Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جس پر حد قائم کی گئی وہ جب تک توبہ نہ کرے مَحْض حد قائم کرنے سے پاک نہ ہوگا ۔  (  [1])

طہارت

سوال      ہر شخص کوطہارت کے کس قدر مسائل واحکام سیکھنا ضروری ہیں؟

جواب     ہر عاقِل و بالغ مسلمان مرد وعورت کے لیے طہارت کے وہ اَحکام سیکھنے فرض عین ہیں جن سے نَماز دُرُست ہو سکے  ۔  (  [2])

سوال      امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی نے طہارت کے کتنے مراتب بیان فرمائے ہیں؟

جواب     حُجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی فرماتے ہیں  : طہارت کے 4 مراتب ہیں :   (  1) اپنے ظاہر کو احداث (  یعنی ناپاکیوں اور نجاستوں) سے پاک کرنا  (  2) اعضا کو جرائم اور گناہوں سے پاک کرنا (  3) اپنے دل کو بُرے اخلاق سے پاک کرنااور (  4) اپنے باطن کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غیر سے پاک رکھنا ۔  (  [3])

سوال      دل کی طہارت کس طرح حاصل ہوتی ہے ؟

جواب     حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِیارشاد فرماتے ہیں :  ظاہِری وُضو کر لینے والے کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دل کی طہارت  (   یعنی صفائی) توبہ کرنے اور گناہوں کو چھوڑنے اور عمدہ اخلاق اپنانے سے ہوتی ہے ۔ جو شخص دل کو گناہوں کی آلودگیوں سے پاک نہیں کرتا فقط ظاہِری طہارت  (   یعنی صفائی ) اور زَیب و زینت پر اِکتفا کرتا ہے اُس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو بادشاہ کو مَدعو کرتا ہے اور اپنے گھر بار کو باہَر سے خوب چمکاتا ہے اور رنگ و روغن کرتا ہے مگر مکان کے اندر ونی حصّے کی صفائی پر کوئی توجُّہ نہیں دیتا ۔ پھر جب بادشاہ اُس کے مکان کے اندر آکر گندگیاں دیکھے گا تو وہ ناراض ہوگا یا راضی یہ ہر ذی شعور خود سمجھ سکتا ہے ۔  (  [4])

سوال      گھر سے  وضو کرکے فرض نماز کے لئے مسجد میں جانے والے کا کیا انعام ہے ؟

جواب     حضرت سیدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضورتاجدارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جو شخص اپنے گھر میں طہارت  (  یعنی وضو وغسل) کرکے فرض ادا کرنے کے لئے مسجد کو جاتا ہے تو ایک قدم پر ایک گناہ  مٹ جاتا ہے اور دوسرے پر ایک درجہ بلند ہوتا ہے ۔  (  [5]) اورایک حدیث شریف میں یہ فرمایا :  جو طہارت کرکے اپنے گھر سے فرض نمازکے ليے نکلا اس کا اجر ایسا ہے جیسا احرام والے حاجی کا ۔  (  [6])

سوال      رات میں اٹھ کر طہارت کرکے دعا مانگنے کی کیا فضیلت ہے ؟

جواب     حضور پُرنور ، شافِعِ یَوْمُ النُّشُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  میرا جو اُمتی رات کو بیدار ہوکر خود کو طہارت کی طرف مائل کرتاہے حالانکہ اس پر شیطان گرہیں لگا چکاہوتاہے ، جب وہ اپنے ہاتھ دھوتاہے تو ایک گِرَہ کھل جاتی ہے ، جب وہ چہرہ دھوتاہے تو دوسری گِرَہ کھل جاتی ہے ، جب وہ اپنے سر کا مسح کرتاہے تو تیسری گِرَہ کھل جاتی ہے اور جب وہ پاؤں دھوتاہے تو چوتھی گِرَہ کھل جاتی ہے تب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ حجاب کے پیچھے موجود فرشتوں سے فرماتاہے :  ”دیکھومیرے اس بندے کو جوخودکو مجھ سے سوال کرنے پر مائل کرتاہے یہ بندہ مجھ سے جو کچھ مانگے گاوہ اسے عطا کیاجائے گا ۔ ‘‘[7])

سوال      کیاطہارت کے بعد بچ جانے والے پانی سے وضو کیا جاسکتا ہے ؟

جواب     طہارت کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کر سکتے ہیں ، بعض لوگ جو اس کو پھینک دیتے ہیں یہ نہ چاہئے (  یعنی ایسا نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ایسا کرنا) اِسراف میں داخل ہے ۔  (  [8])

سوال      وہ كونسا حوض ہے جو مکمل بھرا ہوتو ناپاک  ہے لیکن کم بھرا ہو تو پاک ہے ؟

جواب     کوئی حوض ایساہے کہ اُوپر سے تنگ اور نیچے کُشادہ ہے یعنی اوپر دَہ در دَہ (  یعنی سوہاتھ / پچیس گز / دوسوپچیس فُٹ) نہیں اور نیچے دَہ دردَہ یازِیادہ ہے اگر ایسا حَوض  اوپر تک بھرا ہوا ہو اور نَجاست پڑے توناپاک ہے ، پھراگر اُس کا پانی گَھٹ گیا اور وہ دَہ در دَہ ہو گیا تو پاک ہوگیا ۔  (  [9])

سوال      اگر جسم یا کپڑے سے کتا چھوجائے تو کیا حکم ہے ؟

جواب     کتابدن یا کپڑے سے چُھو جائے تو اگرچِہ اس کا جِسْم تَر ہو بدن اور کپڑا پاک ہے ، ہاں اگر اس کے بدن پر نَجاست لگی ہو تو اور بات ہے یا اس کا لُعاب لگے تو ناپاک کر دے گا ۔  (  [10])

سوال      انسانی جسم سے نکلنے والی رَطُوبَت کب پاک ہے ؟

 



[1]     بہارِ شریعت ، حصہ ۷ ، ۲ / ۳۶۲ ۔

[2]     نجاستوں کا بیان مع کپڑے پاک کرنے کا طریقہ ، ص ۱ ۔

[3]     لباب الاحیاء ، الباب الثالث فی اسرار الطھارة ، ص۴۹ ۔

[4]     احیاء علوم الدين ، کتاب الطھارة ، القسم الثانی فی طھارة الاحداث ، ۱ /  ۱۸۵ ، ماخوذاً ۔

[5]     مسلم ، کتاب المساجد ، باب المشی الصلاة تمحی بہ...الخ ، ص۲۶۳ ، حدیث : ۱۵۲۱ ۔

[6]     ابو داود ، کتاب الصلاة ، باب ماجاء فی فضل المشی الی الصلاة ، ۱ /  ۲۳۱ ، حدیث : ۵۵۸ ۔

[7]     ابن حبان ، کتاب الطھارة ، باب فضل الوضوء ، ۲ /  ۱۹۴ ، حدیث : ۱۰۴۹  ۔

[8]     ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ۴ /  ۵۷۵ ۔

[9]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب الثالث فی المیاہ ، ۱ /  ۱۹ ۔

[10]     فتاوی ھندیة ، کتاب الطھارة ، الباب السابع فی النجاسة واحکامھا ، ۱ /  ۴۸ ۔



Total Pages: 122

Go To