Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

اسلام کے ہرعام وخاص پر روشن وواضح ہو جب تو اس کے منکر کے کافر ہونے پر ایسااِجماعِ قطعی ہے کہ جو اس کے کفر میں شک کرے وہ خود بھی کافر ہے اور جو کسی فرضِ اعتقادی کوجان بوجھ کر بغیر کسی صحیح شرعی عذر کے ایک بار بھی چھوڑے وه فاسق ، گناہِ کبیرہ کا مُرتَکِبْ اور عذابِ نار کا حقدار ہے جیسے نماز ، رکوع ، سجود وغیرہ ۔  (  [1])

سوال      فرضِ کفایہ کیا ہوتا ہے ؟

جواب     فرضِ کفایہ وہ ہوتاہے جوکچھ لوگوں کے اداکرنے سے سب کی جانب سے ادا ہوجاتاہے اورکوئی بھی ادانہ کرے توسب گناہ گارہوتے ہیں ۔ جیسے نمازِجنازہ وغیرہ ۔  (  [2])

سوال      واجب  کسے کہتے ہیں؟

جواب     ايسا كام جس كو كرنا ضروری ہو اور اس کا ثبوت دلیلِ ظنّی سے ہو ، اس کا منکر گمراہ و بے دین ہے ۔  (  [3])

سوال      سُنّتِ مؤکّدہ اور غیر مؤکّدہ کی  کیا تعریف ہے ؟

جواب     سُنّتِ مؤکّدہ وہ كام جسے حضورنبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ہمیشہ فرمایا ہو البتہ بیانِ جواز کے لیے کبھی ترک بھی فرمایاہو ، اس كا نادراً چھوڑنے والا بھی عِتاب کا مستحق اور عادتاً چھوڑنے والا عذاب کا مستحق ہے ۔ جبکہ سنتِ غیر مؤکدہ وہ كام جس کو چھوڑنا شریعتِ مطہرہ کی نظر میں ناپسندہو ، چاہے اس پر حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے  ہمیشگی فرمائی ہو یا نہیں ، اس کو چھوڑنا شریعت کو ناپسند ہے لیکن چھوڑنے والا عتاب کا مستحق نہیں  ۔  (  [4])

سوال      مستحب کے کیا معنی ہیں؟

جواب     مستحب وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگرترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو ، خواہ خود حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا ۔  (  [5])

سوال      اصطلاحِ شرع میں مُباح کسے کہتے ہیں؟

جواب     جس کے کرنے اور چھوڑنے دونوں کی اجازت ہو ، نہ اس میں ثواب ہے نہ اس میں عذاب ہے ۔  (  [6])

سوال      کیاجائزو مُباح کام مستحب بن سکتا ہے ؟

جواب     جی ہاں !  اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  ہر مُباح نیتِ حَسَن  (  یعنی اچھی نیت) سے مستحب ہو جاتا ہے  ۔  (  [7])

سوال      حرامِ قطعی کی وضاحت کیجئے ؟

جواب     وہ عمل جس کی ممانعت دلیلِ قطعی سے لزوماً ثابت ہو ، یہ فرض کا مُقابِل ہے ۔  (  [8])

سوال      مکروہِ تحریمی اور مکروہِ تنزیہی میں کیا فرق ہے ؟

جواب     مکروہِ تحریمی یہ واجب کا مُقابِل ہے اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا ارتکاب  (  گناہِ) کبیرہ ہے ۔ جبکہ مکروہِ تنزیہی وہ کام ہے جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر اس حدتک نہیں کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔ یہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے ۔  (  [9])

سوال      اِساءَ ت کسے کہتے ہیں؟

جواب     وہ ممنوعِ شرعی جس کی ممانعت کی دلیل حرام اورمکروہِ تحریمی جیسی تو نہیں مگر اس کاکرنا بُرا ہے ، یہ سنّتِ مؤکّدہ کے مُقابِل ہے ۔  (  [10])

سوال      شَرَعی معذور کون ہوتا ہے ؟

جواب     وہ شخص جس کو کوئی ایسی بیماری ہو کہ ایک وقت پورا ایسا گزر گیا کہ وُضو کے ساتھ نمازِ فرض ادا نہ کرسکاتووہ معذورہے [11]) ۔   (  [12])

سوال      شرعی اِصطلاح میں ’’حد‘‘سے کیا مراد ہے ؟

جواب   حد ایک قسم کی سزا ہے جس کی مقدار شریعت کی جانب سے مُقَرَّر ہے کہ اُس میں کمی بیشی نہیں ہوسکتی اس سے مقصودلوگوں کو ایسے کام سے باز رکھنا ہے جس کی یہ سزا ہے اور



[1]     ماخوذ از بہارِ شريعت ، حصہ٢ ، ١ / ٢٨٢ ۔

[2]     وقار الفتاویٰ ، ۲ /  ۵۷ ۔

[3]     ماخوذ از فتاویٰ فقیہ ملت ، ۱ /  ۲۰۴ ۔

[4]     ماخوذ از بہار ِشریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۲۸۳ ۔

[5]     بہارِ شریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۲۸۳ ۔

[6]     بہارشریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ /  ۳۵۸ ۔

[7]     فتاویٰ رضویہ ، ۸ /  ۴۵۲ ۔

[8]     ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب فی الفرض القطعی والظنی ، ۱ /  ۲۱۵ ماخوذاً ، بہارشریعت ، حصہ۲ ، ۱ /  ۲۸۳ ۔

[9]     بہار شریعت ، حصہ۲ ، ۱ / ۲۸۳ ۔

[10]     ہمارا اسلام ، ص۱۹۵ ، ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، مطلب فی السنة وتعریفھا ، ۱ /  ۲۳۰ ، ماخوذاً ۔

[11]     معذورِ شرعی کے احکام جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 499 صفحات  پر مشتمل کتاب ”نماز کے احکام“کے صفحہ 43تا46کا مطالعہ فرمالیجئے ۔

[12]     درمختار مع ردالمحتار ، کتاب الطھارة ، باب الحیض ، مطلب فی احکام المعذور ، ۱ /  ۵۵۴ ۔



Total Pages: 122

Go To