Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     حضرت سَیِّدُنا عبدُ اللہ  بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ حضور نبیٔ کریم ، رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  جسے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ گئی وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے اورحضرات انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے درمیان صرف درجۂ نَبوَّت کا فرق ہو گا[1]) ۔  (  [2])

سوال      کیا سائنسی اور جُغْرافیائی عُلوم کا حُصُول بھی ثواب کا باعث بن سکتا ہے ؟

جواب     جی ہاں !  علمِ جغرافیہ اور سائنس حاصل کرنا بھی ثواب ہے جبکہ اچھی نیت ہو جیسے اسلام اور مسلمانوں کی خدمت یا اللہ تعالیٰ کی عظمت کا علم حاصل کرنے کے لیے ، لیکن یہ شرط ہے کہ اسلامی عقائد کے خلاف نہ ہو ۔  (  [3])

سوال      حدیثِ مبارکہ میں علم اُٹھ جانے کی کیفیت کیا بیان فرمائی گئی ہے ؟

جواب     حضور نبیٔ غیب دان ، رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ علم کو اس طرح نہیں قبض کرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے جدا کرلے ، بلکہ علم کا قبض کرنا علما کے قبض کرنے سے ہوگا ، جب عالم باقی نہ رہیں گے جاہلوں کو لوگ سردار بنالیں گے ، وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے ، خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے ۔  (  [4])

سوال      حدیثِ مبارکہ میں کس چیز کو علم کی آفت قراردیا گیا ہے ؟

جواب     حضور معلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  علم کی آفت نسیان  (  یعنی بھول جانا) ہے اور نااہل سے علم کی بات کہنا علم کو ضائع کرنا ہے ۔  (  [5])

سوال      کس طرح کے شخص  کی صحبت اختیار کرنی چاہئے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا سُفیان بن عُیَیْنَہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ رُوْحُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ارشادہے : ایسے لوگوں کی صحبت اختیار کرو جن کی صورت دیکھ کر تمہیں خُدا یاد آئے ، جن کی گفتگو تمہارے علم میں اضافہ کرے اور جن کا عمل تمہیں آخرت کا شوق دلائے ۔  (  [6])

سوال      سَیِّدُناحکیم لقمانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے بیٹے کو علما کے متعلق کیا نصیحت فرمائی؟

جواب     منقول ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اپنے بیٹے کو جو وصیتیں فرمائیں ان میں   ایک یہ بھی تھی کہ بیٹا !  علما کی صحبت میں   بیٹھا کرو ، اپنے زانو ان کے زانوسے ملادو کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نورِحکمت سے دلوں کو ایسے زندہ کرتا ہے جیسے زمین کو مسلسل بارِش سے ۔  (  [7])

سوال      رَاسِخْ فِی الْعِلْم (  علم میں پختگی رکھنے والے ) سے کون لوگ مراد ہیں؟

جواب     رَاسِخْ فِی الْعِلْموہ عالم ہے جس کا علم اُس کے دل میں اتر گیا ہو جیسے مضبوط درخت وہ ہے جس کی جڑیں زمین میں جگہ پکڑ چکی ہوں ، اس سے مراد خوش عقیدہ اور با عمل علماء ہیں ۔  (  [8])

سوال      عالِم دِین کا دو رکعت پڑھنا کیا فضیلت رکھتا ہے ؟

جواب     حضرت سَیِّدُنا محمد بن علی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے مروی  ہے کہ عالِم کی دو رکعت غیرِ عالِم کی 70 رکعتوں سے افضل ہیں ۔  (  [9])

سوال      عالمِ باعمل کاثواب اور بے عمل عالم کا عذاب دوسروں سے زیادہ کیوں ہے ؟

جواب     عالمِ باعمل کا ثواب دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ با عمل عالم خود بھی نیک ہے اور وہ دوسروں کو بھی نیک بنا دیتا ہے ۔ بے دِین یا بے عمل عالِم کا عذاب بھی دوسروں سے زیادہ ہے کیونکہ وہ گمراہ بھی ہے اور گمراہ کُن بھی او ر اُس کی بد عملی دوسروں کو بھی بد عمل بنا دے گی ۔  (  [10])

سوال      نااہلوں کو علم سکھانا کیسا ہے اور نااہل کسے کہتے ہیں؟

جواب   نااہلوں کو پڑھانا علم کو ضائع کرنا ہے اور اہل کو نہ پڑھانا ظلم وجورہے ۔  (  [11]) نااہل سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی نسبت معلوم ہے کہ علم کے حُقُوق کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے ، پڑھ



[1]     یعنی مرتبۂ نبوت اور اس سے جو کمالات متعلق ہیں ان کے علاوہ ہر مرتبہ اور کمال اُسے حاصل ہوگا ۔  (   خطبات محرم ، ص۲۴ ، ماخوذاً)

[2]     معجم اوسط ، ۶ /  ۴۷۵ ، حدیث : ۹۴۵۴ ۔

[3]     تفسیر صراط الجنان ، پ۴ ، اٰل عمران ، تحت الآیۃ : ۱۹۰ ، ۲ /  ۱۲۰ ۔

[4]     بخاری ، کتاب العلم ، باب کیف یقبض العلم ، ۱ /  ۵۴ ، حدیث : ۱۰۰ ۔

[5]     دارمی ، المقدمة ، باب مذاکرة العلم ، ۱ /  ۱۵۸ ، حدیث : ۶۲۴ ۔

[6]     جامع بیان العلم وفضلہ ، جامع فی آداب العالم والمتعلم ، ص۱۷۲ ، رقم : ۵۶۷ ۔

[7]     موطا لامام مالک ، کتاب العلم ، باب ماجاء فی طلب العلم ، ۲ /  ۴۷۸ ، حدیث : ۱۹۴۰ ۔

[8]     تفسیر صراط الجنان ، پ۶ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۶۲ ، ۲ /  ۳۵۷ ۔

[9]     جامع صغیر ، ص۲۷۴ ، حدیث : ۴۴۷۶ ۔

[10]     تفسیر صراط الجنان ، پ۶ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۱۶۲ ، ۲ /  ۳۵۷ ، ماخوذ اً ۔

[11]     فتاوی ھندیة ،

Total Pages: 122

Go To