Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

ارشادفرمایا  :  اللہتعالیٰ نے تیرے دل سے رحمت نکال لی ہے تو میں کیا کروں ۔  (  [1])

سوال      خاص بیٹی کے حقوق میں سے کچھ حقوق بیان کیجئے ؟

جواب     مجددِ اعظم امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں  :  (  1) اس کے پیدا ہونے پر نا خوشی نہ کرے بلکہ نعمتِ الٰہیہ جانے  ۔  (  2) اسے سِیْنَا پِرونا کاتْنا  (  سِلائی ، کَڑھائی) کھانا پکانا سکھائے ۔  (  3) ”سورۂ نو ر“کی تعلیم دے ۔  (  4) بیٹیوں سے زیادہ دلجوئی وخاطر داری رکھے کہ ان کا دل بہت تھوڑا  (  چھوٹا) ہوتا ہے ۔  (  5) دینے میں انہیں اور بیٹوں کو کانٹے کی تول برابر رکھے (  یعنی دونوں کو دیتے وقت مکمل عدل وانصاف کرے ) ۔  (  6) جو چیز دے پہلے انہیں دے کر بیٹوں کو دے ۔  (  [2])

سوال      بیٹیوں پر شفقتِ نَبَوی کیسی تھی ؟

جواب     حضرت سيِّدتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا  جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوتيں تو آپ کھڑے ہو جاتے ، ان کی طرف متوجّہ ہو جاتے ، پھر ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے ليتے ، اسے بوسہ ديتے پھر ان کو اپنے بیٹھنے کی جگہ پر بٹھاتے ۔  اسی طرح جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت سيِّدتُنا فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ہاں تشريف لے جاتے تو وہ آپ کو ديکھ کر کھڑی ہو جاتيں ، آپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیتیں پھراس کو چُومتیں اورآپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتيں ۔  (  [3])

سوال      بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے پر کیا خوشخبری دی گئی ہے ؟

جواب     حضورتاجدارِ ختمِ نبوّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا : جسے خداتعالیٰ نے لڑکیاں دی ہوں ، اگر وہ ان کے ساتھ اِحسان کرے تو وہ جہنّم کی آگ سے اس کے لیے روک ہوجائیں گی ۔  (  [4])

پڑوسیوں اور عام مسلمانوں کے حُقُوق

سوال      حدیثِ پاک میں پڑوسی  کسے فرمایا گیا ہے ؟

جواب     حضور نبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا  :  مسجد کے دروازے پر جاکر یہ اِعلان کیا جائے کہ’’سن لو40گھر پڑوس میں داخل  ہیں ۔  (  [5])  (  حدیث شریف کے راوی) حضرت سیِّدُنا امام زُہری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِی فرماتے ہیں : 40 گھر دائیں ، 40بائیں ، 40آگے اور40 گھر پیچھے ، اس طرح آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے چاروں جانب اشارہ فرمایا ۔  (  [6])

سوال      سرورِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے پڑوسی کے حقوق کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا؟

جواب     مُعلّمِ کائنات ، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے ؟ یہ کہ جب وہ تم سے مدد مانگے مدد کرو اور جب قرض مانگے قرض دو اور جب محتاج ہو تو اسے دو اور جب بیمار ہو عِیادَت کرو اور جب اسے بھلائی پہنچے تو مبارک باد دو اور جب مصیبت پہنچے تو تَعزِیَت کرو اور مرجائے تو جنازہ کے ساتھ جاؤ اوراس کی اجازت کے بغیر اپنی عمارت بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا روک دو اور اپنی ہانڈی کی خوشبوسے  اس کو ایذا نہ دومگر اس میں سے کچھ اسے بھی دو اور پھل  خریدو تو اس کے پاس بھی ہدیہ کرو اور اگر ہدیہ نہ کرنا ہو تو چھپا کر مکان میں لاؤ اورتمہارے بچے پھل لے کر باہر نہ نکلیں کہ پڑوسی کے بچوں کو رَنج ہوگا ۔  تمہیں معلوم ہے کہ پڑوسی کا کیا حق ہے ؟ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مکمل طور پر پڑوسی کا حق ادا کرنے والے تھوڑے ہیں ، وہی ہیں جن پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی مہربانی ہے ۔  (  [7])

سوال      پڑوسیوں کو تکلیف دینے پر حدیثِ پاک میں کیا وعید آئی ہے ؟

جواب     حضور سرورِ کونین ، شہنشاہِ دَارَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :  خدا کی قسم !  وہ مومن نہیں !  خدا کی قسم وہ مومن نہیں !  خدا کی قسم وہ مومن نہیں !  عرض کی گئی :  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کون؟ ارشادفرمایا : وہ شخص جس کی ایذا رَسانی سے اُس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو ۔  (  [8])

سوال      آدمی کے نیک یا بُراہونے کا پتہ کن لوگوں سے چلتا ہے ؟

جواب     اس آدمی کے پڑوسیوں سے ۔ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی :  یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کرکے میں جنّت میں داخل ہوجاؤں ۔ حضور نبیٔ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  نیک بن جاؤ ۔ عرض کی :  مجھے اپنے نیک ہونے کا کیسے پتہ چلے گا؟ ارشاد فرمایا :  اپنے پڑوسیوں سے پوچھو اگر وہ تمہیں نيک کہيں توتم نيک ہو اور اگر وہ بُرا کہيں تو تم بُرے ہو ۔  (  [9])

 



[1]     بخاری ، کتاب الادب ، باب رحمة الولد وتقبیلہ ومعانقتہ ، ۴ /  ۱۰۰ ، حدیث : ۵۹۹۸ ۔

[2]     اولاد کے حقوق ، ص۲۷ماخوذا ۔

[3]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی القیام ، ۴ /  ۴۵۴ ، حدیث : ۵۲۱۷ ۔

[4]     مسلم ، کتاب البر والصلة ، باب فضل الاحسان الی البنات ، ص۱۰۸۴ ، حدیث : ۶۶۹۳ ۔

[5]     معجم کبیر ، ۱۹ /  ۷۳ ، حدیث : ۱۴۳ ۔

[6]     احیاء علوم الدين ، کتاب آداب الالفة ۔ ۔ ۔ الخ ، الباب الثالث فی حق المسلم...الخ ، ۲ /  ۲۶۶ ۔

[7]     شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ، ۷ /  ۸۳ ، حدیث : ۹۵۶۰ ۔

[8]     بخاری ، کتاب الادب ، باب اثم من لایامن جارہ بوائقہ ، ۴ /  ۱۰۴ ، حدیث : ۶۰۱۶ ۔

[9]     شعب الایمان ، باب فی اکرام الجار ،

Total Pages: 122

Go To