Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     اگر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں نہ پانی ملتا ہے نہ پاک مٹی تواسے چاہئے کہ وقتِ نماز میں نماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکاتِ نماز بِلا نیتِ نماز بجا لائے ۔  (  [1])

سوال      کس تیمم سے ایک نماز کے بعد دوسری نماز پڑھنا جائز نہیں؟

جواب     نمازِ جنازہ یا عِیدَیْن یا سنّتوں کے لیے اس غرض سے تیمم کیا ہو کہ وُضو میں مشغول ہو گا تو یہ نمازیں فوت ہو جائیں گی تو اس تیمم سے اس خاص نماز کے سوا کوئی دوسری نماز جائز نہیں ۔  (  [2])

سوال      کس صورت میں پانی پر قدرت کے باوجود تیمم جائز ہے ؟

جواب     اگر کسی کے پاس پانی ہے مگر وُضو یا غُسل میں استعمال کرے گا تو خود یا دوسرا مسلمان یا اپنا یا اس کا جانور اگرچہ وہ کتّا جس کا پالنا جائز ہے ، پیاسا رہ جائے گا اور اپنی یا ان میں سے کسی کی پیاس خواہ فی الحال موجود ہو یا آئندہ اس کا صحیح اندیشہ ہو کہ وہ راہ ایسی ہے کہ دور تک پانی کا پتا نہیں تو تیمم جائز ہے ۔  (  [3])

سوال      کیا گدّے یا دَرِی  وغیرہ سے تیمم کیا جاسکتا ہے ؟

جواب     گدّے اور دری وغیرہ میں غُبار ہے تو اس سے تیمم کر سکتا ہے اگرچہ وہاں مٹی موجود ہو جب کہ غبار اتنا ہو کہ ہاتھ پھیرنے سے انگلیوں کا نشان بن جائے ۔  (  [4])

سوال      غسل فرض ہو لیکن پانی صرف وضو جتنا ہے تو کیا حکم ہے ؟

جواب     اتنا پانی ملا جس سے وُضو ہو سکتا ہے اور اسے نہانے کی ضرورت ہے تو اس پانی سے وُضو کر لینا چاہئے اور غُسل کے لیے تیمم کرے ۔  (  [5])

سوال      کوئی تیمم کرکے نماز پڑھ رہاتھا  کہ کسی کے پاس پانی دیکھااب کیا کرے ؟

جواب     اگر گمانِ غالب ہے کہ وہ پانی دے دیگا تو چاہئے کہ نماز توڑ دے اور اس سے پانی مانگے ، اگر نہیں مانگا اور نماز پوری کرلی اور بعد میں اس نے پانی دے دیا تو نماز کا اِعَادَہ لازم ہے  ۔  (  [6])

سوال      سردی کے سبب کس صورت میں تیمم جائز ہوگا؟

جواب     اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مر جانے یا بیمار ہونے کا قوی اندیشہ ہو اور لحاف وغیرہ کوئی ایسی چیز اس کے پاس نہیں جسے نہانے کے بعد اوڑھے اور سردی کے ضَرَر سے بچے نہ آگ ہے جسے تاپ سکے تو تیمم جائز ہے ۔  (  [7])

نجاست

سوال      نجاست کی کتنی اور کو ن کونسی قسمیں ہیں ؟

جواب     نجاست کی دو قسمیں ہیں :  (  1) نجاستِ حقیقیہ (  2) نجاستِ حکمیہ ۔  (  [8])

سوال      نجاستِ حقیقیہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب     نجاستِ حقیقیہ وہ ناپاک چیز ہے جو کپڑے یا بدن وغیرہ پر لگ جائے تو ظاہر طور پر معلوم ہو جاتی ہے جیسے پاخانہ پیشاب وغیرہ  ۔

سوال      نجاستِ حکمیہ سے کیا مراد ہے ؟

جواب     نجاستِ حکمیہ وہ ہے جو نظر نہیں آ تی یعنی صرف شریعت کے حکم سے اسے ناپاکی کہتے ہیں جیسے بے وُضو ہونا یا غسل کی حاجت ہونا  ۔

سوال      نجاستِ حقیقیہ کی کتنی قسمیں ہیں ؟

جواب     نَجاستِ حقیقیہ کی دو قسمیں ہیں :  (  1) نَجاستِ غَلِیظہ (  غَ ۔ لِی ۔ ظَہ)  (  2) نَجاستِ خفیفہ  (  خَ ۔  فِی ۔ فَہ) ۔   (  [9])

سوال      نجاستِ غلیظہ کسے کہتے ہیں؟

جواب     انسان کے بدن سے جو ایسی چیز نکلے کہ اس سے غُسل یا وُضو واجِب ہو نَجاستِ غلیظہ ہے جیسے پاخانہ ، پیشاب ، بہتا خون ، پِیپ ، منہ بھرقَے وغیرہ ۔  (  [10])

سوال      نجاستِ غلیظہ کا حکم بیان کیجئے ؟

جواب   نَجاستِ غَلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن پر ایک دِرہَم سے زیادہ لگ جائے تو اس کا پاک کرنا فرض ہے ، بغیرپاک کئے اگر نَماز پڑھ لی تو نَماز نہ ہوگی اور اس صورت میں



[1]     بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ۱ / ۳۵۳ ۔

[2]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، باب التیمم ، ۱ /  ۴۵۵ ۔

[3]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الرابع فی التیمم ، ۱ /  ۲۸  ۔

[4]     فتاویٰ رضویہ ، ۳ /  ۳۰۲ ۔

[5]     فتاوی تاتار خانیة ، کتاب الطھارة ، الفصل الخامس فی التیمم ، ۱ /  ۲۵۵ ۔

[6]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الرابع فی التیمم ، ۱ /  ۲۹  ۔

[7]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، باب التیمم ، ۱ /  ۴۴۳ ، بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ۱ / ۳۴۸ ۔

[8]     مجمع الانھر ، کتاب الطھارة ، باب الانجاس ، ۱ /  ۸۶ ۔

[9]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۵ ۔

[10]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۶ ۔



Total Pages: 122

Go To