کی تقصیروکوتاہی پر مطلع ہوں گے ۔  (  [6])

سوال      اگر بھول کر وِتْر  کی پہلی یا دوسری رکعت میں دعائے قُنوت پڑھ لی تو کیا حکم ہے ؟

جواب     بھول کر پہلی یا دوسری میں دعائے قُنوت پڑھ لی تو تیسری میں پھر پڑھے یہی راجِح ہے ۔  (  [7])

سوال      عشاء سے پہلے وِتْر  پڑھ لیے تو کس صورت میں ہوجائیں گے ؟

جواب     عشاء سے پہلے وِتْر  پڑھے تو نہیں ہوں گے ، ہاں اگر بھول کر وِتْر  پہلے پڑھ ليے تو ہوگئے ۔  (  [8])

سنتیں اور نوافل

سوال      سنتِ مؤکّدہ سے کیا مراد ہے اور اس  کا حکم کیا ہے ؟

جواب     جن سنتوں پر شریعت میں تاکید آئی ہے انہیں سنتِ مؤکّدہ کہتے ہیں ، جو بغیر عذر ایک بار بھی ترک کرے وہ ملامت کا مستحق ہے اورترک کی عادت بنائے تو فاسق ہے ، اُس کی گواہی قبول نہیں اور وہ جہنم کاحق دار ہے اوربعض علما کے نزدیک گمراہ اور گنہگار ہے ، اگرچہ اس کا  گناہ واجب کے ترک سے کم ہے ۔  تلویح میں ہے کہ اس کا ترک حرام کے قریب ہے اورترک کرنے والا اِس کامستحق ہے کہ مَعَاذَاللہ !  شفاعت سے محروم ہو جائے کیونکہ حضور اَقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  ”جو میری سنّت کو ترک کرے گا اسے میری شفاعت نہ ملے گی ۔ “ سنّتِ مؤکّدہ کو سُنَنُ الْہُدیٰ بھی کہتے ہیں ۔  (  [9])

سوال      تاکید کے اعتبار سے سنتِ مؤکّدہ کے درجات بیان کیجئے ؟

 جواب    سب سنتوں میں قوی تر سنّتِ فجر ہے ، یہاں تک کہ بعض اس کو واجب کہتے ہیں ۔ سنتِ فجر کے بعد مغرب کی سُنّتوں کا درجہ ہے ، پھر ظہرکے بعد کی ، پھر عشا کے بعد کی ، پھر ظہر سے پہلے کی سنتیں ہیں اورزیادہ صحیح قول کے مطابق سُنّتِ فجر کے بعد ظُہر کی پہلی سنتوں کا مرتبہ ہے کہ حدیث میں خاص ان کے بارے میں فرمایا کہ جو ان کو ترک کرے گااُسے میری شفاعت نہ پہنچے گی ۔  (  [10])

سوال      فجر کی سنتوں میں کونسی سورتیں پڑھنا سُنّت ہے ؟

 



[1]     فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب الثانی عشر فی سجود السھو ، ۱ /  ۱۳۱ ۔

[2]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۵۴ ۔

[3]     بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۵۴ ۔

[4]     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ /  ۶۰۴ ۔

[5]     غنیۃ المتملی ، صلاة الوتر ، ص۴۲۴ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۵۸ ۔

[6]     ردالمحتار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ /  ۵۳۳ ۔

[7]     غنیۃ المتملی ، صلاة الوتر ، ص۴۲۴ ۔

[8]     درمختار ، کتاب الصلاة ، ۲ /  ۲۳ ۔

[9]     ماخوذ ازبہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۶۲ ۔

[10]     درمختار ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنوافل ، ۲ /  ۵۴۸ ۔

فتاوی ھندیة ، کتاب الصلاة ، الباب التاسع فی النوافل ، ۱ /  ۱۱۲ ، بہار شریعت ، حصہ۴ ، ۱ /  ۶۶۳ملخصاً ۔



Total Pages: 122

Go To