Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     جورَطوبَت انسانی بدن سے نکلے اور وُضو نہ توڑے وہ نجس نہیں ۔  مَثَلاًخون یا پیپ بہہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ منہ بھر نہ ہو پاک ہے ۔  (  [1]) خارِش یا پھُڑیوں میں اگر بہنے والی رَطُوبت نہ ہو صِرف چِپَک ہو اور کپڑا اس سے بار بار چھو کر چاہے کتنا ہی سَن جائے پاک ہے ۔  (  [2])

سوال      مشکوک پانی سے کیا مراد ہے ؟

جواب     اس سے مراد وہ پانی ہے جس کے وضو کے قابل ہونے میں شک ہو ، گدھے ، خچر کا جُوٹھا مشکوک ہے ، لہٰذا اس سے وُضو نہیں ہوسکتا کیونکہ بے وضو ہونا یقینی ہے اور یقینی ناپاکی مشکوک چیز سے زائل نہیں ہوسکتی ۔  (  [3])

سوال      مشکوک پانی کا حکم بیان کیجئے ؟

جواب     اچھا پانی ہوتے ہوئے مشکوک سے وُضو و غُسل جائز نہیں اور اگر اچھا پانی نہ ہو تو اسی سے وُضو وغُسل کرلے اور تیمم بھی اور بہتر یہ ہے کہ وُضو پہلے کر لے اور اگر عکس کیا یعنی پہلے تیمم کیا پھر وُضو جب بھی حَرَج نہیں اور اس صورت میں وُضو اور غُسل میں نیت کرنی لازمی ہے  اور اگر وُضو کیا اور تیمم نہ کیا یا تیمم کیا اور وُضو نہ کیا تو نماز نہ ہوگی ۔  (  [4])

سوال      جن جانوروں کا جوٹھاناپاک ہے ان کے پسینہ کا کیا حکم ہے ؟

جواب     جس کا جوٹھا ناپاک ہے اُس کا پسینہ اور لُعاب بھی ناپاک ہے اور جس کا جُوٹھا پاک اس کا پسینہ اور لُعاب بھی پاک اور جس کا جُوٹھا مکروہ اس کا لُعاب اور پسینہ بھی مکروہ ۔  (  [5])

وضو

سوال      وضو کرتے ہوئے کیا نیت ہونی چاہئے ؟

جواب     وضو پر ثواب پانے کے لیے حکمِ الہی بجالانے کی نیت سے وضو کرنا ضروری  ہے ورنہ وضو ہوجائے گامگرثواب نہ پائے گا ۔  (  [6])

سوال      نماز کی کنجی کیا ہے ؟

جواب     حضور جانِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : جنّت  کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وُضو ہے ۔  (  [7])

سوال      وُضو  میں بِالتّرتیب اعضا دھونے سے کون ساطبّی فائدہ حاصل ہوتا ہے ؟

جواب     وُضو  میں پہلے ہاتھ دھونے پھر کلّی کرنے پھر ناک میں پانی ڈالنے پھر چہرہ اور دیگر اعضا دھونے کی ترتیب فالج کی روک تھام کے لیے مفید ہے ۔  (  [8])

سوال      بیسن پر کھڑے کھڑے وضو کرناکیسا ہے ؟

جواب     بیسن پر کھڑے کھڑے وضو کرنا خلافِ مستحب ہے ۔  (  [9])

سوال      مسواک کے چند طبّی  فوائد بتائیے ؟

جواب     مسواک سے قوّتِ حافظہ بڑھتی ، دردِ سر دور ہوتا اور سر کی رگوں کو سکون ملتا ہے ، اس سے بلغم دور ، نظر تیز ، معدہ درست اور کھانا ہضم ہوتا ہے ، عقل بڑھتی ، بچوں کی پیدائش میں اضافہ ہوتا ، بڑھاپا دیر میں آتا اور پیٹھ مضبوط ہوتی ہے  ۔  (  [10])

سوال      وضو کے بعد یاد آیا کہ کوئی عُضْو دھونے سے رہ گیا ہے مگر یا د نہیں کہ کون سا تو اب کیا کرے ؟

جواب     ایسی صورت میں بایاں  (  یعنی الٹا ) پاؤں دھو لیا جائے  ۔  (  [11])

سوال      کس صورت میں بے وضو شخص دہ دردہ (  یعنی سوہاتھ / پچیس گز / دوسو پچیس فُٹ) سے کم پانی میں بے دُھلا ہاتھ ڈال دے  تو پانی مستعمل نہیں ہوگا؟

جواب     اگر پانی بڑے برتن میں ہو اور کوئی چھوٹا برتن بھی نہیں کہ اس میں پانی اونڈیل کر ہاتھ دھوئے تو اسے چاہئے کہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر صرف وہ انگلیاں پانی میں ڈالے ، ہتھیلی کا کوئی حصہ پانی میں نہ پڑے اور پانی نکال کر دہنا ہاتھ گِٹّے تک تین بار دھوئے پھر دہنے ہاتھ کو جہاں تک دھویا ہے بِلا تکلّف پانی میں ڈال سکتا ہے  ۔  (  [12])

سوال      ایسی کوئی  ایک صورت  بتائیں جس میں بالغ شخص نماز میں قَہقَہَہ لگائے پھر بھی  اُس کاوضو باقی رہے ؟

 



[1]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب فی حکم کی الحمصة ، ۱ /  ۲۹۴ ۔

[2]     ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ۱ /  ۲۸۰ ۔

[3]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، ۱ /  ۲۴ ، ماخوذ از بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۳۴۳ ۔

[4]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، ۱ /  ۲۴ ۔

[5]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، ۱ /  ۲۳ ، بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۳۴۴ ۔

[6]     رد المحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب الفرق بین الطاعةوالقربة والعبادة ، ۱ /  ۲۳۸ ۔

[7]     مسند امام احمد ، مسند جابر بن عبداللہ ، ۵ /  ۱۰۳ ، حدیث : ۱۴۶۶۸ ۔

[8]     نماز کے احکام ، ص۷۰ ۔

[9]     نماز کے احکام ، ص۳۸ ۔

[10]     حاشیة طحطاوی ، کتاب الطھارة ، فصل فی سنن الوضوء ، ص۶۹ ۔

[11]     درمختار ، کتاب الطھارة ، ۱ /  ۳۱۰ ۔

[12]     بہار شریعت ، حصہ ۲ ، ۱ / ۲۹۳ ۔



Total Pages: 122

Go To