Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

تَعَالٰی عَلَیْہَاکے کھجور کے سوکھے تنے کو ہلانے پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں  گرنے والا واقعہ ۔  (  [1]) حضراتِ اصحابِ کہف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کا غار میں سینکڑوں  سال تک سوئے رہنے والا واقعہ ۔  (  [2]) اورحضرت آصف بن برخیارَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا پلک جھپکنے سے پہلے میلوں دور سے تخت لانے والا واقعہ  ۔  (  [3]) یہ سب واقعات ولی سے کرامات ظاہر ہونے کی دلیل ہیں ۔

سوال      اولیاءِ کرام کو لوگوں میں پوشیدہ رکھنے کی کیا حکمت ہے ؟

جواب     اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے اپنے ولی کو لوگوں  میں  اِس لیے پوشیدہ رکھا تا کہ لوگ سب مسلمانوں کی تعظیم کریں ۔  (  [4])

سوال      ولایت کسبی  ہے یا عطائی؟

جواب     ولایت یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا مُقرّب و مقبول بندہ ہونا محض اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا عطیہ ہے جو کہ مولیٰ کریم عَزَّ  وَجَلَّ اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے ۔  ہاں عبادت وریاضت بھی کبھی کبھی اس کا ذریعہ بن جاتی ہے اور بعضوں کو ابتداءً بھی مل جاتی ہے ۔  (  [5])

سوال      کیا ولی ہونے کے لیے کرامت کا ظہور ضروری ہے ؟

جواب     اکثراولیاءِ کرام سے کرامات ظاہر ہوتی ہیں ، اولیاءِ کرام اپنی ولایت اور کرامات کو چھپاتے ہیں ، ہاں جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے حکم پاتے ہیں تو ظاہر کردیتے ہیں ۔  اس کامطلب یہ ہرگز نہیں کہ جس سے کرامت ظاہر نہ ہو وہ ولی ہی نہیں ۔  (  [6])

سوال      فیضانِ اولیاء ہم تک کس طرح پہنچتا ہے ؟

جواب     اَوْلِیَاءُ اللہ کی محبت دونوں جہانوں کی سعادت اور رضائے الٰہی کا سبب ہے ۔  ان کی برکت سے اللہ تعالیٰ مخلوق کی حاجتیں پوری کرتا ہے ۔  ان کی دعاؤں سے مخلوق فائدہ اٹھاتی ہے ۔  ان کے مزاروں کی زیارت ، ان کے عُرسوں میں شرکت سے بَرکات حاصل ہوتی ہیں ، ان کے وسیلہ سے دعا کرنا قبولیّت کا ذریعہ ہے ۔ ان کی سیرتوں سے رہنمائی حاصل کرکے گمراہی سے بچ کر صراطِ مستقیم پر استقامت کے ساتھ چلا جاسکتا ہے ، ان کی پیروی کرنے میں نجات ہے ۔  (  [7])

سوال      مزارات ِاولیاءِ کرام پر حاضری  دینا اورانہیں پکارنا کیسا ہے ؟

جواب     اولیاءِ کرام کے مزارات پر حاضری مسلمان کے لیے سعادت وباعثِ برکت ہے ۔  (  [8]) اور  اِن کو دُور و نزدیک سے پکارنا سلفِ صالح کا طریقہ ہے ۔  (  [9])

سوال      خود کو شرعی احکامات سے آزادجاننے والوں کے متعلق  حضرت جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے کیافرمایا ہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُ الطائفہ جنید بغدادی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے عرض کی گئی :  کچھ لوگ زُعْم  (  گمان) کرتے ہیں کہ اَحکامِ شريعت تووُ صول (  خداتعالیٰ تک پہنچنے ) کا وسیلہ تھے اور ہم وَاصِل ہوگئے (  پہنچ گئے ) اب ہمیں شریعت کی کیا حاجت؟ (   آپ نے ) فرمایا :  سچ کہتے ہیں وَاصِل ضرور ہوئے ، کہاں تک ؟ جہنّم تک ، چوراور زانی ایسے عقیدے والوں سے بہتر ہیں ، میں اگر ہزار برس جیوں تو فرائض وواجبات تو بڑی چیز ہیں جو نوافل ومستحبات مقرر کرلئے ہیں بے عُذرِ شرعی ان میں سے کچھ کم نہ کروں ۔  (  [10])

سوال      شریعت ، طریقت ، حقیقت اور مَعرفت میں  کیا فرق ہے ؟

جواب     اعلیٰ حضرت ، امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفرماتے ہیں :  شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت میں باہم اصلاً کوئی اختلاف نہیں ، اس کا مُدَّعِی (  یعنی اِن چاروں کو الگ الگ سمجھنے کا دعویدار) اگر بے سمجھے کہے تو نِرا جاہل ہے اور سمجھ کر کہے تو گمراہ ، بددین ۔ شریعت حضور اَقدس سید عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اقوال ہیں اور طریقت حضور کے اَفعال ، اور حقیقت حضور کے اَحوال  اور معرفت حضور کے علومِ بے مثال ۔  (  [11])

شرعی اِصْطِلَاحات

سوال      فرضِ اعتقادی کسے کہتے ہیں؟

جواب   فرضِ اعتقادی :  وہ ہے جو ایسی دلیل سے ثابت ہوجس میں کوئی شبہہ نہ ہو اس کا انکار کرنے والا ائمۂ حنفیہ کے نزدیک مطلقاً کافر ہے اور اگروہ ایسا مسئلہ ہو جس کی فرضیت دین ِ



[1]     پ۱۶ ، مریم : ۲۵ ۔

[2]     پ۱۵ ، الکھف : ۱۱ ۔

[3]     پ۱۹ ، النمل : ۴۰ ۔

[4]     تفسیر کبیر ، پ۳۰ ، القدر ، تحت الآیة : ۱ ، ۱۱ /  ۲۲۹ ۔

[5]     بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت ، ص۸۳ ۔

[6]     بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت ، ص۸۴ ۔

[7]     بنیادی عقائد اور معمولات اہلسنت ، ص۸۵ ۔

[8]     فتاوی رضویہ ، ۲۹ /  ۲۸۲ ۔

[9]     بہار شریعت ، حصہ اول ، ۱ /  ۲۷۵ ۔

[10]     الیواقیت والجواھر ، المبحث السادس والعشرون ، ص۲۰۶ ۔

[11]     فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ /  ۴۶۰ ۔



Total Pages: 122

Go To