Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 02

جواب     اس لئے کہ اس میں قرآنِ پاک نازل ہوا اور ہمیشہ اس شب میں خیر و برکت نازل ہوتی ہے اور دعائیں (  خصوصیّت کے ساتھ) قبول کی جاتی ہیں ۔  (  [1])

سوال      فرشتے شبِ قدرمیں  کن مسلمانوں کو سلام کرتے ہیں؟

جواب     ہر اُس مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں جو اس رات عبادت میں مشغول ہو ۔  (  [2])

دِیْنِ اِسْلَام

سوال      دِین ِ حق کی پہچان بیان کیجئے ؟

جواب     سچے دِین کی پہچان یہ ہے کہ وہ سلف صالحین کا دین ہو ، یہ حضرات ہدایت کی دلیل ہیں ، اللہ تعالیٰ نے حقانیت اسلام کی دلیل یہ دی کہ وہ ملتِ ابراہیمی ہے ۔  (  [3])

سوال      دِینِ اسلام پر ثابت قدمی کے چند اسباب بتائیے ؟

جواب     (  1) علمِ دِین حاصل کرنا  (  2) کثرت سے مسجد میں حاضر ہونا  (  3) زبان کی حفاظت کرنا  (  4) کفر اور گناہوں سے بچنا  (  5) کافروں ، بد مذہبوں اور فاسق وفاجر لوگوں سے تعلقات نہ رکھنا  (  6) نفسانی خواہشات کی پیروی سے بچنا  (  7) مصائِب وآلام اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر صبر کرنا  (  8) اللہتعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا  (  9) لمبی امیدیں نہ رکھنا اور (  10) دنیا میں زہد و قناعت اختیار کرنا وغیرہ ۔  (  [4])

سوال      دِینِ اسلام کے عادِلانہ نظام کی کوئی مثال بیان فرمائیے ؟

جواب     ایک مرتبہ امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عَلِیُّ الْمُرْتَضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکی زِرَہ (  جنگ میں پہنی جانے والی لوہے کی جالی دارقمیص) گم ہو گئی ، بعد میں وہ ایک یہودی کے پاس  ملی  ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ زِرہ میری ہے ، یہودی نے انکار کیا ، معاملہ حضرت قاضی شریح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عدالت میں پہنچا ۔ انہوں نے فریقین کا مؤقّف سننے کے بعد امير المؤمنین سے دلیل طلب فرمائی ۔  آپ نے فرمایا :  میرا غلام قنبر اوربیٹا حسن دونوں اس بات کے گواہ ہیں ۔ قاضی صاحب نے کہا :  بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں درست نہیں ۔  یہ سن کر یہودی کہنے لگا :  اے  امیر المومنین !  آپ ہی مجھے عدالت لائے اور قاضی صاحب نے آپ ہی کے خلاف فیصلہ کردیا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہی مذہب حق ہے اور یہ زِرہ آپ ہی کی ہے اور وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگیا ۔  حضرت عَلِیُّ الْمُرْتَضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے خوش ہوکروہ زِرہ اورایک گھوڑا اُسے تحفے میں دے دیا ۔  (  [5])

سوال      دِین اسلام نے بیٹیوں اور بہنوں کے کیا حقوق بیان کیے ہیں؟

جواب     حضور نبیِ رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص کی بیٹی ہو تو وہ اسے زندہ درگور نہ کرے ، اُسے ذلیل نہ سمجھے اور اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح نہ دے تو اللہتعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔  (  [6])  اورایک حدیث پاک میں ہے :  جس کی تین بیٹیا ں یا تین بہنیں ہوں  یا دو بیٹیاں یا دو بہنیں ہوں اور وہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے معاملے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرے تو اس کے لئے جنت ہے ۔  (  [7])

سوال      اسلام میں صفائی ستھرائی کو کیا اہمیّت حاصل ہے ؟

جواب     دِینِ اسلام نے جہاں انسان کو کفر و شرک کی نجاستوں سے پاک کر کے عزت ورفعت عطا کی وہیں ظاہری طہارت ، صفائی ستھرائی اور پاکیزگی کی اعلیٰ تعلیمات کے ذریعے انسانیّت کا وقار بلند کیا ، بدن کی پاکیزگی ہو یا لباس کی ستھرائی ، ظاہری  ہیئت کی عمدگی ہو یا طور طریقے کی اچھائی ، مکان اور سازو سامان کی بہتری ہو یا سواری کی دھلائی الغرض ہر ہر چیز کو صاف ستھرا اور جاذِبِ نظر رکھنے کی دِینِ اسلام میں تعلیم اور ترغیب دی گئی ہے ۔  (  [8]) حضورتاجدارِ دو جہان ، رحمتِ عالَمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :  جو لباس تم پہنتے ہو اسے صاف ستھرا رکھو اور اپنی سواریوں کی دیکھ بھال کیا کرو اور تمہاری ظاہری ہیئت ایسی صاف ستھری ہو کہ جب لوگوں میں جاؤ تو وہ تمہاری عزت کریں ۔  (  [9])

سوال      تَعَصُّب کے متعلق دینِ اسلام  کا کیا نظریہ ہے ؟

جواب   اسلام میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں کہ آدمی اپنی قوم یا خاندان کی ہر معاملے میں تائید کرے اگرچہ وہ باطل پر ہوں بلکہ حق کی اِتّباع کرنا ضروری ہے ۔  اس میں رنگ ونسل ، قوم وعلاقہ ، ملک و صوبہ ، زبان وثَقافَت کے ہر قسم کے تعصب کا رد ہے ۔  کثیر احادیث میں بھی تعصب کا شدید رد کیا گیا ہے ، چنانچہ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ”جو بلا وجہ جنگ کرے یا تعصب کی جانب بلائے یا تعصب کی وجہ سے غصہ کرے تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا



[1]     تفسیر صراط الجنان ، پ۲۵ ، الدخان ، تحت الآیۃ : ۳ ، ۹ /  ۱۷۸ ۔

[2]     تفسیر خازن ، پ۳۰ ، القدر ، تحت الایة : ۴ ، ۴ /  ۳۹۷ ۔

[3]     تفسیر صراط الجنان ، پ۱ ، البقرۃ ، تحت الایۃ : ۱۳۰ ، ۱ /  ۲۱۱ ۔

[4]     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۲ ، ھود ، تحت الایۃ : ۱۱۲ ، ۴ /  ۵۰۵ ۔

[5]     الکامل فی التاریخ ، سنة اربعین ، ذکر بعض سیرتہ ، ۳ /  ۲۶۵ ماخوذا ۔

حلیة الاولیاء ، شریح بن الحارث الکندی ، ۴ /  ۱۵۱ ، رقم : ۵۰۸۵ ماخوذا ۔

[6]     ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی فضل من عال یتیماً ، ۴ /  ۴۳۵ ، حدیث : ۵۱۴۶ ۔

[7]     ترمذی ، کتاب البر والصلة ، باب ماجاء فی النفقةعلی البنات والاخوات ، ۳ /  ۳۶۷ ، حدیث : ۱۹۲۳ ۔

[8]     تفسیر صراط الجنان ، پ۱۱ ، التوبۃ ، تحت الایۃ : ۱۰۸ ، ۴ /  ۲۴۰ ۔

[9]     مستدرک حاکم ، کتاب اللباس ، باب حدیث مناظرة ابن عباس مع الحروریة ، ۵ / ۲۵۸ ، حدیث۷۴۴۹ ۔



Total Pages: 122

Go To