Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

کر چھوڑ دیں گے ، جاہلوں کے سے افعال کریں گے یا لوگوں کو گمراہ کریں گے یا علما کو بدنام کریں گے ۔  (  [1])

سوال      طَلَبِ دنیا کے لیے علم حاصل کرنے کی کیا وعید ہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا ابو ہُریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضور نبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جس نے رضائے الٰہی کا ذریعہ بننے والا علم دنیا حاصل کرنے کے لئے سیکھا وہ قیامت کے دن جنّت  کی خوشبو تک نہ پائے گا ۔  (  [2])

سوال      علمائے کرام سے مقابلے یا جاہلوں سے جھگڑے کے لیے علم سیکھنا کیسا؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مَروی ہے کہ حضور تاجدارِ دوجہان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : جو اس لیے علم طلب کرے تاکہ علماء کا مقابلہ کرے یا جاہلوں سے جھگڑے یا لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرے تو اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ دوزخ میں داخل کرے گا ۔  (  [3])

بَیْعَت وطَرِیقت

سوال      تَصَوُّرِ شیخ سے متعلّق کوئی حدیث بتائیے ؟

جواب     ترمذی شریف میں حضرت حسن بن علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی روایت موجود ہے کہ انہوں نے اپنے ماموں ہند بن اَبو ہالہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حلیہ مبارکہ پوچھاتاکہ وہ اپنے ذہن میں محفوظ کر سکیں ۔  (  [4])

سوال      پیر اُمورِ آخرت کے لیے بنایا جاتا ہے یا دنیاوی مشکلات حل کروانے کے لیے ؟

جواب     پیر ہر گز دنیاوی مشکلات حل کروانے کے لیے نہیں بنایا جاتا بلکہ حقیقت میں پیر امورِ آخرت کے لیے بنایا جاتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ضمناً ان سے دُنیوی بَرَکتیں ، مثلاً بیمار کو شفاء یا مشکلوں کا حل ہونا بھی ظاہر ہوتا رہتا ہے ۔  (  [5])

سوال      راہِ طَرِیقت میں بارگاہِ الٰہی سے دُھتکارے جانے کی کیا علامت ہے ؟

جواب     حضرت شیخ عبدالرحمٰن جیلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فرماتے ہیں کہ جو مرید اپنے نفس کو اپنے مُرشِد اور اپنے پیر بھائیوں کی محبت سے رُوگردانی کرنے والا پائے تو اسے جانناچاہئے کہ اب اس کو اللہ تعالی کے دروازے سے دُھتکارا جارہا ہے ۔  (  [6])

سوال      تارکِ سنّت پیرکے متعلق شیخ احمد زَرُّوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کیا فرمایا ؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جو پیر سنّت کو نہ اپنا سکااُس کا اِتّباع دُرُست نہیں ، خواہ وہ  (  بظاہر) ہزار کرامتیں دکھائے (  وہ سب اِستِدراج یعنی دھوکا ہے ) ۔  (  [7])

سوال      عَارِف بِاللہ سیِّد عَبْدُالْوَاحِد بَلگرامیقُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیسَبْعَ  سَنَابِل میں  بزرگوں کے ذکر کے حوالے سے کیا فرماتے ہیں ؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ’’مشائخِ  کرام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی  کا ذکر سچے مریدوں کے ایمان کو تازہ کرتا ہے اور ان کے واقعات مُرِیْدِین کے ایمان پر تجلیاں ڈالتے ہیں  ۔  (  [8])

سوال      پیرومُرشِد سے محبّت کرنے کا کیا فائدہ ہے ؟

جواب     حضرت عَبْدُالعزِیزدَبّاغ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الرَّزَّاقفرماتے ہیں : مُرِید پِیر کی محبّت سے کامل نہیں ہوتا کیونکہ مُرشِد تو سب مریدوں پر یَکساں شفقت فرماتے ہیں ، یہ مُرِید کی مُرشِد سے محبّت ہوتی ہے جو اسے کامِل کے درجے پر پہنچا دیتی ہے ۔  (  [9])

سوال      مُرید کے رازوں سے پِیرکی واقفیت کے متعلق حضرت سیِّد علی بن وفا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کیا فرمایا؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : جس مُرِید نے یہ گمان کیا کہ اس کا شیخ اس کے رازوں سے واقِف نہیں ہے تو وہ مرید اپنے شیخ سے بہت دور ہے اگرچہ دن رات مُرشِد کے ساتھ بیٹھاہو ۔  (  [10])

سوال      بوقتِ نزع امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِیکے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا؟

جواب   اُس وقت شیطان نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے  خدا تعالیٰ کے ایک ہونے پر دلیل طلب کی ، آپ نے 360دلیلیں قائم کیں  مگر شیطان نے ایک ایک کرکے سب توڑدیں ، آپ کے پیر حضرت نجمُ الدِّین کُبریٰ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہیں دور دراز مقام پر وُضو فرما رہے تھے وہیں سے انہوں نے آواز دی : کہہ کیوں نہیں دیتا کہ” میں نے خدا کو بے دلیل



[1]     بہار شریعت ، حصہ۱۶ ، ۳ /  ۶۲۸ ۔

[2]     ابو داود ، کتاب العلم ، باب فی طلب العلم لغیر اللہ ، ۳ /  ۴۵۱ ، حدیث : ۳۶۶۴ ۔

[3]     ترمذی ، کتاب العلم ، باب ماجاء فی من یطلب بعلمہ الدنیا ، ۴ /  ۲۹۷ ، حدیث : ۲۶۶۳ ۔

[4]     ترمذی ، الشمائل ، باب ماجاء فی خلق رسول اللہ ، ۵ /  ۵۰۳ ، حدیث : ۸ ۔

[5]     آداب مرشد کامل ، ص۱۷۷ماخوذ ا ۔

[6]     الأنوار القدسیة فی معرفة قواعد الصوفیة ، ص۲۶ ، الجزء الثانی ۔

[7]     حقائق عن التصوف ، الباب الخامس ، التحذیر من الفصل...الخ ، ص۲۴۲ ۔

[8]     آداب مرشد کامل ، ص۱۴۰ ۔

[9]     الابریز ، الباب الخامس فی ذکر التشایخ والارادة ، محبة المرید ھی  الجاذبة ، ۲ / ۷۷ ۔