Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جان بوجھ کر نَماز پڑھنا سخت گناہ ہے اور اگر دِرہَم کے برابر کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہو تو اس کا پاک کرنا واجِب ہے اگربغیر پاک کئے نَماز پڑھ لی تو نماز مکروہ ِتحریمی ہوگی اور ایسی صورت میں کپڑے یا بدن کو پاک کرکے دوبارہ نَماز پڑھنا واجب ہے ،  (  اور اگر) درہم سے کم کپڑے یا بدن پر لگی ہوئی ہے تو اس کا پاک کرنا سُنّت ہے اگربغیر پاک کیے نماز پڑھ لی تو نماز ہوجائے گی ، مگر خلافِ سنّت ، ایسی نماز کو دہرا لینا بہتر ہے ۔  (  [1])

سوال      نَجاست کا ایک درہم کی مقدار ہونے سے کیا مراد ہے ؟

جواب     نَجاستِ غَلیظہ کا دِرہَم یا اس سے کم یا زیادہ ہونے سے مُراد یہ ہے کہ نَجاستِ غلیظہ اگر گاڑھی ہو مثلاً پاخانہ ، لِید وغیرہ تو دِرہَم سے مُراد وَزن میں ساڑھے چار ماشہ (  یعنی 4.374گرام) ہے ، لہٰذا اگر نَجاست دِرہم سے زیادہ یاکم ہے تو اس سے مُراد وَزن میں ساڑھے چار ماشے سے کم یا زیادہ ہونا ہے اور اگرنَجاستِ غَلیظہ پتلی ہو جیسے پیشاب وغیرہ تو دِرہم سے مُراد لمبائی چوڑائی ہے یعنی ہتھیلی کو خوب پھیلا کر ہموار رکھئے اور اس پر آہستگی سے اِتنا پانی ڈالئے کہ اس سے زیادہ پانی نہ رُک سکے ، اب جتنا پانی کا پھیلاؤہے اُتنابڑا دِرہم سمجھا جائے گا ۔  (  [2])

سوال      اگر کپڑے یا بدن پر چند مقامات پرایک درہم سے کم نجاست لگی ہو تو کیا حکم ہے ؟

جواب     کسی کپڑے یا بدن پر چند جگہ نَجاستِ غلیظہ لگی اور کسی جگہ دِرہم کے برابر نہیں ، مگر مجموعہ درہم کے برابر ہے ، تو درہم کے برابر سمجھی جائے گی اور زائد ہے تو زائد ۔  (  [3])

سوال      مختلف جانوروں کے پیشاب اور ان کی بِیٹ کا کیا حکم ہے ؟

جواب     جن جانوروں کا گوشت حلال ہے  (  جیسے گائے ، بیل ، بھینس ، بکری ، اونٹ وغیرہا ) ان کا پیشاب ، نیز گھوڑے کا پیشاب اور جس پرندے کا گوشت حرام ہے ، خواہ شکاری ہو یا نہیں (  جیسے کوّا ، چیل ، شِکرہ ، باز) اس کی بِیٹ نَجاستِ خفیفہ ہے ۔  (  [4])

سوال      نجاستِ خفیفہ کا حکم بتائیے ؟

جواب     نَجاستِ خفیفہ کا حکم یہ ہے کہ کپڑے کے جس حصّے یا بدن کے جس عُضْو میں لگی ہے اگر اس کی چوتھائی سے کم ہے تومُعاف ہے ، مثلاً آستین میں نَجاستِ خفیفہ لگی ہوئی ہے تو اگر آستین کی چوتھائی سے کم ہے یا دامن میں لگی ہے تو دامن کی چوتھائی سے کم ہے یا اسی طرح ہاتھ میں لگی ہے تو ہاتھ کی چوتھائی سے کم ہے تو مُعاف ہے یعنی اس صورت میں پڑھی گئی نماز ہوجائے گی ۔  البتّہ اگر پوری چوتھائی میں لگی ہو توبغیر پاک کئے نماز نہ ہوگی ۔  (  [5])

سوال      کسی کے منہ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک میں سرخی آگئی اور اس نے فوراً پانی پی لیا تو اس کے جوٹھے پانی کا کیا حکم ہے ؟

جواب     یہ جُوٹھا  (  پانی) ناپاک ہے اور سرخی جاتی رہنے کے بعد اس پر لازم ہے کہ کلّی کرکے منہ پاک کرے اور اگر کُلی نہ کی اور چند بار تھوک کا گزر مَوضَعِ نَجاست  (  یعنی ناپاک حصّے ) پر ہوا خواہ نگلنے میں یا تھوکنے میں یہاں تک کہ نَجاست کا اثر نہ رہا تو طہارت ہو گئی اسکے بعد اگر پانی پئے گا تو پاک رہے گا اگرچہ ایسی صورت میں تھوک نگلنا سخت ناپاک بات اور گناہ ہے ۔  (  [6])

سوال      اگر نجاست کا رنگ کپڑے پر باقی رہ جائے تو کیا حکم ہے ؟

جواب     اگر نَجاست دور ہو گئی مگر اس کا کچھ اثر رنگ یا بُو باقی ہے تو اسے بھی زائل کرنا لازم ہے ہاں اگر اس کا اثر بَدِقّت (  یعنی دشواری سے ) جائے تو اثر دُور کرنے کی ضرورت نہیں تین مرتبہ دھولیا پاک ہو گیا ، صابُن یا کھٹائی یا گرم پانی (  یا کسی قسم کے کیمیکل وغیرہ) سے دھونے کی حاجت نہیں ۔  (  [7])

اذان واقامت

سوال      کون سے دو صحابہ ٔکرام کو خواب میں اذان سکھائی گئی ؟

جواب       امیر المؤمنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظم اور حضرت سَیِّدُناعبداﷲ بن زید بن عبد رَبِّہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا  کو اَذان خواب میں تعلیم ہوئی ، حضور نبیٔ غیب دان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا :  ”یہ خواب حق ہے “ اور عبد اﷲ بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے فرمایا :  ”جاؤ بلال کو تلقین کرو ، وہ اَذان کہیں کہ وہ تم سے زیادہ بلند آواز ہیں ۔ “[8])

سوال      اذان کہنے کی فضیلت پر کوئی تین روایات سنائیے ؟

جواب   (  1) مُؤذِّن کی جہاں تک آواز پہنچتی ہے ، اس کے ليے مغفرت کر دی جاتی ہے اورہر تر و خشک جس نے آواز سنی اس کے ليے گواہی دے گا ۔  (  [9])   (  2) ثواب کی طلب



[1]     بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ۱ /  ۳۸۹ ۔

[2]     بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ۱ /  ۳۸۹ ۔

[3]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، باب الانجاس ، مطلب اذا صرح ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۵۸۲ ۔

[4]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۶ ۔

[5]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۶ ، بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۳۸۹ ۔

[6]     فتاوی ھندیة ، الباب الثالث فی المیاہ ، الفصل الثانی فیما لایجوز بہ التوضؤ ، ۱ /  ۲۳ ، بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۳۴۱ ۔

[7]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۲ ، بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۳۹۷ ۔

[8]     ابو داود ، کتاب الصلاة ، باب کیف الاذان ، ۱ /  ۲۱۰ ، حدیث : ۴۹۹ ۔

[9]     مسند امام  احمد ، مسند ابی ھریرة ، ۳ /  ۴۲۰ ، حدیث : ۹۵۴۶  ۔



Total Pages: 122

Go To